تھرپارکر کے ریگستان آج صرف ریت کے ٹیلوں کا منظر نہیں، عوامی قوت کی تصویر بن چکے ہیں۔ سومراسر، ڈِپلو میں امڈتا ہوا یہ عوامی سیلاب اس بات کا اعلان ہے کہ سندھ کے دور دراز علاقے بھی سیاسی شعور کی نئی لہر سے جڑ چکے ہیں۔
(سمیع سواتی)
#جےیوآئی_سندھ_کی_آواز#امن_عالم_اجتماع_سکھر
#سندھ_راشدسومرو_کے_سنگ
#مستقبل_جےیوآئی_کا
#سندھ_جےیوآئی_کیساتھ
آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔
جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔
ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔
لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔
ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔
ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟
اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔
آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔
جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔
یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟
نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔
دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔
اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔
ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں
اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔
اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔
ملکی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو سیاسی لحاظ سے کمزور کیا گیا جس سے فوج کو مارشل لا لگانے کے مواقع ملے۔
قیام پاکستان کے ٹھیک گیارہ سال بعد سن 1958 میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مارشل لا لگایا اور دس سال تک وہ حکمران رہے،یہ ملک نظریاتی،سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے کمزور ہوا
ہم نے پاکستان کا پانی بیچا، تین دریاؤں کو ہم نے ہندوستان کے حوالے کردیا، اور آج بھی ہم پانی کی مشکل سے نکل نہیں پا رہے ہیں،یہ ڈکٹیٹروں کے فیصلے ہوتے ہیں۔
بظاہر تو کہا جاتا ہے کہ سیاست دان ناکام ہوگئے، یہ تو کرپشن کرتے ہیں، لیکن جب سن 1958 میں مارشل لا لگیا گیا اور ٹھیک مارشل لا کے دو سال بعد پاکستان کے تین دریاؤں کو ہندوستان کو ہاتھ بیچا گیا اور آج بھی عالمی بینک کی ثالثی کے ہوتے ہوئے آپ وہ معاہدہ پڑھیں کہ اس میں پاکستان کے ہاتھ پاؤں باندھے گئے ہیں، ہندوستان کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے ہیں۔
یہی کچھ سن 1949 کی سلامتی کونسل میں کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان کے ہاتھ پاؤں کھول دیے گئے اور ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ لیے گئے۔ یہ بھی ڈکٹیٹر ہی کر سکتا ہے۔
پھر اس کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا، بنگال ہم سے الگ ہو گیا۔ مغربی پاکستان اور بنگال کے بیچ میں سوائے اسلام کے ہمارے درمیان کوئی قدرِ مشترک نہ تھی۔ ان کی تہذیب مختلف، ہماری تہذیب مختلف، ان کا بودوباش مختلف، ہمارا بودوباش مختلف، ہمارے طور طریقے اور ان کے طور طریقےاور۔
اور اگر کوئی چیز قدرِ مشترک تھی ان کے اور ہمارے درمیان تو اسلام کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی، اور جب اسلام کو راستہ نہیں دیا گیا تو پھر اس ملک کے دو حصوں کو یک جان نہیں رکھا جا سکا۔
سات ستمبر کا دن اس فتح کا دن ہے،جب ختمِ نبوت کے قلعے کو توڑنے کے لیے ایک سامراجی ایجنٹ نے جھوٹی نبوت کا لبادہ اوڑھا، اور عوامی تحریک اور ہمارے اکابر کے پارلیمانی کردار نے اس کے کفر کو بے نقاب کیا اور پوری دنیا کو بتا دیا کہ قادیانی ہو یا لاہوری گروپ، جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں، یہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اور اب پاکستان میں ان کو غیر مسلموں کی فہرست میں درج کیا جائے گا۔
یہ معمولی معرکہ نہیں تھا۔ اس معرکے میں ہمارے بزرگوں نے جس ذہانت کا مظاہرہ کیا اور جس طرح ان کو بے نقاب کیا، یہاں تک کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر تمہارے مدعیِ نبوت پر کوئی ایمان نہیں لاتا تو آپ کی نظر میں وہ کافر ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا: کافر ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج زندہ ہوتے، اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج زندہ ہوتے، اگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے، اگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے، اگر حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہما زندہ ہوتے، اور وہ مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لاتے تو کیا وہ بھی کافر ہوتے؟ تو اس نے کہا: ہاں، وہ بھی کافر ہوتے۔
پروپیگنڈا تو کیا جا رہا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا، اور کوئی نہیں پوچھتا ان سے کہ تم ابو بکر صدیق سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آج کے امتی تک کو بھی کافر کہتے ہو۔ پوری امتِ مسلمہ کو کافر کہنا یہ مغرب کی نظر میں جرم نہیں ہے، لیکن اس ایک چھوٹے سے طائفے اور گمراہ طائفے کو کافر قرار دینا، جیسے بہت بڑا کوئی حادثہ ہوگیا۔
