بہت سے انٹرویو آئیں گے۔ بہت توجہ بھٹکائی جائے گی۔ بہت سی ٹرک کی بتیاں ہوں گی اور جعلی امیدیں دلائی جائیں گی۔
مگر جیتنے کا صرف ایک ہی نسخہ ہے توجہ صرف اپنے ہدف پر رہے۔۔۔
اگر ایک دور دراز دیہات جہاں انٹرنیٹ کے سگنل بھی نہیں پہنچتے اگر وہاں بھی نظریہ عمران خان راج کررہا ہے تو پھر اب وقت آگیا ہے کہ " نعرہ انقلاب" بلند کردیا جائے
گاؤں اصغر چاچڑ 🔥
رات ہو گئی عوام کا جم غفیر سہیل آفریدی کے ساتھ نکل پڑا، سندھ جاگ اٹھا ہے اور عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ براہ راست مناظر دیکھیں نیا پاکستان یو ٹیوب چینل پر۔
اڈیالہ جیل سے ایک اور اہم خبر :
عمران خان کی پیچھلے ہفتے اپنی ہمشیرہ سے جیل میں گفتگو:
یہ ایک ٹریپ ہے ، مجھے ہسپتال لے کر جائے یا نا لے کر جائے ، مجھے رہا کروانے کا اعلان ہی کیوں نا کر دے ، سہیل آفریدی 27 کو لانگ مارچ لے کر اسلام آباد پہنچے ۔ جب تک میرا ڈائریکٹ میسیج نہیں آجاتا کوئی واپس نہیں جائے گا نا ہی باہر کوئی بھی لانگ مارچ کو منسوخ کر سکتا ہے نا ہی کوئی رد بدل کر سکتا ہے ، اس کا فیصلہ صرف میں کرونگا ۔
عمران خان نے لفظ “ٹریپ “ کا خصوصی ذکر کیا ۔
کوئی بھی 27 سے پہلے گرفتار نا ہو ، سب نے 27 کو احتجاج کے لیے نکلنا ہے اور 27 تک کسی بھی صورت گرفتاری نہیں دینی ، جو بھی گرفتار ہوا وہ جیل جاتے ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے
پنجاب سندھ اور بلوچستان بھی بھر پور مزاحمت دکھائے اور اپنے صوبے بند کرے اور جو 27 کو مزاحمت نا دکھا سکے وہ اپنے عہدے چھوڑ دے کیونکہ مجھے اس تحریک کے لیے بہادر لوگوں کی ضرورت ہے ۔
باز گشت چل رہی ہے کہ ن لیگ کی حکومت جا رہی ہے، ایک بات کلئیر کر لیں یہ حکومت رہے یا جائے اس کا فائدہ ہمیں کسی صورت نہیں ہونا، عمران خان اور پی ٹی آئی پر سختیاں بڑھنی ہی ہیں
ہمارے پاس ایک ہی بقاء کا راستہ ہے 27 ستمبر لانگ مارچ کی کامیابی !! اپنا سارا زور لانگ مارچ کی کامیاب پر لگائیں ، آخری فیصلہ سڑکوں پر ہی ہونا ہے
سینیٹر مشتاق احمد خان کی قید کا 30واں روز: اہلِ خانہ سے پہلی ملاقات میں تشویشناک حقائق سامنے آ گئے۔
30 دن بعد اہلِ خانہ سے ہونے والی ملاقات میں یہ افسوسناک انکشاف ہوا ہے کہ سینیٹر مشتاق احمد خان کو مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہیں چہل قدمی، کتب، اخبارات اور بنیادی سہولیات تک رسائی سے محروم رکھا گیا، یہاں تک کہ 15 سے 20 دن تک کپڑے بھی فراہم نہیں کیے گئے۔
پاکستان رائٹس موومنٹ (PRM) اس غیر انسانی اور غیر قانونی سلوک کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ:
قیدِ تنہائی فوری ختم کی جائے۔
بنیادی انسانی و آئینی حقوق بحال کیے جائیں۔
سینیٹر مشتاق احمد خان کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔
حق اور سچ کی آواز کو زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا!
آج تقریریں کرنے کا وقت نہیں ہے،
میں اپنی بات کرنے کا حق رکھتا ہوں،
کراچی اور اندرون سندھ سے ہر مرتبہ لوگ اسلام آباد، لاھور، سنگجانی تک آئے، 26 نومبر کو لوگ آئے، 500 ہزار بندے لانے کے لیے خرچہ 1 کروڑ 60 لاکھ بنتا ہے،
اگر ہم اپنے اپنے علاقوں میں نکلیں، تو وہاں تعداد اس سے زیادہ نکل سکتی ہے، اور فرق بھی واضح پڑے گا، حلیم عادل شیخ
ہم نے بغیر کسی تنظیمی سہارے کے اپنے وسائل سے ڈھائی سال سندھ بھر میں عمران خان رہائی تحریک چلائی، سعید افریدی
تین روزہ سندھ مارچ کیا، مقدمات کا سامنا کیا اور جیلیں کاٹیں ، سعید افریدی
اب عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ ہورہا ہے تو ہم اپنے تحفظات کو لانگ مارچ تک ایک طرف رکھتے ہوئے اس لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے کراچی سے کشمور تک مال جان لگا کر مارچ کو کامیاب کرینگے اور عمران خان کی رہائی ممکن بناینگے ، سعید افریدی
اور انشاءاللہ عمران خان کی رہائی میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے ، سعید افریدی
@PTIofficial@MuradSaeedPTI@MashwaniAzhar@BarristerGohar@AsadQaiserPTI
My sister, Dr Uzma Khan, filed a petition before the Supreme Court on the 6th of May 2026 through Uzair Karamat Bhandari, ASC, for Imran Khan’s examination and treatment in the presence of his personal doctors and family members.
