I extend my deepest condolences on the martyrdom of Dr Ali Larijani, Secretary of Iran’s Supreme National Security Council, who was martyred along with his son and guards in an Israeli airstrike. This is a grave loss for the Islamic Republic of Iran and for all those who stand against aggression and injustice.
To his family, I offer heartfelt condolences. No words can fill the void left by such a loss. May Allah grant you patience and strength, and raise the ranks of the martyrs in the hereafter. To the people of Iran, I share your grief at a moment that once again tests your resilience. To the government of the Islamic Republic, I convey condolences on the loss of a leader who remained closely associated with the country’s strategic direction.
I also extend my condolences to Supreme Leader Ayatollah Mojtaba Khamenei. Dr Larijani was regarded as a trusted figure within the Islamic Republic, aligned with its long term vision on national security, nuclear policy and regional engagement.
I would in particular like to recall that in the days before his martyrdom, Dr Larijani addressed a letter to Muslim governments and societies, urging unity in the face of what he described as American and Israeli aggression. He questioned the silence of many states and framed the present moment as a test of political and moral clarity. That message will likely continue to resonate among those who are committed to Muslim causes.
His martyrdom is part of a broader pattern of sacrifices being rendered for liberation of Al Quds and resistance against imperialism.
May Allah accept his sacrifice, grant patience to his family, and guide the region towards peace and justice.
انا لله و انا علیه راجعون
دنیا کے دو ارب مسلمانوں میں سے صرف یہ ایک 86 سالہ مسلمان زندہ تھا، جس نے خم ٹھونک کر استعمار اور سامراج کی سب سے بڑی ط��قت کا نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنی قوم کو مزاحمت کیلئے تیار کیا۔ محلات، پُر تعیش زندگی، شان و شوکت کو ٹھوکر مار کر درویشی کی زندگی گزاری، نہ کوئی بیرون ملک اثاثہ، نہ فیکٹریاں، نہ رئیل اسٹیٹ، پہلے بہو اور داماد شہید ہوئے اور پھر خود، وہ طاغوت کیلئے موت کا سایہ اور مستضعفین زمانہ کیلئے امید تھے، زندگی وہ ہے جو انہوں نے گزاری اور موت کی سعادت بھی وہ ہے جو انہیں طاغوت سے ٹکرا کر نصیب ہوئی نہ کہ کسی محل کے بستر پر۔ کچھ لوگ ایسی زندگی گزارتے ہیں کہ زندگی کو اُن سے گِھن آتی ہے لیکن خامنہ ای جیسے لوگ جب زندہ ہوں تو زندگی ان پر رشک کرتی ہے اور جب مریں تو موت بھی اشک بہاتی ہو گی
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
انا للّٰه و انا الیه راجعون
مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجالٌ صَدَقُوا ما عاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَ ما بَدَّلُوا تَبْدِيلاً
(مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کر چکے (یعنی جامِ شہادت نوش کر چکے)، اور کچھ انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں ذرّہ برابر بھی تبدیلی نہیں کی۔)
I strongly condemn the reckless and unlawful military attacks launched by the United States and Israel against Iran on 28 February 2026. These strikes hit Iranian cities and key sites while serious negotiations through Oman were making real progress.
This timing makes it clear that the talks were used as cover for a pre-planned aggression. Diplomacy was sabotaged deliberately. Who can trust any negotiation process now when advances in talks lead straight to bombardment? The Israeli claim of a "preemptive" strike is absurd. There was no evidence Iran planned any attack on Israel.
Such actions by the US under Trump and Israel under Netanyahu are a grave violation of international law, including the UN Charter. They risk turning the Persian Gulf and the wider Middle East into a catastrophe. The entire prospering region is now on fire because of this madness.
Iran's response is a legitimate act of self-defence under Article 51 of the UN Charter.
I call on the government of Pakistan to categorically and unequivocally condemn this aggression against Islamic Republic of Iran.
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ حملے اُس وقت ایرانی شہروں اور اہم مقامات پر کیے گئے جب عمان کی ثالثی میں جاری سنجیدہ مذاکرات مثبت پیش رفت کی جانب گامزن تھے۔
حملوں کا یہ وقت اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مذاکرات کو محض ایک پردے کے طور پر استعمال کیا گیا اور پہلے سے طے شدہ جارحیت کو عملی جامہ پہنایا گیا۔ سفارت کاری کو دانستہ طور پر سبوتاژ کیا گیا۔ اب کون کسی مذاکراتی عمل پر اعتماد کرے گا، جب بات چیت میں پیش رفت کا انجام براہِ راست بمباری کی صورت میں نکلے؟ اسرائیل کی جانب سے “پیشگی حملے” کا دعویٰ بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے، کیونکہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ایران اسرائیل پر کسی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
امریکہ میں Donald Trump کی قیادت اور اسرائیل میں Benjamin Netanyahu کی حکومت کے تحت کیے گئے یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، بالخصوص اقوامِ متحدہ کے چارٹر، کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ یہ کارروائیاں خلیج فارس اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ ایک ترقی کرتی ہوئی اور اہم خطہ اب اس غیر دانشمندانہ طرزِ عمل کے باعث آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔
ایران کا ردِعمل اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹ��کل 51 کے تحت اپنے دفاع کا جائز اور قانونی حق ہے۔
میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اس جارحیت کی دوٹوک اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرے۔
#Iran
We have been informed that my father, Imran Khan, has lost most of the vision in his right eye, with reports indicating only 15% eyesight remains. This is the direct consequence of 922 days of solitary confinement, medical neglect (denied blood tests) and the deliberate denial of proper treatment in jail.
