مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں کہا کہ امن و امان کی خراب صورتحال میں عوام کو لشکر بنانے کی بات کرنا غلط ہے۔ فوج اور سیکورٹی ادارے اپنی ذمہ داری نبھائیں، قوم پر اضافی بوجھ نہ ڈالیں۔ یہ حکمت عملی ملک کو مزید انتشار کی طرف لے جائے گی۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں فرمایا: آج قوم سے کہا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو اور دہشت گردوں سے لڑو۔ کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ فوج میں بھرتی اس لیے ہوتی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو وہ لڑے۔ ہم تو چھری بھی بغیر لائسنس کے نہیں رکھ سکتے، پھر عوام کو لشکر کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ ملبہ قوم پر ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔
میرے اوپر خودکش حملے ہوئے، میرے گھر پر راکٹ گرے، میرے بچوں پر حملے ہوئے، پھر بھی مجھے بندوق رکھنے کی اجازت نہیں۔ پشتون ہو یا بلوچ، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ لڑے گا تو دشمنی نسلوں تک چلی جائے گی۔ فوج کی وردی اسی لیے پہنی جاتی ہے کہ ملک کی حفاظت کرے، نہ کہ عوام کو مسلح تصادم کی طرف دھکیلا جائے۔
مولانا نے شہدا کا مکمل احترام کیا مگر ریاست سے بھی ذمہ داری مانگی۔ شہدا کو سیاسی ڈھال نہ بنائیں، ان کے خون کا سچا احترام درست پالیسیوں اور امن سے کریں۔ پروپیگنڈا چھوڑیں، حقیقت کا سامنا کریں۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں فرمایا: آج قوم سے کہا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو اور دہشت گردوں سے لڑو۔ کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ فوج میں بھرتی اس لیے ہوتی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو وہ لڑے۔ ہم تو چھری بھی بغیر لائسنس کے نہیں رکھ سکتے، پھر عوام کو لشکر کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ ملبہ قوم پر ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔
میرے اوپر خودکش حملے ہوئے، میرے گھر پر راکٹ گرے، میرے بچوں پر حملے ہوئے، پھر بھی مجھے بندوق رکھنے کی اجازت نہیں۔ پشتون ہو یا بلوچ، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ لڑے گا تو دشمنی نسلوں تک چلی جائے گی۔ فوج کی وردی اسی لیے پہنی جاتی ہے کہ ملک کی حفاظت کرے، نہ کہ عوام کو مسلح تصادم کی طرف دھکیلا جائے۔
مولانا نے شہدا کا مکمل احترام کیا مگر ریاست سے بھی ذمہ داری مانگی۔ شہدا کو سیاسی ڈھال نہ بنائیں، ان کے خون کا سچا احترام درست پالیسیوں اور امن سے کریں۔ پروپیگنڈا چھوڑیں، حقیقت کا سامنا کریں۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں فرمایا: آج قوم سے کہا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو اور دہشت گردوں سے لڑو۔ کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ فوج میں بھرتی اس لیے ہوتی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو وہ لڑے۔ ہم تو چھری بھی بغیر لائسنس کے نہیں رکھ سکتے، پھر عوام کو لشکر کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ ملبہ قوم پر ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔
میرے اوپر خودکش حملے ہوئے، میرے گھر پر راکٹ گرے، میرے بچوں پر حملے ہوئے، پھر بھی مجھے بندوق رکھنے کی اجازت نہیں۔ پشتون ہو یا بلوچ، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ لڑے گا تو دشمنی نسلوں تک چلی جائے گی۔ فوج کی وردی اسی لیے پہنی جاتی ہے کہ ملک کی حفاظت کرے، نہ کہ عوام کو مسلح تصادم کی طرف دھکیلا جائے۔
مولانا نے شہدا کا مکمل احترام کیا مگر ریاست سے بھی ذمہ داری مانگی۔ شہدا کو سیاسی ڈھال نہ بنائیں، ان کے خون کا سچا احترام درست پالیسیوں اور امن سے کریں۔ پروپیگنڈا چھوڑیں، حقیقت کا سامنا کریں۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں کہا: میرے اوپر خودکش حملے ہوئے، میرے گھر پر راکٹ گرے، میرے بچوں پر حملے ہوئے، پھر بھی مجھے بندوق رکھنے کی اجازت نہیں۔ پھر عوام سے لشکر بنانے کو کیوں کہا جا رہا ہے؟ یہ کون سی حکمت عملی ہے؟
