یہ ہری پور کی 5 سالہ آیت نور ہے ۔ جس کیساتھ متعدد افراد نے جنسی زیادتی کی ۔3 ملزمان پکڑے گئے ہیں لیکن آیت نور کا کچھ اتا پتا نہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی نشاندہی پر کھاد فیکٹری گراؤنڈ میں کئی روز سے تلاشی اور کھدائی کی جارہی ہے، لیکن وہاں سے بھی ابھی تک بچی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
آیت نور ہری پور میں تھانہ TIP کی حدود، پٹھان کالونی سے 9 اگست کو لاپتہ ہوئ��۔ اہل خانہ کے مطابق وہ گھر سے باہر گلی میں کھیلنے گئی تھی اور پھر واپس نہیں آئی۔ والد محمد شفیق مٹھائی کی دکان پر کام کرتے ہیں۔
ٓمقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس اصل مجرمان کو بچانے کی کوشش کررہی ہے لوگ سوال اٹھارہے ہیں کہ اگر ملزمان نے واقعی مکمل اور رضاکارانہ اعتراف کیا، تو ان کی نشاندہی کے باوجود آیت نور کیوں نہیں مل رہی؟
18 اگست تک صورتحال یہ تھی کہ آیت نور سمیت ہری پور کے مختلف علاقوں سے ایک ہفتے کے دوران تین بچے لاپتہ ہوئے اور پولیس کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچی ۔
ہم اپنے بڑوں سے تمیز سے سوال بات اور بحث بھی نہیں کر سکتے چاہے وہ گھر میں ہوں نوکری والی جگہ پر یا سوشل میڈیا پر۔۔۔
سوال کیوں کیا۔۔۔
تو تسلی کیسے ہو اس نسل کی تسلی نہیں ہے تو دل بے حس ہی ہوں گے نااااااا۔۔ 💔
ہم اپنے بڑوں سے تمیز سے سوال بات اور بحث بھی نہیں کر سکتے چاہے وہ گھر میں ہوں نوکری والی جگہ پر یا سوشل میڈیا پر۔۔۔
سوال کیوں کیا۔۔۔
تو تسلی کیسے ہو اس نسل کی تسلی نہیں ہے تو دل بے حس ہی ہوں گے نااااااا۔۔ 💔
پاکستان میں حبیب جالب ایسے جن لوگوں نے اعلی اصولوں کی خاطر قربانیاں دیں ان کی اولاد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی کی تعلیم۔متاثر ہوئی، کوئی شدید غربت و محرومی کا شکار ہوا۔
@haroon_natamam آپ کا جواب پڑھا شکریہ
رسول اللہ کا حسنِ اخلاق اور معافی کا سبق بالکل درست ہے
میں صرف یہ عرض کیا کہ سیاق و سباق کا لحاظ بھی ضروری ہے
سورہ توبہ و احزاب میں غداروں کے لیے الگ رہنمائی ہے
قلم کو تلوار بنانے سے مراد بدتمیزی نہیں بلکہ حق بات کو حکمت سے واضح کہنا ہے
ایک سال میں پیاز 132 فیصد اور ٹماٹر 93 فیصد مہنگے ہوئے: ادارہ شماریات
آٹا 62.25 فیصد، ایل پی جی 51.69 فیصد، ڈیزل 33.08 فیصد اور پیٹرول ایک سال میں 27.65 فیصد مہنگا ہوا۔
مصر کا مقبول ترین عوامی لیڈر محمد مرسی ایک پاکستانی کو اپنا رہنما مانتا تھا
محمد مرسی 3 لوگوں سے ��دید متاثر تھے ۔ ان میں سے دو کو فوج نے قتل کیا ۔ جبکہ ایک کو سزائے موت سنائی گئی لیکن اس پر عمل نہ ہوسکا ۔
ان میں سے ایک حسن البناء کو 12 فروری 1949ء کو مصری کی انٹیلجنس نے قاہرہ میں گولیاں مار کر زخمی کردیا۔ پھر کرفیو لگادیا گیا ۔ ڈاکٹروں کو علاج نہیں کرنے دیا گیا ۔ خون بہنے کی وجہ سے وہ خالق حقیقی سے جا ملے ۔ مصر کی تاریخ کے مقبول ترین لوگوں میں سے ایک حسن البنا کے جنازے کو گھر کی خواتین نے کاندھا دیا ۔
دوسرے رہنما سید قطب کو مصری فوجی ڈکٹیٹر جمال عبدالناصر نے 29 اگست 1966ء کو پھانسی دی ۔ سید قطب کا لٹریچر آج بھی دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں پڑھا جاتا ہے ۔
تیسرے پاکستان کے سید ابواعلیٰ مودودی کو 1953 میں سزائے موت سنائی گئی ۔ جو شدید عوامی دباؤ اور سعودیہ انڈونیشیا ملائشیا و دیگر مسلم ممالک کی براہ راست مداخلت پر عمر قید میں بدلی ۔ جس ایکٹ کے تحت سزا سنائی گئی بعد میں وہ حکومت نے واپس لے لیا تو یہ سزا بھی ختم ہوگئی ۔
ڈاکٹر محمد مرسی نے متعدد بار واضح الفاظ میں یہ اعتراف کیا کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریریں اور ان کی اسلامی طرزِ حکومت کی فکر ان کے لیے اور عرب دنیا کی اسلامی تحریکوں کے لیے ہمیشہ ایک رہنما اصول (مینارِ نور) رہی ہیں۔
ترکیہ کے طیب اردگان اور ان کے استاد نجم الدین اربکان بھی حسن البنا اور سید قطب سے متاثر تھے ۔ لیکن ان میں سب سے کامیاب اردگان رہے ہیں ۔ اخوان ٹائپ اسلامی تحریکوں کے اکثر رہنماؤں کو سزائے موت جیسی سزاوؤں کا سامنا کرنا پڑا ۔
لاہوت شہر کے بعض food vlogers ریستوران کے مالکان کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ اس قدر کہ وہ ریسٹورنٹ بند کرنے پہ سوچنے لگتے ہیں۔ پہلے وہ کم پیسے لے کر ویلاگ بناتے ہیں۔ پھر دس گنا تک مانگتے ہیں۔معذرت کی جائے ت مخالفت میں مہم چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض تو بدنام کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔لاہور کےاخبار نویسوں کو ان جہلا کے خلاف ریسٹورنٹ مالکان کی مد کرنی چاہیے ان لوگوں کو بے نقاب کرنا چاہیے۔ اسے بھی جس کا نام ایک چینی جانور کے نام پر ہے۔اس احتیاط کے ساتھ۔ کہ معاوضہ تو کیا ،خواہ وہ اصرار کریں ،��ن کے ہاں قیمت ادا کئے بغیر کھانا بھی نہ کھائیں ۔ اسی کا نام صحافت ہے۔ جرم کی روک تھام اور مظلوم کی مدد۔ بعض دوسرے ضروری اور بنیادی کام تو مشکل ہو گئے۔ سما جی خدمت ہی انجام دیں۔