لیکن وہ ننگا نہیں ہوا!
فوج ننگی ہوگئی
کیونکہ پہلی بار پتہ چلا کہ وہ سیاست میں مداخلت کرتی ہے۔
ن لیگ ننگی ہوگئی
کیونکہ پہلی بار پتہ چلا کہ وہ کرپٹ ہے۔
پیپلز پارٹی ننگی ہوگئی
کیونکہ قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ زرداری ڈاکو ہے۔
فضل الرحمن ننگا ہوگیا
کیونکہ قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ وہ منافق ہے۔
پھر ۔۔۔
قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ
عمران خان نے ایک شادی شدہ خاتون سے ناجائز تعلقات رکھے اور پھر اسے شوہر سے طلاق دلوا کر خود شادی کر لی،
وزارت عظمی کا منصب پا لینے کے بعد بھی نسیم زہرہ کی بہن، عائلہ ملک اور حریم شاہ وغیرہ سے فون پر سیکس کرتا ہے،
عمران خان ہم جنس پرست ہے اور کرکٹر ذاکر خان اور موبی کی بیوی بنا رہتا ہے،
عمران خان نے کتیا کے ساتھ بھی زنا کیا،
یتیم خانے کی بچیوں کو بھی نہیں چھوڑا،
لیکن وہ ننگا نہیں ہوا!
قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ
عمران خان نے اپنی حکومت میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا تھا،
سب سے بڑا قرضہ لے کر کوئی ایک میگا پراجیکٹ مکمل نہیں کیا،
حتی کہ کوئی ہسپتال اور یونیورسٹیاں تک نہیں بنائیں،
آئی ایم ایف سے تاریخ کا بدترین معاہدہ کیا جس کی وجہ سے مہنگائی آج بھی نہیں تھم رہی،
52 ارب ڈالر قرضہ لے کر بھی قومی خزانے میں صرف 11 ارب ڈالر چھوڑے تھے جن میں سے بھی 9 ارب ڈالر سعودی عرب، چین اور یو اے ای نے پارک کیے ہوئے تھے،
کرونا نہ آتا اور باقی ملکوں کی انڈسٹریاں بند نہ ہوتیں تو اسی دور میں ملک دیوالیہ ہوجاتا،
بیک وقت سعودی عرب، چین، امریکہ، یورپ، ترکی اور ملائشیا سے تعلقات بگاڑ لیے تھے،
انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کر لیا یہ جواب میں ہارن بجاتا رہا،
ایران جاکر دہشتگردی کا اعتراف کر آیا،
افغانستان بھاگے ہوئے تمام دہشتگردوں کو بغیر سرنڈر کروائے واپس لے آیا،
ملک کے بڑے بڑے فیصلے اپنی تعویز گنڈوں والی بیوی کی راہنمائی سے کرتا رہا جو فال اور شگون کی روشنی میں مشورہ دیتی رہی،
کے پی پر 9 سال میں اتنا قرضہ چڑھا دیا کہ وہاں اب سرکاری تںخواہیں اور پنشن دینے کے لالے پڑ گئے ہیں،
ہر عہدے کے لیے بدترین شخص کا انتخاب کیا،
غرض ہر لحاظ سے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا،
لیکن وہ ننگا نہیں ہوا!
قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ
عمران خان وزیراعظم ھاؤس سے صرف ڈائری لے کر نہیں نکلا تھا بلکہ پورا توشہ خانہ بھی سمیٹ کر لے گیا تھا اور کم از کم 20 ملین ڈالر کے تحائف چرائے،
سکھوں نے سونے کا لوٹا دیا وہ بھی چرا لیا،
ساتھ ہی وزیراعظم ھاؤس سے خفیہ دستاویز سائفر بھی لے گیا،
نواز شریف کی لندن مین 6 ملین پراپرٹی کا حساب مانگنے والے نے ملک ریاض کو اسی لندن سے وصول ہونے والے ثابت شدہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کی رقم آرام سے واپس بخش دی اور اس سے سوال تک نہیں کیا،
بدلے میں ملک ریاض سے زیورات اور سینکڑوں ایکڑ زمین تحفتاً وصول کی،
اپنے حامی تاجروں میں 3000 ملین ڈالر ریوڑیوں کی طرح بانٹ دئیے جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن سکینڈل ہے،
ایف بی آر کو ہدایت دی کہ شاہد محمود قریشی اور اسد قیصر کے زمینداروں سے ٹیکس وصول نہ کیا جائے،
ورلڈ کپ کے آخری میچ کے بعد کل چار سے پانچ بار میچز میں کمنٹری کے سوا ایک دھیلا نہیں کمایا لیکن کروڑوں روپے ماہانہ خرچ کرتے ہیں جس کی کمائی یا شوکت خانم سے آتی ہے یا چندوں کےنام پر لوگوں کی جیبوں سے نکلواتے ہیں،
شوکت خانم کے پیسوں پر پراپرٹی کا بزنس کیا اور کروڑوں روپے ڈبو دئیے،
چیرٹی میچ کھیلا اور جمع ہونے والے دو ملین ڈالر اپنی جیب میں ڈال لیے،
عالمی اداروں نے رپورٹ کی کہ پاکستان میں کرپشن تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے،
لیکن وہ ننگا نہیں ہوا!
قوم کو پہلی بار پتہ چلا کہ
عمران خان انتہا درجے کا جھوٹا ہے،
انتہا درجے کا منافق ہے،
انتہا درجے کا توہم پرست ہے،
انتہا درجے کا کینہ پرور ہے،
انتہا درجے کا زانی اور بدکار ہے،
جھوٹا ہونے کے باؤجود انتہاء درجے کا بےوقوف ہے،
اپنی کہی ہوئی باتوں سے پھر جانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا،
غلط فیصلے کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا،
انتہا درجے کا احسان فراموش ہے،
انتہا درجے کا فسادی ہے،
اور انتہا درجے کا متکبر ہے،
اقتدار کی ایسی ہوس ہے کہ کرسی کے حصول کے لیے پورے ملک کو داؤ پر لگا سکتا ہے،
لیکن وہ ننگا نہیں ہوا!
عمران خان ننگا ہوا یا نہیں اس کا دارومدار اس پر ہے کہ آپ اس کی پیروی کرتے ہیں یا نہیں!
تحریر شاہد خان
#shameful
#ImranKhanPTI