@WENewsPk باھر نکل کر الیکشن میں مداخلت کی مشرف کی کوشش کو بھرپور کامیاب بھی کروایا
فراڈئیے پوری بات بتایا کرو
ھمارے زوال کی وجہ ھی یہ دو منہ والے فراڈئیے ھیں جو ساری زندگی دونمبریاں کرتے ھیں اور ہھر دانشور بن کر لیکچر بھی دیتے ھیں
پہلے جمہوریت کی تعریف یہ تھی کہ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لئے۔ لیکن جب سے نئے برائلر سیاستدان آئے ہیں یہ ہائبرڈ نظام کے اتنے عادی ہو گئے کہ یہ کہتے ہیں کہ اب صرف ریاست کو بچانا ہے۔ یہ نیا چورن ہے کہ ریاست کو بچاؤ، او بھائی میرے! عوام کے بغیر بھی کوئی ریاست ہوتی ہے؟ یہ کہتے ہیں کہ عوام مار دو صرف ریاست بچاؤ۔ پچھلے جمعہ کو وزیر پٹرولیم کی پریس کانفرنس میں جو نامعلوم رپورٹر بیٹھے تھے میں ان کو نہیں جانتا ہوں۔ یہ ساری پریس کانفرنس ریکارڈڈ تھی، کیونکہ جمعے کو وزیر پیٹرولیم صاحب نے لاہور جانا ہوتا ہے کیا رات تک انتظار کرتے رہتے؟ سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کی گفتگو سو
#PublicNews #PublicProgram #KhabbarNashar @_AdnanHaider@javeednusrat
کرپٹ مافیا نے غریبوں کا پیسہ بھی نہ چھوڑا
پاکستان بیت المال میں 10 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف،سرکاری ملازمین بھی بیت المال سے کروڑوں لے اڑے۔
https://t.co/dkJkptVgMN
جب بات ہو گندم کی، ریڑھی کی یا موٹر سائیکل کی آپ کو پیرا فورس، اے سی، ڈی سی اور مریم نواز صاحبہ کی اے سی ڈالوں والی غنڈہ فورس فُل ایکشن میں نظر آئے گی۔
جب بات ہو مہنگی چینی کی، بلیک کھاد کی یا مہنگی ایل پی جی عوام چیخ چیخ کر تھک جاتی ، مکمل خاموشی؟
کیا یہ حکومت کے اپنے کاروبار ہیں ؟
@MaryamNSharif
The government can No more be supported for its move to keep petroleum levy high at Rs80 per litre on petrol.
1- Levy had been introduced as an alternate to 18% GST to keep money out of divisible pool so it’s not shared with provinces.
2-At 18% GST, the levy rate today should have been around Rs41 per litre.
3-The Govt is charging extra Rs40 per litre, including today’s increase.
4- At GST equal rate, today petrol price could have been Rs270 per litre and diesel Rs293 per litre.
5-The government should Stop punishing people for its decision to keep spending in areas that are in provincial domain after 18 amendment by raising more and more indirect taxes without Parliament’s explicit nod!
6- Constitutional experts should also see whether the National Assembly can delegate power to increase tax rate without setting any upper limit.