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں فرمایا: آج قوم سے کہا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو اور دہشت گردوں سے لڑو۔ کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ فوج میں بھرتی اس لیے ہوتی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو وہ لڑے۔ ہم تو چھری بھی بغیر لائسنس کے نہیں رکھ سکتے، پھر عوام کو لشکر کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ ملبہ قوم پر ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔
میرے اوپر خودکش حملے ہوئے، میرے گھر پر راکٹ گرے، میرے بچوں پر حملے ہوئے، پھر بھی مجھے بندوق رکھنے کی اجازت نہیں۔ پشتون ہو یا بلوچ، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ لڑے گا تو دشمنی نسلوں تک چلی جائے گی۔ فوج کی وردی اسی لیے پہنی جاتی ہے کہ ملک کی حفاظت کرے، نہ کہ عوام کو مسلح تصادم کی طرف دھکیلا جائے۔
مولانا نے شہدا کا مکمل احترام کیا مگر ریاست سے بھی ذمہ داری مانگی۔ شہدا کو سیاسی ڈھال نہ بنائیں، ان کے خون کا سچا احترام درست پالیسیوں اور امن سے کریں۔ پروپیگنڈا چھوڑیں، حقیقت کا سامنا کریں۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
ریاست کہتی ہے کہ عوام خود لشکر بنائیں اور دہشت گردوں سے لڑیں۔ مولانا @MoulanaOfficial نے پوچھا: ہم تو پستول بھی بغیر لائسنس کے نہیں رکھ سکتے، پھر عوام کو لشکر کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ ملبہ قوم پر ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ#لشکر_نہیں_خود_لڑو#مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں فرمایا: آج قوم سے کہا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو اور دہشت گردوں سے لڑو۔ کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ فوج میں بھرتی اس لیے ہوتی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو وہ لڑے۔ ہم تو چھری بھی بغیر لائسنس کے نہیں رکھ سکتے، پھر عوام کو لشکر کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ ملبہ قوم پر ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔
میرے اوپر خودکش حملے ہوئے، میرے گھر پر راکٹ گرے، میرے بچوں پر حملے ہوئے، پھر بھی مجھے بندوق رکھنے کی اجازت نہیں۔ پشتون ہو یا بلوچ، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ لڑے گا تو دشمنی نسلوں تک چلی جائے گی۔ فوج کی وردی اسی لیے پہنی جاتی ہے کہ ملک کی حفاظت کرے، نہ کہ عوام کو مسلح تصادم کی طرف دھکیلا جائے۔
مولانا نے شہدا کا مکمل احترام کیا مگر ریاست سے بھی ذمہ داری مانگی۔ شہدا کو سیاسی ڈھال نہ بنائیں، ان کے خون کا سچا احترام درست پالیسیوں اور امن سے کریں۔ پروپیگنڈا چھوڑیں، حقیقت کا سامنا کریں۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا @MoulanaOfficial نے واضح کیا کہ پشتون ہو یا بلوچ، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ لڑے گا تو دشمنی نسلوں تک چلی جائے گی۔ فوج نے پیٹی اس لیے باندھی ہے کہ ملک کی حفاظت کرے، عوام کو مسلح لشکر بنا کر ذمہ داری ڈالنا ریاست کی ناکامی ہے۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ#لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں فرمایا: آج قوم سے کہا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو اور دہشت گردوں سے لڑو۔ کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ فوج میں بھرتی اس لیے ہوتی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو وہ لڑے۔ ہم تو چھری بھی بغیر لائسنس کے نہیں رکھ سکتے، پھر عوام کو لشکر کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ ملبہ قوم پر ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔
میرے اوپر خودکش حملے ہوئے، میرے گھر پر راکٹ گرے، میرے بچوں پر حملے ہوئے، پھر بھی مجھے بندوق رکھنے کی اجازت نہیں۔ پشتون ہو یا بلوچ، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ لڑے گا تو دشمنی نسلوں تک چلی جائے گی۔ فوج کی وردی اسی لیے پہنی جاتی ہے کہ ملک کی حفاظت کرے، نہ کہ عوام کو مسلح تصادم کی طرف دھکیلا جائے۔