On 18th August, a three-member Supreme Court bench ordered the government to shift Imran Khan to Shifa International Hospital within 2 days. The government blatantly violated the order.
The government did not shift Imran Khan to Shifa International Hospital. All the other aspects of the order have also been disobeyed.
The Supreme Court had also ordered:
1.Constitution of a medical board in consultation and coordination with the management of Shifa International Hospital
2.Dr Faisal Sultan, Imran Khan’s personal physician, to be associated with the medical examination and treatment
3.Imran Khan be allowed to speak to his sons twice a week
4.Imran Khan be allowed to meet with his family once a week.
All the above reliefs were in accordance with the Constitution, Prison Rules and earlier orders/precedents.
NONE of the above directions have been complied with. The only limited access granted to the family has been to my sister, Noreen Niazi, who was allowed to meet Imran Khan on each of the previous two Tuesdays. Inexplicably, before meeting Imran Khan she was made to sign an affidavit undertaking that she will not speak to the press after the meeting.
In view of the gross and deliberate violation of the order, Dr Uzma Khan filed a petition for contempt of court. Despite the fact that our lawyer, Uzair Bhandari, filed two applications, early fixation and hearing of the contempt petition has not been granted and it has been fixed on 16th September.
The Constitution and the law require proper check up and treatment for Imran Khan and an END to his torture through isolation and solitary confinement!! This is what the Supreme Court order required. The demand that this be done is not extraordinary: these are Imran Khan’s fundamental rights guaranteed by the Constitution. If the government has no respect for the Constitution and the decisions of the Supreme Court, and can simply disregard its orders, what other forum is left for us?
کراچی میں روٹین بن گئی آن لائن کاروبار کرنے والوں کو آدھے گھنٹے کے کوئی پارٹی آتی ہے ان کو اغوا کرتی ہے ٹارچر کرتی ہے سارے بنک اکاونٹ خالی کرتی ہے ان کو پھینک کر چلی جاتی ہے، میر رضا کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہا تھا، جبران ناصر ایڈووکیٹ کا خطاب
سننے والے سن لیں، ورکرز بھی اطمینان رکھیں اس دفعہ گولی نہیں چلے گی، اگر کسی نے گولی چلوائی تو سوراخوں سے کاکروچ نکلیں گے اور پھر صرف استعفی پر بات نہیں بنےگی۔ سیاسی تحریکوں میں گرفتاریاں ہوتی ہیں، اب یا تو خان صاحب ہمارے ساتھ باہر ہونگے یا پھر ہم سب خان کے ساتھ اندر ہونگے۔ بیرسٹر گوہر
جب مارشل لاء لگتا ہے تو ایک جنرل اعلان کرتا ہے کہ آج سے میں بادشاہ ہوں آج سے میں نے ایک ملک کا آئین اور قانون ختم کردیا اور جو کچھ میں کہوں گا وہی قانون ہوگا پھر وہ دور جبر ظلم اور فسطائیت کا دور ہوتا ہے مگر آج جو کچھ ہورہا ہے وہ ڈیکٹیٹرشپ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہورہا ہے اسطرح کبھی مارشل لاء کے ادوار میں بھی نہیں ہوا
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ
حاجی امتیاز کا اغوا ہر پاکستانی کو پیغام ہے کہ اس ملک میں کوئی محفوظ نہیں، نہ ماں کا لحاظ ہے نہ چادر اور چار دیواری کا۔ پاکستانی قوم اپنا حق لے کر رہے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی حاجی امتیاز کو پشاور جاتے ہوئے راستے سے نامعلوم افراد نے اغواء کرلیا۔ حاجی امتیاز پارٹی اجلاس میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔
جس ملک میں رکن اسمبلی محفوظ نہ ہوں وہاں عام پاکستانیوں کا کیا حال ہوگا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
#EndEnforcedDissapearences
دو جنرلز کا دومنتخب رہنماؤں کو حکومت سے ہٹا کو قید میں ڈال دیا جانا۔
ایک کا مشن مکمل، دوسرا اکتوبر 2025 سے انہیں لائنز پر کاربند۔
لیکن پاکستانی عوام باشعور ہے۔ عاصم السیسی منصوبہ کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان کو مصر نہیں بننے دیا جائے گا۔
#WorldSpeakingUpForKhan