سستا پیٹرول خرید کر مہنگا ترین بیچ رہے ہیں سستی گیس مہنگی بیچ رہے بجلی کے بل میں فکسڈ ٹیکس ہے ایک یونٹ اوپر جانے پر چھ مہینے کی سزا ہے یہ سب عوام کی جیب سے لے کر اراکین اسمبلی کو تاحیات مفت بجلی کے بل پاس کر رہے ہیں
لعنتیں کردار
ویسا ہی ردعمل آیا جیسا کہ موجودہ نالائق پنجاب حکومت سے متوقع تھا۔ چونکہ یہ عوامی حکمران ہی نہیں ہیں، اس لئے جیسا نالائق، نکمی اور بد دیانت بیوروکریسی بتا رہی ہے، محترمہ ویسا ہی کری جا رہی ہے۔ ہر چھوٹے بڑے گھر اور ہر چھوٹی بڑی عمارت کا فٹنس سرٹیفکیٹ ہونا چاہیئے، یہاں تک تو بات درست ہے لیکن مال لوٹنے کیلئے بیوروکریسی نے اب نئے سانحے کے نتیجے میں سفید ہوش طبقے سے نیا مال بنانے کا حربہ تجویز کر دیا ہے۔
کون نہیں جانتا کہ پسماندہ علاقوں میں غریب طالب علم بچے اور بچیاں معمولی سو دو سو پانچ سو روپے کے عوام پہلی، دوسری، تیسری کلاس کے بچوں اور بچیوں کو پڑھاتے ہیں اور پھر اس معاوضہ سے اپنی تعلیمی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ محترمہ مریم نواز صاحبہ کو خود تو کوئی عقل موت ہے نہیں اور نہ ہی عملی زندگی کا کوئی تجربہ ہے، اس لئے شاید بیوروکریسی کی تجویز دی اور محترمہ اب منظوری دے دیں گی۔ پھر پنجاب حکومت کے کرپٹ، نالائق، نکمے اور بد دیانت افسران دیہاتوں، قصبوں اور چھوٹے شہروں کے ایسے افراد سے جرمانوں کے نام پر مال اکٹھا کرنا، پیرافورس کی طرح بدمعاشی کرنے پہنچ جایا کریں گے جو ٹیوشن پڑھانے سے پہلے NOC لینے، سرٹیفکیٹس لین کی سکت بھی نہیں رکھتے اور دو تین سو پانچ سو تک معاوضے کے عوض بچوں کو پڑھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
اللہ رب العالمین پنجاب کے عوام کے وہ ناکردہ گناہ معاف فرما جن کی سزا موجودہ حکمرانوں کی شکل میں انہیں مل رہی ہے۔
یہ بابا صدیق ہے اس کی لیچیاں چھین لیں گدھا گاڑی چھین لی ایک بازو سے یہ محروم ہے اس نے احتجاج کیا اس پر مقدمہ قائم کر دیا ایک بازو سے محروم کو دوسرے بازو میں ہتھکڑی لگا دی
الیٹ کا معاملہ ہو تو JITبن جاتی ہے
غریب پر اس ظلم کا حساب حکمران کیسے دیں گے ؟ https://t.co/5Rdi8C4bd0
🚨🚨انتہائی خطرناک ہر طرف پھیلا دو
آپ ابھی تو وزیر تعلیم پنجاب کے ٹیچر کے پنکھے چوری کرنے والے بیان پر غصہ کر رہے ابھی تو وہ جو ان کا گسٹاپو فورس جیسا گروپ اسکے وائس نوٹ اور سکرین شاٹ میرے پاس جس میں اس بیان پر سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوں کے نمبر ڈھونڈ کر متعلقہ تھانوں میں ایس ایچ او کو فون کر کے استادوں کو اٹھوانے کا پلان بنایا جا رہا ننگی گالیاں دے رہے ہیں اب تو وزیر تعلیم پر تنقید کرنے پر غنڈا فورس متحرک ہو رہی ہے آپ حکم کریں گے وہ سارے وائس نوٹ وہ سارے سکرین شاٹ یہاں پوسٹ کر دوں گا تاکہ پتہ چلے کہ نون لیگ کا وزیر تعلیم کس فاشسٹ سوچ کا مالک ہے اور نو سو ارب روپیہ تعلیم کا کس طرح عوام کی آواز دبانے مخالفین پر مقدمات کرنے پولیس سے ڈرانے پر لگ رہا ہے
”لائسنس یافتہ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں جس گھر پر چاہیں ٹاور لگاسکتی ہیں، قومی اسمبلی سے بل منظور”
یہ جیو کی خبر تھی اس کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ اگر آپ انکار کریں گے تو پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
