جیسے فہض احمد فیض نے اپنے اسیری کے ایام۔میں قلم کو اظہار کا بہترین ذریعہ بنایا تھا ویسے ہی یاسمین راشد صاحبہ نے سوئ دھاگے کو اپنے اظہار کا کمال ذریعہ بنایا۔
یاسمین راشد صاحبہ سا ظرف اور برداشت سب میں کہاں
Ali Bilal unarmed & our dedicated & passionate PTI worker murdered by Punjab police. Shameful, this brutality on unarmed PTI workers who were coming to attend election rally. Pakistan is in the grip of murderous criminals. We will file cases against IG, CCPO & others for murder.
محسن نقوی صاحب موجودہ رجیم نے آتے ہی سب سے پہلے رکن اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی اجازت لازمی قرار دی تھی. امید ہے کہ آپ کابینہ میں بیٹھ کر بھی یہ سوال کریں کہ یہ قانون کیوں بنایا گیا؟
@MohsinnaqviC42
محترم وفاقی وزیر داخلہ
تو آپ کو یہ معلوم ہوتا کہ ممبران اسمبلی کو دیے گئے تحفظات کوئی نئی ایجاد نہیں، ہمیشہ سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ رہے ہیں۔اگر آپ کسی منتخب اور عوام کے نمائندہ پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے
پارلیمانی استحقاق، بشمول صوبائی اسمبلی کے ممبر کو کسی فوجداری الزام پر گرفتار کرنے سے پہلے اسپیکر کی پیشگی اجازت، خیبر پختونخوا کی کوئی نئی ایجاد نہیں۔ یہ استحقاق مقننہ کی آزادی کے تحفظ، ایگزیکٹو کو پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دھمکانے یا خاموش کرنے سے روکنے، اور اسمبلی کو بغیر خوف و خطر کام کرنے کے لیے ہیں۔
یہ تحفظات طویل عرصے سے چلی آ رہی پارلیمانی روایات اور پہلے صوبائی قوانین پر مبنی ہیں۔ یہ کسی ایم پی اے کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے۔ الزام زدہ ممبر تحقیقات، مقدمہ اور عدالتی عمل سے مشروط رہتا ہے۔ اسپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی گرفتاری سیاسی انتقام یا ایوان میں خلل ڈالنے کی نیت سے نہ ہو۔
جب آپ رات کی تاریکی میں استثنیٰ (immunity) کا قانون پاس کروا لیں تو وہ آپ کے نزدیک بالکل درست ہے۔ جب آپ پارلیمنٹیرینز کو اغوا کریں، رشوت دیں اور فلور کراسنگ کروا کر صرف اپنے لیے قانون پاس کروا لیں تو وہ قانون بن جاتا ہے۔
لیکن جب تمام حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اتفاقِ رائے سے خیبر پختونخوا اسمبلی میں قانون پاس کریں تو وہ قانون نہیں رہتا؟ ہاں نا کمال ہے؟ ذرا سوچیں کہ آپ کیا موازنہ کر رہے ہیں اور کیا ٹویٹ کر رہے ہیں۔
آج ہم جمہوریت پر اس سے کہیں زیادہ سنگین حملہ دیکھ رہے ہیں: بغیر وارنٹ، چہرے ڈھکے ہوئے افراد منتخب ایم این ایز، ایم پی ایز اور پی ٹی آئی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر اغوا کر رہے ہیں تاکہ پرامن احتجاج روکا جا سکے۔ کیا یہ جمہوریت ہے؟ جب 24 نومبر، 9 مئی اور 25 مئی کو گولیاں چلائیں گئیں اور قتل عام ہوئے تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ جمہوریت نہیں بلکہ چند افراد کی چلائی ہوئی ریاست ہے، جہاں آئین محض کاغذ بن کر رہ گیا ہے۔
آپ دنیا کو پاکستان کے بارے میں کیا پیغام دے رہے ہیں؟ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ امید دم توڑ رہی ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں۔ دریں اثنا اقتدار والے ہر قسم کے استحقاق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم یہاں رہیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آپ جیسے لوگ حقیقی جمہوریت آنے پر اس ملک سے چلے جاتے ہیں۔ اب پاکستان کے لوگ ایک بار اور ہمیشہ کے لیے فیصلہ کریں گے کہ جمہوریت کیا ہے: عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے۔
آپ جن استحقاقات پر تنقید کر رہے ہیں، وہی آپ اور آپ کے ساتھی بھی مزے لے رہے ہیں۔ آپ میں سے کچھ نے پارلیمنٹ کے ذریعے خود کو استثنیٰ دلا رکھا ہے تاکہ کوئی ان سے سوال نہ کر سکے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا قانون ریاستِ مدینہ میں قابلِ قبول ہے؟ اگر یہ واقعی اسلامی ریاست ہے اور اس کا آئین اسلامی قانون کے تحت بنا ہے تو اسلامی تاریخ سے صرف ایک مثال بتائیں جہاں کسی فرد کو قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہو۔ بس ایک مثال دے دیں۔
آپ اور آپ والے اکثر سوچتے ہیں کہ آپ کے الفاظ ہی قانون ہیں۔ نہیں میرے عزیز! صرف وہی قانون غالب آئے گا جو اسلامی شریعت کے مطابق ہو۔