The responsibility lies squarely with the regime in power, the Army Chief and the puppets enabling this cruelty. This physical deterioration is happening under their orders, their watch and their responsibility. They have manipulated and warped the justice system in order to keep my father in solitary confinement.
My brother and I are still being denied visas to see our father as his health deteriorates. History will record this injustice.
We urge human rights bodies, legal institutions and democratic nations to confront this persecution and ensure those responsible face consequences.
عمران خان کی آنکھوں کی بینائی شدید متاثر ہو گئی، مگر افسوس کہ بروقت اور مؤثر علاج فراہم نہیں کیا گیا۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ قوم کو مسلسل یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ وہ بالکل صحت مند ہیں اور انہیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ اگر خان صاحب کو ان کے اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقاتوں کی اجازت دی جاتی، اگر طبی معائنے شفاف انداز میں ہوتے اور رپورٹس منظرِ عام پر لائی جاتیں، تو شاید نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔
زیرِ حراست کسی بھی شخص کی جان اور صحت کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر انسانی حقوق اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم کرنا کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ علاج میں تاخیر، معلومات کو چھپانا، اور خاندان کو محدود رسائی دینا نہ صرف غیر انسانی رویہ ہے بلکہ آئینی و قانونی ذمہ داریوں سے روگردانی بھی ہے۔
میں بطورِ قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ، اس معاملے کی مکمل تفصیل، شواہد اور ٹائم لائن تمام قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور پاکستان میں تعینات سفیروں کو باضابطہ طور پر ارسال کر رہا ہوں تاکہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک آزاد اور شفاف میڈیکل بورڈ فوری تشکیل دیا جائے، مکمل طبی ریکارڈ منظرِ عام پر لایا جائے، اور ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
یہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں، یہ اصول کا معاملہ ہے۔ اگر آج ایک سابق وزیرِ اعظم اور ملک کے مقبول عوامی رہنما کے ساتھ ایسا سلوک ہو سکتا ہے تو ایک عام شہری کے حقوق کس حد تک محفوظ ہیں؟ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اختلاف کو انسانی وقار اور بنیادی حقوق پر غالب نہ آنے دے۔
انصاف، شفافیت اور انسانی حرمت کا تقاضا ہے کہ اس معاملے کو فوری اور سنجیدگی سے حل کیا جائے، تاکہ آئندہ کسی بھی قیدی کو ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
(سینیٹ سیشن سے خطاب)
کمالِ خلقِ کبریہ، حسینؑ تھا حسینؑ ہے
جمالِ نورِ مصطفیٰؐ، حسینؑ تھا حسینؑ ہے
حسینیتؑ کے قافلو، تمہیں غلام کا سلام
جو گام گام منزلیں ہیں، اُن تمام کو سلام
سواریِ سالارؑ کے، رگ و لگام کو سلام
اے خاکِ راہِ شاہِؑ حق، تیرے امامؑ کو سلام
ابد سے میرِ قافلہ، حسینؑ تھا حسینؑ ہے
کمالِ خلقِ کبریہ، حسینؑ تھا حسینؑ ہے
— غلام مسکین
بارہ دن کی جنگ میں ایران کو نہیں ہرا سکے تو صیہونی اپنی آبائ خصلت پر آگئے۔۔۔۔۔۔۔
تین دن سے سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔ کیونکہ یہ اصل جنگ لڑنے سے زیادہ آسان ہے۔
بھاگنا ان کی آبائ خصلت ہے۔ جنگِ خیبر کا دکھ انھیں صدیوں سے کھایا جارہا ہے۔
مسلم اتحاد ک یہی وقت ہے۔ آئیں مل کر ان کا مقابلہ کریں۔
"You just said it wasn't tit for tat?"
I challenged Pakistani defense minister Khawaja Asif on the ongoing imprisonment of Imran Khan, which UN experts have called arbitrary and illegal. Is it just revenge, retaliation, by the Sharifs?
Full interview: https://t.co/O4MCnkqWJJ
مہدی حسن: عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کے مطابق وٹس ایپ کال پر ٹرائل چل رہا ہے۔ نہ آواز آ رہی تھی نہ جا رہی تھی لیکن ٹرائل چلتا رہا۔
خواجہ آصف: یہ جھوٹ ہے۔ عمران خان تو جیل سے ٹویٹر چلا رہا۔
مہدی حسن: آپ نے تو چند دن پہلے کہا تھا کہ عمران خان کا ٹویٹر انڈیا سے چل رہا ہے؟ 😂
شبر زیدی 🔥🔥🔥
عمران خان کو یہ ملک بدترین معاشی حالات میں دیا گیا۔
انہوں نے معیشت کو سنبھالا، اصلاحات کیں، سمت درست کی۔
اور میں یہ بات لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ
جب عمران خان کو اقتدار سے ہٹایا گیا،
تب بھی معیشت بہتر حالت میں تھی۔
لیکن ان کے بعد جو آئے، انہوں نے آتے ہی
ہر چیز کو برباد کر کے رکھ دیا
حامد میر کی سب سے بڑی خوبی 🚨
وہ آپ کو ثبوت کیساتھ نیشنل ٹیلی ویثرن پر بٹھاکر ایسا ذ��یل کریں گے کہ گھر جاکر گھر والوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہونگے !!
زیارت عاشورا (1)
السَّلامُ عَلَیْکَ یَا أَبا عَبْدِاللّٰهِ، السَّلامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ رَسُولِ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر اے ابا عبد اللہ، سلام ہو آپ پر اے رسول خدا کے فرزند