Breaking!
After Fuel Price hike, more is coming!
Pakistan has assured the International Monetary Fund (IMF) that to deal with the economic impact of the Middle East conflict, it stands ready to increase interest rates and devalue currency, as the lender has imposed yet another condition to end control over foreign currency movement.
https://t.co/Lh7bIn8uZR
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with his Family and Lawyers at Adiala Jail - 15 July 2025:
"There is absolutely no question of bowing down, even if I have to spend my entire life in prison. I convey this same message to the people of Pakistan: under no circumstances should you submit to this tyrannical system.
The time for negotiations has passed. What remains now is the time for the nation to rise in protest.
Hardships inflicted upon me in jail have intensified in recent days. The same is true for my wife, Bushra Bibi, who is also facing increasing restrictions. The television in her cell has been shut down. All fundamental human rights and basic prisoner entitlements, both mine and hers, have been suspended. This must be accounted for.
I am fully aware that a certain Colonel and Jail Superintendent Anjum are carrying out these actions at the behest of Asim Munir.
I issue a clear directive to my party: if any harm comes to me while I remain imprisoned, Asim Munir must be held accountable.
Bushra Bibi is being subjected to this cruelty because, during my tenure, after Asim Munir was removed from his position, he sent her a message through Zulfi Bukhari requesting a meeting, which she categorically declined. Since then, he has targeted her with continuous retribution. From day one, it has been his deliberate strategy to break my will by tormenting her.
In the very jail where I am being held under inhumane conditions, terrorists and known murderers of hundreds of Pakistanis enjoy better treatment. A military officer named Rizwan is being held in the lap of luxury, while every form of cruelty is inflicted upon me. No matter what they do, I did not bow before this oppression before, nor will I do so now.
Under the oppressive watch of Maryam Nawaz and Mohsin Naqvi in Punjab, fascism has taken root for the past two years, extinguishing democracy and crushing all political activity.The arrival of elected representatives in Punjab in the form of a political caravan, in such an environment is a welcome development.
At this time, many, including myself, are enduring some of the harshest imprisonments. Therefore, I direct every member of the party to put aside all personal grievances. Publicly airing internal matters or individual concerns before the media is entirely unacceptable. My instruction is firm: whether a senior officeholder or a junior member, no one is to express internal differences on social media, electronic media, print media, or any other platform. Focus exclusively on the protest movement so that fundamental human rights are restored in Pakistan. If any party official fails to participate in this movement, I will make the final decision about them myself, even from within jail.
I instruct all party members and office-bearers to personally retweet my messages on Twitter (now X), and ensure they are shared as extensively as possible.
The party should decide on nominations for the Senate tickets through mutual consultation."
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
Please retweet this tweet as much as possible because:
It was very clear then, and very clear now that Pakistan wants peace. But if India lifts a foolish fickle finger against Pakistan, the resolve shown by @ImranKhanPTI in 2020, is our promise today.
Let there be no doubt that the nation and its armed forces are united in defending our homeland if it is attacked. See below the bold, historic, crisp and clear admonition, followed by appropriate reaction and then a very hot cup of tea.
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلا ٹیم اور میڈیا سے گفتگو
“13 جنوری 2024 کو تحریک انصاف کو عملاً ختم کرنے کی نیت سے انتخابی نشان سے محروم کرنے والا قاضی فائز عیسیٰ آج تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو چکا ہے جبکہ تحریک انصاف اور عمران خان اپنے نظریے کے ساتھ آج بھی پورے قد سے کھڑے ہیں۔ بلاشبہ جھوٹ اور بد دیانتی کی عمر ہمیشہ تھوڑی ہوتی ہے اور سچ ہمیشہ رہنے والا ہوتا ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس میں جج صریحا غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔ القادر کیس کا ٹرائل ہمیشہ 11:30 سے 12 بجے کے درمیان شروع ہوتا ہے۔ کل بھی اس کیس کی سماعت کے لیے 11 بجے کا وقت مقرر تھا لیکن میرے وکلاء کی آمد سے بھی قبل قریباً 9 بجے مجھے اطلاع دی گئی کہ جج صاحب آ گئے ہیں۔ میری نقل و حرکت جیل تک محدود ہوتی ہے اور میرا قانونی حق تھا کہ میں وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو سکتا جن کو عدالت کی جانب سے 11 بجے کا وقت دیا گیا تھا۔ پہلے دو مقدمات میں جج ابولحسنات اور محمد بشیر میری عدم موجودگی میں فیصلہ سنا چکے ہیں بالکل اسی طرح اس کیس کا فیصلہ بھی سنایا جا سکتا تھا مگر میری عدم موجودگی کا جواز بنا کر فیصلہ موخر کر دینا انتہائی مضحکہ خیز اور عدالتی نظام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس کا آغاز تب ہوا تھا جب حسن نواز شریف نے 9 ارب روپے کی پراپرٹی 18 ارب روپے میں ملک ریاض فیملی کو بیچی اور این سی اے نے مشتبہ ٹرانزیکشن پر کاروائی کا آغاز کیا ۔ این سی اے نے ہی ان سے سوال کیا کہ یہ جائیداد دگنی قیمت پر کیوں فروخت کی گئی ۔ سب سے پہلے تو نواز شریف اپنے بیٹے کا جواب دے کہ یہ 9 ارب روپیہ اضافی کس طرح انکے بیٹے نے ملک ریاض سے حاصل کیا ؟
جہاں تک ہمارے دور میں کابینہ کی اس حوالے سے ذمہ داری کا تعلق ہے تو یہ رقم براہ راست این سی اے نے ملک ریاض فیملی کے ذریعے پاکستان منتقل کی تھی اور ہمارا فرض صرف مخفی رکھنے کے اس معاہدے کو برقرار رکھنا تھا اور ہم نے پاکستان کے فائدے کے لیے منظوری دی کیونکہ اس سے پہلے ایک ساتھ پاکستان میں اتنی رقم کبھی نہیں آئی تھی۔
القادر ٹرسٹ کا اس رقم سے کوئی تعلق ہی نہیں وہ ٹرسٹ تو اس رقم کی آمد سے ایک سال قبل ہی قائم ہو چکا تھا اور اسکا مقصد صرف اور صرف دور دراز کے طلبا کو سیرت النبی ﷺ کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم دے کر انکے لیے علم کی شمع روشن کرنا تھا ۔
القادر ٹرسٹ سے مجھے یا بشرٰی بی بی کو ایک روپے کا بھی فائدہ نہیں ہے ۔ یہ ٹرسٹ شوکت خانم اور نمل کی طرز پر ایک فلاحی ادارہ ہے ۔ اس کو اگر بند بھی کر دیا جاتا ہے تو یہ رقم ان افراد کو واپس جائے گی جو اسکے donors ہیں مجھے اس رقم سے کوئی فائدہ ہے نہ نقصان۔
میں واضح کر دوں کہ میں کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں کروں گا چاہے یہ جو بھی حربے استعمال کر لیں میں کوئی نواز شریف نہیں ہوں جس نے اپنے اربوں کے کرپشن کیسز معاف کروانے ہیں ۔ میرا جینا مرنا پاکستان میں ہی ہے اور میں اپنی قوم کے لیے ہمیشہ کھڑا رہوں گا ۔
پاکستان میں سیاسی قیدیوں سے بدترین سلوک جاری ہے ۔ ملٹری تحویل میں ہمارے کارکنان کو سخت ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا یے ۔ میرے ساتھ بھی بدترین سلوک کیا گیا ۔ سمیع وزیر سمیت دیگر کئی کارکنان پر بیہیمانہ تشدد کیا گیا ۔ ہم انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی اس قانون اور انسانی حقوق کی پامالی پر ایکشن لیں۔ ہم اس حوالے سے سپریم کورٹ ، لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دے چکے ہیں مگر کہیں ہماری شنوائی نہیں ہوئی-
ہمارے پاس بین الاقوامی فورمز پر آواز بلند کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے ۔ اس حوالے سے میں عالمی انسانی حقوق کے اداروں کو ایک خط بھی لکھوں گا تا کہ ان بے قصور شہریوں کی شنوائی ہو ۔ میرا اوورسیز پاکستانیوں سے بھی مطالبہ ہے کہ اس حوالے سے اپنی آواز بلند کریں ۔ ملک میں تحریک انصاف کو کچلتے کچلتے پورے نظام کو ہی روند دیا گیا ہے ۔
ملک میں معیشت کا حال بدترین ہے ۔ بیرونی سرمایہ کاری تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے ۔ ایس آئی ایف سی اور اڑان پروگرام بری طرح ناکام ہوئے ہیں ۔ گروتھ ریٹ نہ بڑھنے سے ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے، شاندار دماغ اور سرمایہ ملک سے تیزی سے باہر جا رہا ہے کیونکہ کسی کو اس ملک کے استحکام پر یقین نہیں رہا ۔ پاکستانی کمپنیاں اپنا کاروبار دبئی منتقل کر رہی ہیں ۔ ایسے ملک میں کبھی معاشی استحکام آ ہی نہیں سکتا جہاں قانون کی حکمرانی نہ ہو ۔ پاکستان معاشی بحران میں دب چکا ہے اور جب تک عوامی اعتماد کی حامل حکومت نہ لائی گئی -اس مسئلے کا کوئی حل ممکن نہیں ہے-“
@safinakhan Everyone has his own way of thinking but my thinking is that PMLN is using military power/names and getting their advantages. When the difficult time comes in the military they will sideline themselves and then everything will have to face the military.
Whether you prefer electric or gas, our versatile design caters to all your needs. Imported thermostat ensures precise temperature control.🍳🔥
Visit our site to explore our products:
https://t.co/yC1VTPZhDW
+92 345 6911099
or visit our store today
.
.
#entirehomeappliances
Jummah Mubarak!
May this blessed day bring you peace, prosperity, and spiritual growth. Remember to:
- Seek forgiveness and mercy from Allah
- Show gratitude for His blessings
- Strengthen your bond with the community
- Reflect on your actions and intentions
آج موسیٰ خیل میں 23 معصوم شہریوں کے قتل نے شدید رنجیدہ کیا۔ یہ سانحہ ملک میں بدامنی اور بڑھتی دہشت گردی کی عکاسی کرتا ہے-
ملک میں معاشی و سیاسی عدم استحکام کے بعد اب دہشتگردی کا سر اٹھاتا ہوا عتاب اداروں اور کٹھ پتلی حکومت کی غلط ترجیحات کے باعث بد سے بدترین ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب وقت ہے کہ ساری توجہ ذاتی مفادات اور سیاسی انتقام سے بالاتر ہو کر ملک کو درست سمت میں گامزن کرنے کی طرف مرکوز کی جائے-
Message from Imran Khan, Founder of Pakistan Tehreek-e-Insaf, from Adiala Jail
1. I want to remind my nation that there have been two attempts on my life: first in Wazirabad, and then again at the Judicial Complex in Islamabad. The ISI stole the CCTV footage from Wazirabad, and the night before the attack in Islamabad, the ISI had taken control of the area where it happened.
Now they are even more nervous. In their panic, they have made my conditions in jail even tougher. The staff assigned to ensure that my food isn't poisoned has been changed for the fourth time. My cell is as hot as an oven. But despite these challenges, I will not give in or demand any special treatment.
The ISI controls all administrative matters related to my imprisonment. I’m saying it again: if anything happens to me, the Army Chief and DG ISI will be responsible.
There are rats in Bushra Begum’s room. They fall from above when she performs her prayers, and she has been complaining about this for three months. The court has now been informed.
2. I have already explained why the Islamabad rally was postponed. It had nothing to do with contacts with the establishment. This entire government runs on lies; I don’t even read the news about them. I have no contact with the establishment. If we do hold talks with them, it will only be for the sake of the country and the constitution.
3. Just like Israel asks Palestinians to forget about the past, you are asking me to forget the fraudulent elections! Peace and stability come from justice. The people of East Pakistan were seeking justice; they were not against us. Ensure that justice is served before talking about national reconciliation.
Cattle can be herded in a desired direction, not humans. Look at what happened in Bangladesh: the Army Chief, Chief Justice, and Police Chief were all loyal to the Prime Minister, but when the people took to the streets, they won their rights.
Despite everything, on February 8, 2024, in the elections, the nation rejected the false state narrative, especially concerning May 9th.
People admire the armed forces because they are seen as the defenders. Before the February 8th elections, a false flag operation was carried out against the nation, during which our people were subjected to violence and restrictions were imposed on our party. Yet, the people rejected the state narrative and made their stance clear.
An illegitimate Form 47 government has been imposed, which has no interest in institutional reforms. They have only increased borrowing and caused unprecedented inflation. Since all their wealth is stashed abroad, they don’t care whether Pakistan progresses or declines. Large multinational companies and skilled professionals are leaving the country. The CEO of Shaukat Khanum Hospital has informed me that it is becoming increasingly difficult to run the institution as many professionals are leaving. Only a government with a genuine mandate will be able to plan for fundamental reforms.
Anyone critical of the regime is labeled a digital terrorist. When internet services were shut down, people protested, but those in power couldn’t handle the criticism. No one is permitted to even voice their problems. The nation blames a specific institution for this.
I care about my country; my life and death are tied to Pakistan. I don’t have any wealth stashed outside the country, and I will not make dirty deals like Zardari or Nawaz Sharif. What is being done now is akin to suicide.