جب سات ستمبر دو ہزار چوبیس کو سات ستمبر انیس سو چوہتر کے فیصلے کی گولڈن جوبلی منائی گئی اور مینارِ پاکستان پر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوا، پوری تاریخ کے تمام اجتماعات کے ریکارڈ توڑ دیے، اس نے ایک بار پچاس سال کے بعد ثابت کر دیا کہ آج بھی پوری قوم پارلیمنٹ کے اس فیصلے کے پشت پر کھڑی ہے۔
لہٰذا تم کچھ بھی کر لو، امریکہ کی پشت پناہی لے لو، یورپ کی پشت پناہی لے لو، اور کم بخت! تم تو خود لکھتے ہو کہ میں انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوں۔ جو انگریز کا خودکاشتہ پودا ہے، اس نے ہمیں دین دینا ہے؟
اللہ پر بہتان باندھنے کی یہی چیزیں ہیں کبھی اللہ کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے، کبھی اللہ کے لیے بیوی اور بچے تجویز کرتے تھے، اور کبھی کہتے تھے کہ یہ وحی تو ہم پر بھی آسکتی ہے۔ تو اس قسم کے بہتان کو اللہ رب العزت نے بڑی شدت کے ساتھ رد کر دیا۔
سات ستمبر کا دن اس فتح کا دن ہے،جب ختمِ نبوت کے قلعے کو توڑنے کے لیے ایک سامراجی ایجنٹ نے جھوٹی نبوت کا لبادہ اوڑھا، اور عوامی تحریک اور ہمارے اکابر کے پارلیمانی کردار نے اس کے کفر کو بے نقاب کیا اور پوری دنیا کو بتا دیا کہ قادیانی ہو یا لاہوری گروپ، جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں، یہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، اور اب پاکستان میں ان کو غیر مسلموں کی فہرست میں درج کیا جائے گا۔
یہ معمولی معرکہ نہیں تھا۔ اس معرکے میں ہمارے بزرگوں نے جس ذہانت کا مظاہرہ کیا اور جس طرح ان کو بے نقاب کیا، یہاں تک کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر تمہارے مدعیِ نبوت پر کوئی ایمان نہیں لاتا تو آپ کی نظر میں وہ کافر ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے کہا: کافر ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج زندہ ہوتے، اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آج زندہ ہوتے، اگر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے، اگر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ زندہ ہوتے، اگر حضرات حسنین رضی اللہ تعالیٰ عنہما زندہ ہوتے، اور وہ مرزا غلام احمد پر ایمان نہ لاتے تو کیا وہ بھی کافر ہوتے؟ تو اس نے کہا: ہاں، وہ بھی کافر ہوتے۔
پروپیگنڈا تو کیا جا رہا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا، اور کوئی نہیں پوچھتا ان سے کہ تم ابو بکر صدیق سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آج کے امتی تک کو بھی کافر کہتے ہو۔ پوری امتِ مسلمہ کو کافر کہنا یہ مغرب کی نظر میں جرم نہیں ہے، لیکن اس ایک چھوٹے سے طائفے اور گمراہ طائفے کو کافر قرار دینا، جیسے بہت بڑا کوئی حادثہ ہوگیا۔
جب سات ستمبر دو ہزار چوبیس کو سات ستمبر انیس سو چوہتر کے فیصلے کی گولڈن جوبلی منائی گئی اور مینارِ پاکستان پر پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوا، پوری تاریخ کے تمام اجتماعات کے ریکارڈ توڑ دیے، اس نے ایک بار پچاس سال کے بعد ثابت کر دیا کہ آج بھی پوری قوم پارلیمنٹ کے اس فیصلے کے پشت پر کھڑی ہے۔
لہٰذا تم کچھ بھی کر لو، امریکہ کی پشت پناہی لے لو، یورپ کی پشت پناہی لے لو، اور کم بخت! تم تو خود لکھتے ہو کہ میں انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوں۔ جو انگریز کا خودکاشتہ پودا ہے، اس نے ہمیں دین دینا ہے؟
اللہ پر بہتان باندھنے کی یہی چیزیں ہیں کبھی اللہ کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے، کبھی اللہ کے لیے بیوی اور بچے تجویز کرتے تھے، اور کبھی کہتے تھے کہ یہ وحی تو ہم پر بھی آسکتی ہے۔ تو اس قسم کے بہتان کو اللہ رب العزت نے بڑی شدت کے ساتھ رد کر دیا۔
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان کی سیاسی جدوجہد کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ دینی معاملات کو پارلیمانی اور آئینی فورمز پر دلیل، قانون اور سیاسی مکالمے کے ذریعے اٹھاتے رہے ہیں۔ ختمِ نبوت کا معاملہ بھی اسی جدوجہد کا اہم عنوان ہے۔
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت#تاجدار_ختم_نبوت
#سالارتحریک_مفتی_محمود
#تحفظ_ختم_نبوت
#قانون_تحفظ_ختم_نبوت
ناموسِ رسالت ﷺ پر ہماری جان، مال، عزت اور ہر چیز قربان۔
عشقِ رسول ﷺ ہمارے ایمان کا حصہ اور عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ ہمارے دین کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے۔
ہم دفاعِ ختمِ نبوت ﷺ کے عزم پر ثابت قدم رہنے اور اپنے عقیدے کی حفاظت کے لیے ہر جائز و پرامن کوشش جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت
#تاجدار_ختم_نبوت
#سالارتحریک_مفتی_محمود
#قادیانی_اسلام_دشمن
#قادیانی_احمدی_کافر
آج 7 ستمبر ہے۔ اپنے ایمان کی تجدید کا دن، اپنی تاریخ کو یاد کرنے کا دن اور اپنی نسلوں کو علم دینے کا دن۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آئیے اس دن کو محبتِ رسول ﷺ، علم، اخلاق، اتحاد، امن اور آئین و قانون کی پاسداری کے عہد کے ساتھ یاد کریں۔
#ستمبر7_یوم_ختم_نبوت
#تاجدار_ختم_نبوت
#سالارتحریک_مفتی_محمود
#قادیانی_اسلام_دشمن
#قادیانی_احمدی_کافر
مفتی محمودؒ کی سیاست کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ اپنے مذہبی مؤقف کو پارلیمانی بحث، دلیل اور آئینی عمل کے ذریعے آگے بڑھاتے تھے۔ #سالارتحریک_مفتی_محمود#قادیانی_احمدی_کافر