احباب کے اصرار پر میں نے یہ کورس ترتیب دیا ہے جو آپ کو کلاڈ کی بنیادی معلومات سات دن میں سکھا دیگا۔ اس ٹویٹ کے نیچے کورس انگریزی میں لگا ہے اور پہلے کمنٹ میں یہی کورس اردو میں ہے۔ جیسے کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ اے آئی خود بہترین استاد ہے۔ ہمت کریں اور شروع ہوجائیں
@awaissaleem77 آجکل آپ اور موترم موسم جہازی بے روزگار ہیں ؟
دونوں پاکستان اور حکومت کے بابت اوورٹائم لگا رہے ہیں
امریکہ میں رہتے ہوئے کوئی تعمیری کام کرنے ، اپنی فیملی کے مستقبل بارے فکر مندی یا کمیونٹی کیلئے کچھ اچھا کرنے کا سردرد نہیں ہے آپکو
مطلب اتنی دانشوری کیسے ہضم ہوجاتی ہے آپ دونوں کو🤔
اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار سے متعلق سامنے آنے والے کیس کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ پولیس نے واقعے کے مختلف پہلووٴں کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
جو بات مجھے پتہ چلی حقائق کچھ اس طرح سے ہیں
پولیس کو 15پر ایک کال موصو ل ہوتی ہے ،غیر ملکی نمبر سے کال کرنے والے شخص نے پولیس کو بتایا کہ میں لڑکی کا والد بول رہا ہوں یہ لڑکیاں اغواہوئی ہیں،جو نام ون فائیو پر کال پر بتائے گئے اُن میں رضا ڈار کا نام بھی شامل تھا ،رضاڈار کانام ہونے کے باعث کال سے متعلق فوراً آئی جی پنجاب کو آگاہ کیاجاتاہے۔جس پر آئی جی پنجاب وزیراعلی ٰپنجاب مریم نوازکو مذکورہ کال سے متعلق آگاہ کرتے ہیں،جواب میں مریم نواز کہتی ہیں آپ کے پاس دوگھنٹے ہیں مجھے لڑکیاں بازیاب چاہئیں ۔اس کے بعد اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار کو مذکورہ کال سے متعلق بتایاجاتاہے، تو اس لڑکے کے پاس ایک جرمنی کا نمبر ہوتا ہے جو علی ڈار کے پاس ہے،علی ڈار اپنے بھانجے سے اُس نمبر پر رابطہ کرکے پوچھتے ہیں جسے اپنے خلاف کمپلین کا علم نہیں ہوتا ،پھر علی ڈار اپنے بھانجے سے پوچھتے ہیں تم کہاں ہو ،بھانجا اپنی لوکیشن بتاتا ہے ۔جیسے ہی لوکیشن علی ڈار کو موصول ہوتی ہے وہ فوری لوکیشن پولیس سے شیئر کردیتے ہیں جس کے بعد پولیس حرکت میں آتی ہے اور علی ڈار کے بھانجے کو بغیر کسی تاخیر مذکورہ لوکیشن کے مقام سے تحویل میں لیا جاتا ہے ۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان لڑکیوں کی اسی رات تقریباً ایک بجے اسپین روانگی کے لیے پرواز بک تھی۔ تاہم پولیس کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ لڑکیاں اس مقام پر موجود نہیں تھیں بلکہ بعد میں انہیں ایئرپورٹ کے قریب سے تحویل میں لیا گیا۔ ابتدا میں لڑکیاں پولیس کو دیکھ کر خوفزدہ ہوئیں، تاہم پولیس نے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ان کے والد کی اطلاع پر انہیں حفاظتی تحویل میں لیا جا رہا ہے۔
پولیس لڑکیوں کو ایئر پورٹ کے پاس سے حراست میں لیتی ہے اور انھیں بتایا جاتا ہے کہ آپ کے والد نے پولیس کو ون فائیو پر کال کی تھی ،گھبرائیں مت آپ ہمارے ساتھ چلیں ،اس کے بعد پورے وقوعے کی ایف آئی آر درج ہوتی ،جس کے بعد رضا ڈار سمیت لڑکیوں کو مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے جہاں لڑکیاں اپنی مرضی سے بیان دیتی ہیں،مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا بیان وہی ہوتا ہے جو پولیس کے سامنے ایف آئی آر درج کرانے کیلئے بیان دیا گیا ۔اب اس سارے معاملے کی تفتیش شروع ہوچکی ہے اور مذکورہ لڑکیوں کاپاسپورٹ نمبر ودیگر تفصیل اس وقت پنجاب پولیس کے پاس ہے ۔بعدازاں والد نے ان کی ٹکٹس کروائیں اوروہ پاکستان سے باہر چلی گئیں ،اس سارے میں مریم نواز” ان ایکشن“ تھیں ۔کیونکہ اس مذکورہ کال کی تفصیل سب سے پہلے 15 پر تھی اس کے بعد انہوں نے مذکورہ کال سے متعلق آئی جی پنجاب کو بتایا انہوں نے اس سے متعلق مریم نواز کو آگاہ کیاجس پر انہوں نے کہا کہ دوگھنٹے کے اندر یہ سب کام کرکے دیں ،فیملی کامعاملہ ہونے کے باوجود مریم نواز نے ایک قانون کی مثال قائم کی انہوں نے قانون کو اپنا راستہ لینے دیا ،اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہورہی ہے ۔
@iamthedrifter What’s wrong in that ?
If you don’t like it or can’t spin it your way then no one can help you .
You should sit abroad and enjoy old age benefits rather spend three hours on your makeup and set your useless narrative on YouTube and other socials mediums ..
@realrazidada دادا یہ سارے باسی جیالے یکدم ایکٹیو ہو گئے ہیں ، شفقت حسین سے طاہر ملک اور نصرت جاوید تک ایکدم متحرک ہو گئے ہیں حکومت کے خلاف …
کہیں سے تو اشارہ ہوا ہے
اسحاق ڈار کے نواسے کو 2گھنٹوں میں 15کی کال پر گرفتار کریا
کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا
بطور وزیراعلیٰ مریم نواز کے کردار میں کوئی کوتاہی نظر نہیں آرہی۔