اب حسنین بھائی بھی ٹیم سمیت غائب کیا گیا ہے!
حسنین رفیق کے لیے بھی آواز اٹھائیں 🚨
آپ لوگو کے آواز اٹھانے سے فرق پڑتا ہے, اسلئے ہر مظلوم کی آواز بن جائے پلیز!!
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
میں نے سورسز سے خبر دی تھی کہ مختلف وردیاں پہنا کر جوانوں کو عوام کُشی کیلیے بھیجا جائے گا آج یہ بات ظاہر ہوگئی ہے KPK پولیس کی وردی میں ملبوس پنجابی بول رہے ہیں
اب اگر گولیاں چلانے تک بھی آ گئے ہو تو پھر یاد رکھو کہ ہم نے بھی تہیہ کر لیا ہے کہ "اب یا تو آزادی لیں گے یا پھر شہادت"-
عمران خان نے ہمیں یہ بات سکھائی ہوئی ہے کہ "ہارتا وہ ہے جو ہار مان لیتا ہے"ـ
ہم نے بھی ہار نہیں ماننی اور ہم تمہارے غنڈہ راج کے خلاف لڑتے رہیں گے
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
مراد سعید کا خیبرپختونخوا پولیس کے نام پیغام!!
”افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔“
ابھی صدیق جان صاحب کا وی لاگ سن رہا تھا وہ بتا رہے تھے حسنین رفیق کو بھی اغوا کیا گیا ہے وہ کہاں ہیں کسی کو معلوم نہیں
حسنین رفیق کا گناہ ویڈیوز بنا کر عوام کو رپورٹ کرنا ہے اسی چیز کی سزا دی جا رہی ہے
اس پولیس کو عمران خان نے اختیارات دیے اور غیرسیاسی کیا لیکن اسی پولیس نے بدلے میں اپنی ہی عوام کے ساتھ یہ ظلم جبر کیا۔ پاکستان تحریک انصاف اور پختون قوم اپنے لوگوں کا یہ بہتا خون کبھی نہیں بھولے گی۔
ذرا سوچیے؛💔
"اگر صوبے کا وزیرِ اعلیٰ، اسپیکر اور کابینہ کے ارکان تین دن سے لاپتہ ہوں اور کوئی عدالت نوٹس تک نہ لے، تو سوچیں عام بلوچ، پشتون اور کشمیری کا کیا حال ہوگا؟
خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔
🚨🚨🚨 خالد خورشید کو گرفتار کیا ہوا ہے ان کی زندگی شدید خطرے میں ہے ان کے لیے اواز اٹھائے
یہ بھی اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر گوہر اور اسد قیصر کی طرح ناچ سکتا تھا مگر خان کے نظریے پر ڈٹ گیا
خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سپیکر بابر سلیم سواتی کو اغواء ہوئے 3 دن ہو چکے ہیں،اور کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ وہ کدھر ہیں اور کس حال میں ہیں،اگر 5 کروڑ کے منتخب وزیر اعلیٰ اور سپیکر کے ساتھ یہ ہو رہا ہے،تو۔۔
1۔پاکستان میں اور کوئی کیسے محفوظ ہو سکتا ہے؟
2۔ان حالات میں پاکستان میں کون انویسٹمنٹ کرے گا؟؟