رہنما پاکستان تحریکِ انصاف NA-51 و سابق ناظم ضلع مری سردار سلیم خان اور PTI شمالی پنجاب کے سینئر نائب صدر سردار منصور عباسی کے بھوربن، مری میں واقع فور اسٹار ہوٹل پر آج پیرا فورس، پولیس اور ضلعی انتظامیہ پہنچی۔ کمروں میں مقیم مہمانوں کو زبردستی باہر نکالا گیا اور ہوٹل کو سیل کر دیا گیا۔
گزشتہ 10 روز سے سردار منصور عباسی کی رہائش گاہ پر بھی مسلسل پولیس چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ گھر کے دروازوں کو لاتیں مار کر نقصان پہنچایا گیا اور گھر کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
آخر ان کا جرم کیا ہے؟ عمران خان کے ساتھ کھڑا ہونا؟ مشکل ترین وقت میں اپنے لیڈر کا ساتھ نہ چھوڑنا؟ تین سال کے مسلسل دباؤ اور جبر کے باوجود اپنے سیاسی مؤقف پر قائم رہنا۔
#TeamMalikTaimoor
اسلام آباد میں 22000 پولیس اہلکار، ہزاروں کنٹینر، وزیر کی گاڑی پر سیدھے فائر، رہنماؤں کے گھروں پر پرتشدد حملے، کارکن جاں بحق، جھوٹے مقدمات اور PM عمران خان کی بہنوں سمیت ہزاروں گرفتاریاں۔
17 سالہ آمنہ اور 22 سالہ انمول کو چوری اور دھوکہ دہی کے ایک مقدمے میں گرفتار کر کے تھانے لایا گیا جہاں اُن کی طبعیت بگڑی اور بعدازاں ہسپتال میں اُن کی موت ہو گئی۔
https://t.co/k1yLT2LKy6
الیکشن کمیشن کی ڈبل گیم پریس ریلیز میں واضع۔ ایک طرف مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عملدرآمد کا دعوٰی اور دوسری طرف اپنی لیگل ٹیم کو"پوائنٹس" بنانے اور سپریم کورٹ سے ان "پوائنٹس" پر "رجوع" کرنے کے بہانے فیصلے پر عملدرآمد رکوانے کا ٹاسک دے دیا۔
لو جی
الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا ہے کہ ہم نے قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کی بالکل ٹھیک تشریح کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آزاد قرار دیا
آج مان گئے
#قومی_مطالبہ_خان_کی_رہائی
ہمارے موجودہ صورتحال ایسی ہی ہے جیسے انگریزی میں “It was the best of times, it was the worst of times” کہتے ہیں۔ مقابل اپنی آخری آخری چالیں چل رہا ہے، سائفر سے جس تنزلی کے سفر کا آغاز کیا تھا؛ عدت جیسے بیہودہ کیس میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے قائد کو قید رکھ کر مقتدرہ اپنی قبر کھود چکی ہے۔ اُس کی ساری امیدیں اب آپ سے وابستہ ہیں۔ آپ ہی ہیں جو اُس کے مردہ وجود کو جینے کا سہارہ دے سکتے ہیں۔ It is the worst of times کیونکہ ہر شاطر دشمن کا بدترین وار اندرونی ہوتا ہے، وہ خدشے، وسوسے، اندیشے اور بدگمانیاں ڈال کر آپ کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ آپ کی صفوں میں مایوسی پھیلاتا ہے۔ آپ کو تقسیم کرتا ہے۔ مگر it is the best of times کیونکہ وہ صرف آپ کے ردعمل پر اپنی ساری امیدیں لگائے بیٹھا ہے۔ اُس کے پاس مزید کوئی داؤ نہیں ہے۔ عمران خان نے ہمیں ۱۴-۱۵ مارچ کو بھی اپنی ڈھال بننے کو نہیں کہا تھا۔ ۱۸ مارچ کو بھی یہ عمران خان کا حکم نہیں تھا کہ قوم گولیوں کے سامنے کھڑی ہو۔ نہ ۹ مئی کو عمران خان نے احتجاج کی کال دی تھی۔ ہر مرتبہ اُس کی قوم اُس کا کارکن خود نکلا تھا۔ تو کیا ۵ اگست کو عمران خان کی گرفتاری اُس کی قوم کی ناکامی تھی؟ کیا عمران خان کا کارکن لڑ لڑ کر تھک گیا تھا جو اُس نے روزِ روشن کی طرح عیاں بدنیتی کے باوجود عمران خان کو ایک بوگس کیس میں گرفتار ہونے دیا؟ نہیں! عمران خان کا کارکن تھکا ہوتا، اُس کی قوم نے ہار مانی ہوتی تو ہماری سامنے ۸ فروری نہ ہوتا۔ نشان چھن گیا، ۱۰۰ اور یاد کرلیے۔ امیدوار اٹھا لیا، ۱۰ اور کھڑے ہوگئے۔ پولنگ والے دن عوام نے جو جنگ لڑی تاریخ کی کتابوں میں تحریر ہوگی۔ ۹ اپریل ۲۰۲۲ اے لے کر آج دن تک کیا کیا نہیں سہا ہم نے تو کیا چار دن اور گولیوں کے سامنے کھڑے نہیں ہوسکتے تھے؟ آج عمران خان ہمارے درمیان ہوتا۔۔ عمران خان کی گرفتاری وہ کڑوی گولی تھی جو ہم نے اپنے کپتان کے حکم پر اُس کے ہم پر لاگو کیے ڈسپلن کے سبب نگلی۔ آپ کو کیا لگتا ہے سردی گرمی میں بنی گالہ سے لے کر زمان پارک تک جو لوگ عمران خان کے لیے کیمپوں میں پڑے رہے تھے۔ جنہوں نے ریاست کی بدترین فسطائیت کا مقابلہ کیا۔ ۱۸ مارچ کے حالات تو آپ کی آنکھوں کے سامنے تھے، ۱۵ مارچ کی صبح ایک موقع ایسا آیا تھا جب پولیس زمان پارک کا گیٹ توڑ رہی تھی اور ہم اندر بمشکل ۳۰-۴۰ بندہ رہ گئے تھے۔ ان کے پاس تازہ دم فورس تھی، شیل تھے، اسلحہ تھا، ہمارے پاس اپنے سروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ تب خان صاحب نے باہر آکر ہمیں سمجھایا تھا کہ میں گرفتاری دے دیتا ہوں۔ لڑکوں نے کہا ہم مرجائیں تو بے شک دے دیں۔ کیا ایسے لوگ ۹ مئی کے بعد زمان پارک سے اپنی جان بچانے چلے گئے تھے؟ نہیں جب تک خان صاحب روک نہیں رہے تھے ہم نے اُن کے کہنے کا انتظار نہیں کیا۔ مگر جب وہ جان گئے کہ یہ ہوس اقتدار میں اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ یہ اپنی طاقت کو دوام دینے کے لیے اپنے ملک کو خاکستر کرنے سے بھی گریز نہ کریں گے اور اُن کی جانب سے باقاعدہ تاکید کی گئی پیچھے ہٹنے کی تب ہم پر واجب تھا کہ ہم لیڈر کا حکم مانتے۔ یہ جو لیڈر شپ ایک سال اپنے گھروں سے، اپنے والدین اپنے بچوں سے دور رہی۔ جن کے گھر توڑے گئے، جن کی خواتین کو ہراساں کیا گیا، اس ملک میں قانون نامی کسی چیز کا شائبہ بھی ہوتا تو خدا کی قسم جیل اس دربدری سے کہیں بہتر رہتی۔ ہفتے میں ایک بار کسی اپنے کی شکل دکھائی دے جاتی۔ دن میں ایک بار سہی آسمان تو دیکھنے کو ملتا ہوگا۔۔ تو کیا لگتا ہے یہ سب پارلیمان کی سیٹ اور ایم این اے بننے کے لیے سہا تھا؟ یا پارٹی عہدوں کے لیے؟ کیا لگتا ہے آج عمران خان باہر ہوتا تو یہ ”موقع پرست“ محض ایم این اے ہوتے یا اس کی کابینہ میں وزیر مشیر ہوتے؟ کون سی پوزیشن ذیادہ بہتر ہے؟ اس ایک سال میں میں ذاتی طور پر خان صاحب سے درجنوں مرتبہ اجازت مانگ چکا ہوں۔ جب اور جتنی اجازت ملی ہے اس حد تک کیا ہے۔ جہاں انہوں نے رُکنے کی تاکید کی ہے۔ میں رُکا ہوں، دل پر جبر کرکے رُکا ہوں کیونکہ وہ میرا لیڈر ہے۔وہ میرے سامنے ہوتا میں اُس کی سٹریٹجی پر اُس سے بحث کرتا، اپنی رائے دیتا۔ فیصلے کا اختیار اُسی کا تھا، اُسی کا رہے گا۔ میں پھر کہتا ہوں it is the best of times یہ آخری چال ہے، مشاہدہ کریں، تبصرہ کریں، بحث کریں کھل کر سب سامنے آنے دیں۔ لیکن اپنا فوکس مت تبدیل کریں نہ کسی کو کرنے دیں۔ عمران خان جیل میں اپنی پارٹی کی وجہ سے نہیں ہے۔ عمران خان جیل میں اس بدبودار، تعفن زدہ نظام کی وجہ سے جہاں عوام تو عوام جج تک انصاف کے دروازے سے مایوس لوٹ رہے ہیں۔ جہاں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا غداری ہے اور فرض کی بابت سوال کرنا بغاوت۔ جہاں اپنے ملک کی خودمختاری کا علم اٹھانا ننگی تلوار پر چلنے برابر کردیا گیا ہے۔ عمران خان جیل سے اُس دن نکلے گا، جب ہم اپنے اتحاد سے اس متعفن لاش پر مٹی ڈالیں گے نہ کہ اپنے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں پر ڈال کر اُس کو سانس لینے کا موقع فراہم کرکے۔ ایسا کرنا عمران خان سے اصل غداری ہوگی۔
کل کا احتجاج میرے لئے بہت حیران کن تھا، لوگ بڑی تعداد میں اپنی فیملیز کو لے کر باہر نکلے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لوگوں نے خوف کے بت توڑ دیئے ہیں: اسداللہ خان #ساڈا_حق_ایتھے_رکھ
عمران ریاض خان کو کو پولیس اھلکار قلعہ گجر سنگھ سی آر او کے بعد سے لے کر تھانہ مانگا منڈی لے کر گئے ھیں انکے نام و شناخت معلوم ھو چکی ھے-
تھانہ مانگا منڈی میں پولیس کے علاوہ دیگر کس ایجنسی کے اہلکاروں سے دوران ریمانڈ ملاقات کرائی جارھی ھے؟
یہ غیر قانونی گھٹیا حرکات بند کرو
تمام اضلاع کے عہدے داراور آئی ایل ایف کے وکلا کو ہدایت دی جا چکی ہے کے ہنگامی بنیادوں پر تمام گرفتار کارکنوں تک قانونی معاونت پہنچائیں۔ یہ سب لوگ غیر قانونی طور پر گرفتار کئے گئے ہیں اور پولیس کے جن افسران نے گرفتاری کا حکم دیا ان کا عدالتوں کے ذرعیے سزا ہونی چاہئے۔