میں بہت سخت اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ رکھتا تھا،جبکہ کچھ طبقات کے باریمیں میری رائے انتہائ متشدد تھی اور اسکا اکثر کھل کر اظہار بھی کرتا،اس پاداش میں کافی بار جیل بھی جانا ہوا لیکن پھر ایک وقت آیا کہ مجھے میرے ہی بچوں اور گھر والوں نے کہا کہ بس اب بہت ہوگیا ہم اب مزید نہیں سہہ سکتے اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کی خاطر میں خاموش ہوا کبھی کبھار جب بہت زیادہ دل کرے تو ٹوئیٹ مارڈالتا ہوں لیکن گذشتہ چند روز سے کسی نے گھر والوں کو ٹوئیٹس بھی بھیجنی شروع کردیں جس پر والدین نے اچھی خاصی کلاس لی۔۔۔ اور امی نے باقاعدہ درگت بنائ۔۔۔۔
چنانچہ فیصلہ کیا کہ اب اس حوالے سے بھی بالکل ہومیو پیتھک ہوجاتا ہوں، انسان مجبور ہے اور قید میں اس لفظ کا اصل مفہوم سمجھ آتا کہ "مجبور" ہوتا کیا ہے۔۔۔۔
ایک دو ٹکے کا انسان جو سپاہی رینک کا ہوتا ہے وہ آپ کو ماں یا بہن کی غلیظ اور گندی گالیاں بک کر اپنا پاؤں آپکے چہرے پر رکھتا ہے۔۔۔
ایک جاہل اور سفارشی حوالدار صرف صاحب کے حکم پر آپکو الف ننگا کرکے پیٹتا اور آپکی فیملی کے بارے مغلظات بکتا ہے۔۔۔
ہاتھ بندھے ہوتے کچھ کہنے پر مزید مار کھانی پڑتی۔۔۔
چھتر کھا کھا گانڈ مکمل کالی ہوچکی ہے جبکہ بدلا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔
لیڈر لوگوں کا کیا۔۔۔انہیں تو تنخواہ ہی اس بات کی ملتی۔۔۔ اس کام کی ملتی۔۔۔وہ جیل جائیں بھی، تو انکی جیل گیسٹ ہاوس جیسی ہوتی لیکن ہمارا ایک ایک لمحہ ہمارے ماں باپ،بہن بھائیوں اور بچوں پر کیسا گزرتا جاکر ان سے پوچھئیے۔۔۔
مختصرا عرض کرتا ہوں شائد بات سمجھ میں آئے کہ جس زمانے کشمیر میں جہاد فرض ہوا کرتا تھا ہمیں کوئ کسی کمانڈر کا بتاتا کہ وہ فلاں ایجنسی کا تنخواہ دار ہے تو ہم الٹا اسے ہی پڑ جاتے۔۔۔کہ حضرت کے بارے میں یہ سوچا بھی کیسے؟ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب ایک مقام پر پہنچے اور ان حضرات کو بھی محمود و ایاز کی صفوں میں دیکھا تو بہت سے نوجوانوں کے لاشے آنکھوں کے سامنے گھوم گئے۔۔۔۔
راجہ عمر خطاب صاحب زندہ ہیں موجود ہیں مجھ سے2003 کی گرفتاری میں پریڈی اسٹریٹ کے لاک اپ میں ملنے آئے تو میں نے پوچھا سر جی آخر میرا قصور کیا ہے؟کہا بیٹا پالیسی!!
