عربی ٹیچر کی پرموشن کی کوئی کیٹاگری نہیں ہے۔ وہ سکیل 15 میں بھرتی ہوتا ہے اور اسی میں ریٹائر ہوتا ہے۔ نہم دہم اورگیارویں بارویں میں عربی ٹیچر موجود نہیں ہے
@DrMuradPTI
@Teachers_Voiz
@AUkhan2U
@MRaasUpdates
@AeoVoice
@Punjab_Educato
@SchoolEduPunjab@UstadSays@UsmanAKBuzdar
جب سے آن لائن ٹرانسفر آیا ہے فیمیل کا ویڈلاک ٹرانسفر ناممکن ہو گیا ہے۔ ہر بار سیم رجیکشن۔
درخواست ہے کہ اس بار فیمیل کے ٹرانسفر پر کوٹہ رسٹریکشن ختم کریں
ISRAEL IS A TERRORIST STATE!
ISRAEL IS A TERRORIST STATE!
ISRAEL IS A TERRORIST STATE!
ISRAEL IS A TERRORIST STATE!
ISRAEL IS A TERRORIST STATE!
ISRAEL IS A TERRORIST STATE!
ISRAEL IS A TERRORIST STATE!
ISRAEL IS A TERRORIST STATE!
ISRAEL IS A TERRORIST STATE!
اساتذہ کا پرامن احتجاج شور یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہے، بلکہ ایک درد بھری، خاموش اپیل ہے کہ وعدوں کو عملی شکل دی جائے، اور استاد خود محفوظ، باعزت اور مطمئن محسوس کرے۔ یہ صرف ان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرتی نظام اور آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے
نہ کوئی پالیسی نہ کوئی سلیبس۔ نہ کوئی فنانس کا ایسا نوٹیفیکیشن جس میں ھیڈشپ الاؤنس ریوائز کا کوئی ذکر ھو۔
اور ٹیسٹ سنٹر بنائے جا رھے۔
خدا خیر ہی کرے۔
دانہ ڈالا جا رہا
پرائمری 5 ہزار
ایلیمنڑی 7 ہزار
ھائئ 8 ہزار
ھائر سینکڈری 10 ہزار
۔ حالانکہ اب تو نہم، دہم، گیارہویں اور بارہویں جماعت میں ترجمۃ آلقرآن لازمی سبجیکٹ کے طور پر پڑھایا جا رہا ہے مگر اس کے لیے عربی ٹیچر موجود ہی نہیں ہوتا۔ آپ جناب سے التماس ہے کہ سکیل 15 کے بعد عربی ٹیچر کی پروموشن کی کیٹگری بنائی جائے۔
شکریہ جزاک اللہ
@RanaSikandarH
السلام علیکم!
جناب وزیر تعلیم رانا سکندر حیات آپ کی توجہ عربی ٹیچر کی طرف درکار ہے۔ عربی ٹیچر کی پرموشن کی کوئی کیٹاگری نہیں ہے۔ وہ سکیل 15 میں بھرتی ہوتا ہے اور سکیل 15 پر ہی ریٹائر ہو جاتا ہے۔ اور باقی آرٹس اور سائنس سب سبجیکٹ کی پرموشن اگلے سکیل میں ہوتی رہتی ہے
تمام ٹیچرزاور ٹیچرز یونینز کی جناب وزیر ِتعلیم سے اپیل ہے کہ اس پالیسی پر نظرثانی فرمایٸں اس سلسلہ میں چند تجاویز پر غور کریں
1_15 اکتوبر تا 30 نومبر اوقات ِمدرسہ
8بجےسے 1:30
2_1دسمبر تا 15 مارچ 8:30 سے 2بجے
3_15مارچ 15 اکتوبر 7:30 تا 1بجے
copied
@DrMuradPTI@SchoolEduPunjab
”موسمِ سرما اور اوقاتِ مدرسہ“
ماہ اکتوبر سے ایک طویل اور تھکا دینےوالے اوقاتِ مدرسہ کا آغاز ہونے جارہا ہے جو کہ پانچ ماہ طویل ہیں سال ہا سال سے بغیر سوچے سمجھے معروضی طور حالات کا تجزیہ کیۓ بغیر اس پالیسی کو لاگو کر دیا جاتاہے موسمِ گرما اب تقریباً نومبر تک چلا جاتا ہے
وقفہ کے بعد کلاس میں عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے ہیں انہیں بھوک ستا رہی ہوتی ہے نیند آنے لگتی ہے جس سے اہم مضامین کا ٹائم ٹیبل بنا مشکل ہو جاتاہے
سکولوں میں دستیاب اشیاء مہنگی ہوتی ہیں اکثر طلباءافورڈ نہیں کرتے نتیجہ یہ ہوتا ہے دوسرے بچوں کو دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں