They tried to silenced her voice,
chained her body to stone and steel,
yet resistance learned to breathe in silence.
Prison walls tremble before truth.
Oppression fractures where courage stands.
Baloch women rise—unbroken, unsurrendered.
#SaveBalochWomen
#EndEnforcedDisappearances
بلوچ قومی تحریک میں جہدِ مسلسل کا استعارہ ماما قدیر بلوچ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
بلوچ قومی تحریک میں جہدِ مسلسل کا استعارہ ماما قدیر بلوچ کو ان کی گراں قدر قربانیوں و طویل جدوجہد پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی بے لوث انقلابی جدوجہد و پیراں سالی میں ہمیشہ ڈٹے رہنے پر ادارہ اُن کو ہمیشہ یاد کرکے اس کی جدوجہد کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے بلوچ قومی تحریک کے اندر پیراں سالی میں جس ہمت و جوانمردی سے اپنی زمہ داریاں انجام دی ہیں، یہ بلوچ قومی تاریخ میں سنہری الفاظوں میں یاد رکھے جائیں گے۔ اس طویل و کھٹن سفر میں ان کی ہمت و حوصلہ کی داستان بلوچ قوم کو ہمیشہ رہنمائی کرے گی۔
انہوں نے بلوچ فرزندوں کے بازیابی کی خاطر اپنی زندگی کے سولہ سال اسی جدوجہد میں گُزاری اور اپنے تاریخی لانگ مارچ سے نا صرف جابر قوتوں کو بلکہ دنیا کو یہ باور کرایا کہ بلوچ قوم اپنی فرزندوں کی بازیابی کی جدوجہد میں کسی بھی طرح دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے پیراں سالی میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دنیا کی سب سے بڑی پیدل لانگ مارچ رکارڈ کروائی۔ انہیں اس سفر میں ریاستی اداروں کی طرف سے مسلسل ہراساں کرکے ان کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں مگر وہ اپنی جدوجہد سے ایک بھی قدم پیچھے نہیں ہٹی۔ انہوں نے اپنے فرزند جلیل ریکی کی جسدخاکی کو اپنے کندھوں پر اٹایا مگر ان کے حوصلے پست ہونے کے بجائے وہ مزید جرت و دلیری سے قومی جدوجہد میں شامل رہے۔ انہیں مسلسل مایوسی کا شکار کرکے ان کے خلاف من گھڑت افواہیں پھیلائی گئی مگر ان کی جدوجہد نے دنیا کے اندھے طاقتوں کی توجہ بلوچستان کی طرف مبذول کرنے پر مجبور کیا۔ کھٹن راستوں پر طویل لانگ مارچ ہو یا شال کی یخ بستہ سردی میں کیمپ میں بیٹنے کی زمہ داری، ماما اپنی ہمت و حوصلے سے بلوچ قوم کی خاطر ہمیشہ جوانمردی سے ڈھال کی طرح کھڑا ہوکر بلوچ قوم کے جبری گمشدہ فرزندوں کی منظم آواز بنی۔
انہوں نے عاجزی و جوانمردی سے جہدِ مسلسل کا فلسفہ اپنا کر ریاستی جبر کے شکار ہر فرزند کی مربوط آواز بنی جس سے قوم نے انہیں ماما کا اعزاز دیا۔ انہوں نے پیراں سالی میں عیش و عشرت یا پرسکون زندگی کو بلوچ قوم کے لئے وقف کردیے جس سے انہوں نے ثابت کیا کہ جب قوم غلام ہو اور وتن مقبوضہ ہو تو زِندگی کا مقصد جدوجہد کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ انہوں نے اپنی ہمت سے یہ باور کروایا کہ قومی تحریک کی خاطر جدوجہد عمر و جسمانی تندرستی کے محتاج نہیں بلکہ ان سب سے بالاتر ہمت، فکر و قومی شعور سے ہی ہم اپنے جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔
بلوچ وطن کے خاطر اپنی ہر چیز قربان کرنے و آخری سانس تک عاجزی و ایمانداری کے ساتھ بلوچ قومی تحریک سے جڑنے اور انقلابی کِردار ادا کرنے پر بلوچ قوم ان کی جدوجہد کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھی گی۔ ان کی جدوجہد و ہمت قوم کے لئے مشعل راہ ہے جو ہمیشہ ہمیں اپنی قومی جدوجہد میں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمت، ایمانداری و جہدِ مسلسل کے فلسفہ پر قائم رہتے ہوئے ہم اپنی عظیم آزادی کی طویل سفر میں کامیاب ہونگے۔
https://t.co/zqi26UfJYY
میرے والد کو آج جس جگہ سے ریاست کے مسلح اہلکاروں نے اغوا کیا، وہاں وہ انسانی خدمت انجام دے رہے تھے۔ وہ مجبور اور بے سہارا لوگوں کو منشیات سے دور رکھنے اور ایک نئی زندگی کی طرف راغب ہونے کی ترغیب دیتے تھے، انہیں تعلیم دیتے تھے اور ان کا سہارا بنتے تھے۔
جبری گمشدگیوں کے ذریعے اذیت اور انتظار کو ہماری قسمت بنائی گئی ہے، میرے بھائی سلمان بلوچ کی جبری گمشدگی اور تاحال عدم بازیابی نے ہمیں ایسے کرب میں مبتلا کر دیا ہے جہاں ہر گزرتا دن امید کی سانس لیتا ہے، ہم زندہ تو ہیں مگر زندگی مسلسل سوال بن چکی ہے۔
#ReleaseSalmanBaloch
ایمان مزاری اور ہادی علی کو مظلوموں کی آواز بننے پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ ہیش ٹیگ استعمال کرکے اُن کے ساتھ کھڑے ہوں۔
#StandWithImaanMazariAndHadiAli
آفتاب بلوچ لمز یونیورسٹی کا طالب علم ہے کل بروز جمعہ کلی قمبرانی سے لاپتہ کیا گیا تمام طلباء تنظیموں، سیاسی کارکنوں، صحافی وکلا، سمیت دیگر تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کرتے ہیں آفتاب بلوچ کے بازیابی کے لیے آواز اٹھائے
#SaveBalochStudents#releaseaftabbaloch
Balochistan is a place where various alleged atrocities by the state take place. These include enforced disappearances, mutilated bodies, and targeted killings,
We appeal to Humain Rights Organization political and social Activits Students lawyers Journalist's and people from all walks of life to raise voice and stand for Humanity
#ReleaseSaeedBaloch#SaveBalochStudents
He deserved a classroom, not a question mark hanging over his existence. And the silence around his disappearance screams louder than any protest ever could.
#ReleaseSaeedBaloch#SaveBalochStudents