چند روز قبل خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کو ریکارڈ قانون سازی پر ایک بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا — ایسی قانون سازی جو عوام کی حقیقی نمائندگی اور جمہوریت کا عکس ہے۔ اس اسمبلی کے قیام کے بعد کسی پچھلی اسمبلی نے اس قسم کی ترقی پسند قانون سازی نہیں کی۔ یہ اعزاز نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے۔ اس بڑی کامیابی اور پاکستان کے عالمی سطح پر اچھے نام کی تعریف کرنے اور خوشی منانے کے بجائے آپ نے میرا پاسپورٹ بلاک کر دیا اور کئی ایم این ایز و ایم پی ایز کو اس کانفرنس میں شرکت سے روک دیا۔ وہ کانفرنس 56 ممالک، 186 اسمبلیوں اور تقریباً 80 ہزار پارلیمنٹیرینز کی نمائندگی کرتی تھی۔ مگر آپ کی واحد ترجیح یہ ہے کہ اپنے غیر قانونی فارم 47 کی نام نہاد حکومت کو انسانی حقوق اور اخلاقیات کو پامال کر کے کیسے طول دیا جائے۔
میں نے پاکستان کی ہر اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے منظور شدہ قانون کے مطابق آئی جی پی اور اضافی چیف سیکرٹری (ہوم) کو خط لکھا کہ کسی بھی گرفتاری سے پہلے میرے دفتر کو مطلع کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے یا خوف و ہراس سے بچا جا سکے۔ یہ میرا آئینی فرض ہے۔ ایوان کے محافظ ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے لوگ مجھ سے توقع رکھتے ہیں کہ میں ان کے منتخب نمائندوں کے حقوق کا تحفظ کروں۔
سر یہ پیمانہ سندھ اور پنجاب میں بھی ہے؟
شائد کوئی رکن قومی اسمبلی ایک صحافی کے قتل میں بھی ملوث تھے
باقی
خیبر پختونخوا کیلئے آپ If کا صیغہ استعمال کررہے ہیں جو صرف ممکنات تک محدود ہے
ظالمو الفاظ تو تبدیل کرلیا کرو ۔ پیسے لے رہے ہو تو تھوڑا سی محنت کرکے الفاظ تو اپنے لکھ لو ۔ کیوں خود بھی ذلیل ہوتے ہو اور بھیجنے والوں کو بھی رسوا کرواتے ہو ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ کے بارے میں خود ساختہ ترجمان اس اعتماد سے خبریں سنا رہے ہیں کہ 4 اکتوبر کو وہ اس منصب پر نہیں ہوں گے کچھ حضرات تو بات کو یہاں تک لے گئے ہیں کہ مرنے مارنے کی نوبت بھی آ سکتی ہے، بریفنگ یقینا سخت ہوئی ہے، لیکن ایک صحافی کی حیثیت سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ غیر آئینی اقدام کے امکان کو اتنی آسانی سے معمول بنا کر پیش کیا جا رہا ہے
ترجمانی، چمچہ گیری، خوشامد یا سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر آئین سے ماورا کسی اقدام کو معمول بنانے کی کوشش نہ سیاست کے لیے بہتر ہے نا صحافت کے لیے!
مالک پر بات کی تو نوکر جواب دینے آگئے
اس ٹاؤٹ کو تب افسوس نہیں ہوا جب یہ پنڈی والوں کے کہنے پر صداقت عباسی کا جبری انٹرویو کر رہا تھا ، جب عمران خان کی بہنوں کو گرفتار کیا گیا ، جب پختون خواہ سے صوبائی وزرا کو اغوا کیا گیا لیکن اس کے مالک پر بات کی تو اس کو افسوس ہوا
سرکاری نوکری مل گئی ۔۔ چاپلوسی بھی اچھی کر رہے ہیں ۔۔ مالکوں نے جو نیا مسلط کرنا ہے ان کے ساتھ بھی آپ لٹک کر اچھا کما لیں گے تو خدارا یہ صحافت کا لبادہ تو اتار پھینکیں اور اس شعبہ جو بخش دے ۔۔ اس شعبہ کی بدنامی اپ نے بہت کر لی اب تھوڑی معافی دے دیں
آر پی او اور ڈی پی او کی تعیناتی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی منظوری سے کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی اپنے ہی کیے گئے رفارم کو واپس کررہی ہے اس کے پیچھے وجہ کیا؟
ہمارے بچوں پر بندوقیں تانی جا رہی ہیں، ہم نے سوال اٹھائے تو جواب میں ہم پر بندوقیں تان دی گئیں۔
مگر یاد رکھیں، ظلم اور جبر کے سامنے ہمارا جواب خوف نہیں، بلکہ اللہ پر کامل بھروسہ ہے
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ہر پولیس اہلکار 2 منٹ نکال کر یہ پیغام ضرور سنے، ہو سکتا ہے کہ ظلم کرنے سے بچ جاو
" اگر کوئی حکم تمھیں قانون، آئین ، اخلاق ، دین اور تمھارے ضمیر کے خلاف ملتا ہے تو یہ مت سوچنا کہ حکم تمھیں کس نے دیا ہے بلکہ یہ سوچنا کہ کیا اس پر عمل کرکے تم اللہ کو جواب دے سکو گے ؟
کوئی غیر قانونی حکم نا ماننا اور ضمیر کی آواز سننا "
مطیع بھائی اور ثاقب بھائی کو داد دیجئے کہ صحافت میں ایسے نام معدوم ہیں، جو آج بھی صحافتی اقتدار اور ایتھیکس کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ جن کے جبر اور لاقانونیت کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہے اور وہ اس کی تردید کرنے کا جگرا بھی رکھتے ہیں۔
لیکن بلال غوری صاحب کی اس صحافت کو صحافت کہنا خود صحافت کی تذلیل ہے 🙏
And it get’s worse.
My cousin Shahrez’s 2 children of 4 and 6 years old are now missing.
There is no limit to their cruelty. Complete disregard for humanity.