1/2
۲۰۱۷ میں عوام کو آواز اُٹھانا چاہئیے تھی: نواز شریف
عوام نے آواز اِس لئیے نہیں اُٹھائی کہ انہوں نے سوچا میاں صاحب پہلے کی طرح اس بار بھی کوئی ڈیل مار لینگے، ویسے بھی عوام سیاسی جماعتوں، اُنکے بیانیوں اور عہدیداروں کی راہنمائی میں سڑکوں پر نکلتی ہے، میاں صاحب کو تو ووٹ کو عزت دو کا جملہ لبوں پر لاتے ہوئے بھی اب شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
عوام نکلتی بھی ہے تو پہلی بار ایسی سحر انگیز شخصیت کے حامل سیاستدان کے لئیے جو ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر ماتحت فوج سے لین دین کرکے اپنی جماعت کو اقتدار کے پائدان سے لٹکائے نہ رکھتا۔
عوام کسی ایسے بزدل لیڈر کے لئیے نہیں نکلتی جو وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی پانامہ فیصلے سے پہلے جنرل باجوہ اور جنرل فیض کو برطرف کرتے کی ہمت نہیں رکھتا۔ عوام کیوں نکلتی ایسے شخص کے لئیے جو وزیر اعظم ہوتے ہوئے پہلے خاموشی سے اپنے ماتحت جرنیل کے ہاتھوں بلیک میل ہوتا رہا اور پھر اسی جرنیل کو اپنے سیاسی مخالف ایک دوسرے بزدل وزیر اعظم سے مل کر ایکسٹینشن بھی دی اور اُس پر برملا شرمندگی کا آج تک اظہار بھی نہیں کیا۔
عوام ایک ایسے سیاستدان کے ہیچھے کیوں نکلتی جس نے اپنے بھائی اور بیٹی کی نوکری کے لئیے اُسی باغی جرنیل سے مل کر عدم اعتماد کی تحریک لائی، اُس جرنیل کو این آر او دیا اور الیکشن کی بجائے اقتدار کی چوسنی منہ میں لے لی۔
کیوں نکلے گی عوام ایسے لیڈر کے لئیے جسکو تین مرتبہ وزیر اعظم بنانے کے باوجود وہ مصلحت کے تحت اب بھی اپنے نکالنے والوں کا نام نہیں لیتا، اپنے بھائی کی حکومت ہونے کے باوجود جنرل باجوہ اور جنرل فیض کیخلاف آئین سے غداری کا مقدمہ چلانے سے معذور ہے اور مجھے کیوں نکالا کا راگ الاپتا رہتا ہے۔
کیوں نکلے گی عوام ایسے لیڈر کے لئیے جو بیٹی کو وزیر اعلی اور بھائی صاحب کو وزیر اعظم بنوا کر ابھی بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کی ایکٹنگ کر رہا ہے-
جعلی انتخابی کامیابی کے الزامات پر ایک قومی لیڈر کی طرح فارم پینتالیس پریس کانفرنس میں رکھنے کی بجائے ایک لوکل کونسلر کی طرح وکیلوں کے ذریعے الیکشن ٹریبونل میں کیس لڑنے پر تیار ہے۔
ایسے لیڈر کا عوام سے سڑکوں پر نہ نکلنے کا گلہ کرنے کا کیا حق ہے کہ آج بھی بھائی بیٹی کی حکومت میں انٹرنیٹ سروس کی بندش اور متنازعہ قوانین کی ذریعے عوام کا گلا گھوٹنے پر خاموش تماشائئ ہے۔
ایک ایسا لیڈر جو نہ تو طکبا یونینز کے ذریعے نوجوان نسل کو سیاسی و نظریاتئ طور پر متحرک کر سکا اور نہ ہی پارٹی میں اہم عہدوں کے لئیے اپنی ذات اور خاندان سے آگے دیکھ سکا۔
کیوں نکلے عوام اُس کے لئیے جو آج بھی پریس کانفرنس عوام پر احسان سمجھ کر کرتا ہے اور انٹرویو کرنے کے خواہش مند میڈیا اور صحافیوں کو جوتے کی نوک پر لکھتا ہے کہ کہی منہ سے کچھ سخت بات نہ نکل جائے۔
پھر کہتے ہیں ۲۰۱۷ میں عوام کو نکلنا چاہئیے تھا۔ عوام کبھی بھی مصلحت اور ڈیل کرنے والے لیڈروں کے ہیچھے نہیں نکلتی، کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ ایسا ڈیلر ہمیشہ کی طرح اب بھی اُنکا سودا کر دے گا۔ بس مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ڈیل کر چکا ہے اور کوئی ڈیل کا منتظر ہے۔