اگر یہ بل سینٹ سے بھی پاس ہو جاتا تو یہ کمپنیاں جس جگہ چاھتیں اپنا ٹاور لگانے کے لئے زبردستی آپ کی زمین پر لگا سکتی تھیں۔
یہ انتہائی آمرانہ ڈریکونین بل وفاقی سیکرٹری برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی ضرار ہاشم خان نے تیار کیا
یہ صاحب پرائیوٹ ٹیلی کام سیکٹر/کمپنیوں سے کنٹریکٹ پر وفاقی فیڈرل سیکرٹری لائے گئے ہیں۔
پرائیوٹ کمپنیوں میں کام کرنے والا یہ ضرار ھاشم خان اسی لئے وفاقی سیکرٹری بنا تھا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کی آمریت قائم کر دی جائے۔
اس بل کو مسلم لیگ ن نے خفیہ خفیہ قومی اسمبلی سے پاس کرا لیا۔ اور ہمارے قومی اسمبلی کے ممبران بھی پڑھے بغیر بل منظور کر لیتے ہیں۔
جب معروف صحافی رؤف کلاسرہ نے اسے اپنے میڈیا میں ایکسپوز کیا تو سینٹ میں اسے روک لیا گیا ہے۔ یہ ہے حالت ہمارے پارلیمنٹیرینز کی
یہ وہ ضرار ھاشم خان ہیں جو ہماری زمینیں زبردستی لینے کے لئے بل منظور کروا رھا تھا۔
@KlasraRauf
لگتا ہے کہ پٹرولیم قیمتیں اتنی کم ہونے کے باوجود، حکومت کا دل نہیں کررہا کہ قیمتیں کم کرے. یعنی ابھی بھی لفظ "کوشاں" استعال کیا جارہا ہے. کیا مارچ میں جب قیمتیں بڑھائی تھیں تو "کوشاں" ہونے کے بعد بڑھائی تھیں یا ایک مہینےکا سٹاک ہونے کےباوجود فوری بڑھائی تھیں؟
کیوں جناب وزیراعظم؟
ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے، اس لیے عوام کو صبر اور قربانی کا درس دیا جا رہا ہے۔
ایک طرف پنجاب کے پینشنرز کی پینشن میں صرف 3.5 فیصد اضافہ،
اور دوسری طرف سپریم کورٹ کے ملازمین کے یوٹیلٹی الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ۔
قربانی بھی شاید اب طبقوں کے حساب سے تقسیم ہونے لگی ہے!"
امریکہ ،ایران جنگ شروع ہوئی تو یکم مارچ 2026کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 8روپے اضافہ کیا گیا اور پھر 7مارچ کو جب ایک ماہ کے ذخائر موجود تھے تو پرانی قیمت پر خریدے گئے اسٹاک کی قیمت 55روپے فی لیٹر بڑھا کر پیٹرولیم کمپنیوں،ریفائنریز اور پیٹرول پمپ مالکان کو اربوں روپوں کا فائدہ پہنچایا گیا اب جب تین دن سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں کم ہورہی ہیں تو پیٹرول واپس 258روپے لیٹر کرتے ہوئے موت پڑ رہی ہے صرف یہی نہیں بلکہ جمعہ کو قیمتوں کے تعین کا دن آنے پر بھی صرف 60سے70روپے فی لیٹر کم کرکے حاتم طائی بننے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں
18ویں ترمیم رول بیک کر کے 118ویں لے آئیں، کائنات کا کامیاب ترین نظام لے آئیں؛ ہمارے ہاں مکمل ناکام ہوگا۔ مسئلہ یہ ہے کہ فیصلہ ساز، اشرافیہ، ادارے اتنی بھی قربانی دینے کو تیار نہیں جس میں انکے status quo کے 1% بھی تبدیل ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان کیلئے ملک صرف نوٹ، پلاٹ اور طاقت ہے۔
📢*فلاحی اسلامی ریاست پاکستان کے صوبے پنجاب میں ملازمین کے ساتھ عدل کا حال*😭👇🏻
*پنجاب حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے 7 فیصد جبکہ پنشن میں ساڑھے 3 فیصد اضافے کی تجویز*
*پنجاب کی وزیروں کی تنخواہوں اس عرصے میں 1 لاکھ سے 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے*🫧⏰
@RShahzaddk