عین ممکن ہے جو شخص عمران خان کا ٹویٹر چلا رہا تھا ہو سکتا ہے وہ ایرانی حملے میں اسرائیل میں مارا گیا ہو تبھی خان صاحب کی طرف سے کوئی مذمتی ٹویٹ نہیں آرہی۔
آدم پور ائیربیس ، پٹھانکوٹ ائربیس ، بیاس میں براہموس میزائیل کی سٹوریج کے تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں ، یہ سب عرب میڈیا چینلز پے ہے اسکی مکمل تصدیق ممکن نہیں ۔لیکن انٹرنیشنل میڈیا کہہ رہے ہیں ایک بار بھارت ہل گیا ہے وہ شائید یہ اتنا بڑا جواب ایکسپٹ نہیں کر رہا تھا #IndiaPakistanWar
@NaeemMuzaffar , CEO of #WorldMarketing, was picked up by unknown officials on 20 March 2025 from G-10/2 #Islamabad. Even after 37 days, no FIR has been registered, and he is still missing. I request the higher authorities to take action and bring him back safely.
#naeemmuzzafar
یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو !
کوئی آساں ہے کیا ! سرمد و منصور ہو جانا
قدم ہے راہ_ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چور ہو جانا
(مفتی محمد تقی عثمانی)
" دنیا میں سب سے زیادہ ظلم مذہب کے نام پر ہوا اور یہ ظلم عبادت کا درجہ اختیار کر جاتا ہے اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ مذہب کے نام پر ظلم کرنے والا شرمندہ نہیں ہوتا بلکہ اس پر فخر کرتا ہے "
مستنصر حسین تارڑ
بدعت کی ایک بڑی قباحت یہ بھی ہے کہ بدعتی اپنی بدعت کے گناہ سے توبہ نہیں کرتا کیونکہ بدعتی اس بدعت کو نیکی سمجھتا ہے اور بھلا نیکی سے بھی کوئی توبہ کرتا ہے! توبہ تو گناہ سے کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی بھر وہ بدعت کے گناہ میں مبتلا رہتا ہے، ظاہر ہے کہ یہ بڑے خسارے کی بات ہے!
قیام ، ہجرت اور شہادت ۔۔
دنیا کی ظالم ترین طاقتوں کا بے جگری سے مقابلہ کرنے والا اللہ کا شیر اسماعیل ہنیہ سرخرو ہوگیا، پہلے اپنے خاندان کو راہ خدا میں قربان کیا پھر خود بھی جنت کا مسافر بن گیا،
شہادت ایک مسلمان کی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ راحتوں بھری نئی زندگی کا آغاز ہے، اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو اس ظلم کی قیمت چکانا ہوگی۔ اسرائیلی اقدام نے اس پورے خطے کو نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے ، صاف نظر آرہا ہے کہ جنگ اب غزہ تک محدود نہیں رہے گی۔ نئی صف بندی ہوگی، کیا عالم اسلام کے حکمران اب بھی آنکھیں بند کیے اسرائیل کی خاموش حمایت کرتے رہیں گے ؟ کیا وقت نہیں آگیا کہ ظالم کے ہاتھ کو کاٹ ڈالا جائے؟
ایک قدیم عالم دین نے اپنے طلباء کو پڑھاتے ہوئے کہا:
"میں نے درخت سے شفقت سیکھی"
میں نے اسے پتھر مارا، اس نے مجھ پہ پھول برسائے
وہ شرمندگی میرے لئے سبق بن گئی۔