آج میرے بھائی عظیم دوست کی جبری گمشدگی کو 9 سال ہو گئے ہیں۔ میں انسانیت پر یقین رکھنے والے تمام لوگوں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ہماری آواز بنیں اور میرے بھائی کی بازیابی کے لئے ایکس مہم میں شامل ہوکر آواز اُٹھائیں۔
#ReleaseAzeemDost@a_siab@HamidMirPAK@AhmadFarhadReal@aishamj7
طالب علم بہادر بشیر بلوچ کے والدہ کی دل دہلا دینے والی فریاد سن کر آنکھیں اشک بار ہیں ، انہیں چند دنوں پہلے پاکستانی فورسز نے گھر سے اغواء کر کے لاپتہ کردیا ہے
ظالموں ظلم اتنا کرو کہ کل کو برداشت کر سکو https://t.co/YNOhCAB91y
The young son of this lady was abducted by FC in 2013 from Buleda, #Balochistan
He was shown to the village elders, joined by sitting provincial minister @ZahoorBuledi in the FC camp, promising his release on the next day.
#ReleaseJanMohammadBaloch
تربت ڈی سی آفس کے سامنے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کی احتجاجی دھرنا دسواں روز جاری!
دھرنے پر بیٹھےہوئےلاپتہ افراد کےاہلخانہ نے حکومت سے اپیل کی کہ انکےلاپتہ پیاروں پرکوئی الزام ہےتو انہیں عدالت میں پیش کیاجائےاگر بےقصور ہے تو فوری طور پر رہا کرکے انہیں ذہنی اذیت سےنجات دلائی جائے
گزشتہ پندرہ سالوں سے میں جبری گمشدگی کے شکار اپنی والد کی بازیابی کے لیے پرامن جدوجہد کررہی ہوں ۔
ان پندرہ سالوں میں ہم نے ریاستی بربریت کو بہت قریب سے دیکھا ہے ہم نے دیکھا ہے ہمارے پرامن جدوجہد کا جواب پرتشدد طریقوں سے دیا گیا زندانوں میں قید ہمارے پیاروں کی بازیابی کے بجائے ہمیں ہی زندان کے حوالے کیا گیا ۔کھبی پریس کلبوں کے سامنے ہمارے دوپٹے کھینچے گئے کھبی لاٹھی چارج بندوقوں کے بٹ مارے گئے کھبی ہم پر شیلنگ کی گئی ۔
کھبی کاغذی کمیشن بنائے گئے جو ہمیں سننے کے بجائے ہمیں سناتے رہے ،
آج پندرہ سال بعد بھی میں سمی دین بلوچ اسی جگہ کھڑی ہوں جہاں سے یہ مسلط کردہ سفر کا آغاز ہوا تھا ۔
ہمارے گھر کا آنگن آج بھی ویران ہے اماں کی بالوں پر چاندنی اور چہرے پر چھریاں ہر اس دن کی لکیریں ہیں جو والد کے بغیر اس نے گزارے ہیں ۔
آج بھی ریاست ہمیں جواب دینے کے بجائے ہمیں ہی جوابدہ سمجھتی ہیں ۔
#ReleaseDrDeenMohammad
𝐍𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐆𝐚𝐭𝐡𝐞𝐫𝐢𝐧𝐠 𝐀𝐠𝐚𝐢𝐧𝐬𝐭 𝐁𝐚𝐥𝐨𝐜𝐡 𝐆𝐞𝐧𝐨𝐜𝐢𝐝𝐞
With so much dying and denial around us, we still choose to march—for our survival, for our existence, for our national dignity. We march to avoid disappearing, even as, in a single day, we receive news of more than seven Baloch individuals being forcibly disappeared. We witness helpless families in the scorching heat of summer and the coldest hours of winter, sitting on roads and protesting. We see them being dragged and beaten by the authorities, threatened not to protest. We see lifeless Baloch bodies, victims of fake encounters, discarded without dignity. We see state-backed death squads targeting the innocent Baloch, creating fear and uncertainty.
We choose to march because Baloch drivers searching for two times meals in the heated, deserted border areas are dragged, harassed, and killed. We march because we see curfews, fencing, militarization, and military operations across Balochistan. We march because, to preserve Chinese interests and sustain the China-Pakistan Economic Corridor, State is fencing Gwadar, and people are being caged.
We choose to march for many reasons: the state is committing systematic genocide against the Baloch people, and we will not remain silent.
#بلوچ_راجی_مُچی
#MarchAgainstBalochGenocide
وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ تربت میں تھانہ حملہ کا نوٹس لیکر ڈی سی، اے سی سمیت تمام لیویز اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے،
وزیر داخلہ سے ایک درخواست ہیکہ خفیہ اداروں کے ان اہلکاروں کے خلاف بھی کاروائی کریں جنہوں نے پولیس اور لیویز کے درجنوں بلوچ اہلکار اغواء کرکے لاپتہ کیے ہیں، لیویز اور پولیس کے لاپتہ اہلکاروں کی مائیں اس وقت بھی بچوں کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپوں میں بیٹھے ہیں، پاکستان کے قانون میں ایکشن صرف بلوچ کے خلاف ہو سکتا ہے، لیویز اور پولیس کے کئی بلوچ اہلکاروں کے خلاف اداروں نے سنگین الزامات لگا کر انکو لاپتہ کیا ہے،
The sit-in by the families of the enforced disappearances in Turbat continues today for the seventh consecutive day. A negotiation team led by the ADC arrived at the sit-in. Afterwards, the families met with the DC at the DC House.