میری ہتھکڑی کھلوائی چائے آرڈر کی اور خود سگریٹ کا کش لیتے ہوئے کہا آفتاب جب جیسی جو پالیسی ہو اس پر چلو گے تو کچھ نہیں ہوگا۔۔۔کشمیر قضیہ ختم ہوچکا( یہ 2003 کی بات ہورہی) اور یہ جو کمانڈو جیکٹس اور سروس کے چیتا شوز پہن کر گھوم رہے ان سب کو پہلے سےبتادیا گیا کہ دراز زلفیں تراش لو جو مانے گا وہ بچے گا جو نہیں مانے گا وہ گڑھے گا۔۔۔۔
ریاست اور اسکے چلانے والوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں، غریب آدمی کو فکر نظریہ اور جنت کا آسرا دیکر اوپر والے اپنی دنیا جنت بناڈالتے۔۔۔
آپ ایک چرس کا سگریٹ نائ کی دوکان پہ پئیں فورا سے مخبری ہوگی اور پولیس ملازم آکر آپکو لے جائیگا۔۔۔ لیکن اس ہی محلے میں منشیات کے اڈے چل رہے ہوتے کیونکہ وہ اڈے سیٹنگ سے چل رہے اور آپ بنا سیٹنگ کے سگریٹ پی رہے۔۔۔۔
لہذا میں آج کے نوجوان سے صرف یہی کہونگا کہ آپ جو بھی رائے نظریہ یا فکر رکھیں وہ آپکی اپنی ریسرچ مطالعے یا تحقیق کی بنیاد پر ہو نا کہ کسی ٹاپ ٹرینڈ یا پروپیگنڈے کی وجہ سے۔۔۔۔
ایسا نا ہو کہ کل کو ریاستی بیانیہ بدلے تو آپ بھی میری طرح کسی کال کوٹھڑی میں بیٹھ کر سوچیں کہ یار میں نے تو فرض سمجھ کر ج ہ ا د کیا تھا جبکہ حقیقت میں وہ ایک اسٹیٹ پالیسی تھی۔۔۔
یاد رکھئیے ہر لیڈر اور بڑے آدمی کے پاس بیک اپ بھی ہوتا ہے اور پلان بی بھی، وہ نا بھی ہو تو اسکا کوئ بھائ بیٹا ضرور سسٹم یا اسکرین پہ رہتا لیکن عام آدمی اپنی فیملی کا سب کچھ ہوتا ہے وہ نا ہو تو اسکے گھر والوں کا کچھ نہیں بچتا پھر عزتیں بھی باہر نکلتیں بچے بھی سڑکوں پر رلتے اور بوڑھے ماں باپ بھی ٹکے ٹکے کے لوگوں کے سامنے ذلیل ہوتے۔۔۔۔۔
میں اللہ تعالی کو بھی مانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی آخری نبی مانتا اور صحابہ و اہلبیت کی ناموس پر قربان ہونا بھی اعزاز سمجھتا لیکن سودی نظام اور فحاشی کے اڈے چلانے والے کرتا دھرتا جب مجھ سے کہیں کہ ختم نبوت کے پروانے بنو تو کم از کم سوچنے کا حق ضرور رکھتا ہوں کہ آخر ایسا کیوں؟؟؟؟
وماعلینا الاالبلاغ
$2,000 #Bitcoin Giveaway 🚀
- 2x $1,000 giveaway:
How to enter:
- Like & RT this Tweet
- Follow @Rovercrc
- Like and comment under my most recent IG post (@ cryptoroveryt)
- Follow @ cryptoroveryt on IG!
One winner will be picked through Twitter and one on IG.
جس ملک میں منتخب نمائندوں کو اس لئے ہوٹلوں میں عملاً قید کر کے رکھنا پڑے کہ یہ معصوم بچے کہیں کوئی اچھا لولی پاپ دیکھ کر دوسری طرف نہ چلے جائیں اس تماشے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کی سیاست اور سیاستدانوں کا محور خدمت نہیں دولت ہے۔
میں نے ابھی تصاویر اور ویڈیوز دیکھی ہیں۔ میں کبھی سوچ نہیں سکتا تھا کہ آپ لوگ اسطرح شدت سے آواز اٹھائیں گے۔ میں اپنی قوم کی تمام دعاؤں، نیک تمناؤں اور کوششوں کا شکر گزار ہوں۔ ہر ایک کا مشکور ہوں۔ آپ نے مجھے خرید لیا۔ اللہ ہم سب کو کامیاب کرے۔