مولانا نے شہدا کا مکمل احترام کیا مگر ریاست سے بھی ذمہ داری مانگی۔ شہدا کو سیاسی ڈھال نہ بنائیں، ان کے خون کا سچا احترام درست پالیسیوں اور امن سے کریں۔ پروپیگنڈا چھوڑیں، حقیقت کا سامنا کریں۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں فرمایا: آج قبیلوں اور عوام سے کہا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو اور لڑو۔ کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ فوج میں بھرتی اس لیے ہوتی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو وہ لڑے۔ عوام کو لشکر بنا کر نسلوں تک دشمنیاں پیدا کرنے کی حکمت عملی غلط ہے۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں فرمایا: آج قوم سے کہا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو اور دہشت گردوں سے لڑو۔ کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ فوج میں بھرتی اس لیے ہوتی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو وہ لڑے۔ ہم تو چھری بھی بغیر لائسنس کے نہیں رکھ سکتے، پھر عوام کو لشکر کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ ملبہ قوم پر ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔
میرے اوپر خودکش حملے ہوئے، میرے گھر پر راکٹ گرے، میرے بچوں پر حملے ہوئے، پھر بھی مجھے بندوق رکھنے کی اجازت نہیں۔ پشتون ہو یا بلوچ، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ لڑے گا تو دشمنی نسلوں تک چلی جائے گی۔ فوج کی وردی اسی لیے پہنی جاتی ہے کہ ملک کی حفاظت کرے، نہ کہ عوام کو مسلح تصادم کی طرف دھکیلا جائے۔
مولانا نے شہدا کا مکمل احترام کیا مگر ریاست سے بھی ذمہ داری مانگی۔ شہدا کو سیاسی ڈھال نہ بنائیں، ان کے خون کا سچا احترام درست پالیسیوں اور امن سے کریں۔ پروپیگنڈا چھوڑیں، حقیقت کا سامنا کریں۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
مولانا فضل الرحمٰن @MoulanaOfficial نے قومی اسمبلی میں فرمایا: آج قوم سے کہا جا رہا ہے کہ تم لشکر بناؤ، تم نکلو اور دہشت گردوں سے لڑو۔ کیا یہ قوم کی ذمہ داری ہے؟ فوج میں بھرتی اس لیے ہوتی ہے کہ جب جنگ کا وقت آئے تو وہ لڑے۔ ہم تو چھری بھی بغیر لائسنس کے نہیں رکھ سکتے، پھر عوام کو لشکر کیوں بنایا جا رہا ہے؟ یہ ملبہ قوم پر ڈالنے کی حکمت عملی ہے۔
میرے اوپر خودکش حملے ہوئے، میرے گھر پر راکٹ گرے، میرے بچوں پر حملے ہوئے، پھر بھی مجھے بندوق رکھنے کی اجازت نہیں۔ پشتون ہو یا بلوچ، اگر وہ مقامی لوگوں کے ساتھ لڑے گا تو دشمنی نسلوں تک چلی جائے گی۔ فوج کی وردی اسی لیے پہنی جاتی ہے کہ ملک کی حفاظت کرے، نہ کہ عوام کو مسلح تصادم کی طرف دھکیلا جائے۔
مولانا نے شہدا کا مکمل احترام کیا مگر ریاست سے بھی ذمہ داری مانگی۔ شہدا کو سیاسی ڈھال نہ بنائیں، ان کے خون کا سچا احترام درست پالیسیوں اور امن سے کریں۔ پروپیگنڈا چھوڑیں، حقیقت کا سامنا کریں۔
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ
جب حکومت مہنگائی، بدامنی، بے روزگاری، لاقانونیت اور عوام کے جان و مال کے تحفظ جیسے بنیادی مسائل پر جواب دینے سے قاصر ہو جائے تو اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے مخالف قیادت کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے اور کردار کشی کا سہارا لیتی ہے۔ آج بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف جھوٹ کا بازار اس لیے گرم کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی توجہ حکومتی ناکامیوں سے ہٹا دی جائے، مگر قوم اب اتنی باشعور ہو چکی ہے کہ وہ پروپیگنڈے اور حقیقت میں فرق کرنا جانتی ہے۔
محمد اسلم غوری @AslamGhauriJUI
ترجمان جمعیۃ علماء اسلام پاکستان
#معافی_مائی_فٹ
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#لشکر_نہیں_خود_لڑو
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
یہ ٹرینڈ پینل کی صورتحال ہےجو ہو رہا اس سے ہرگز خوشی نہی ہے پاکستان میں پہلے بہت محاذ کھلے ہیں ہمیں مزید آگ نہی بھڑکانی چاہیے طاقت اور گالم گلوچ ہرگز مسائل کا حل نہی ہے
ڈیجیٹل پر پچھلے چند سالوں میں اربوں روپے لگے ہیں ابھی تو اس کا بجٹ تک چھپا جاتے ہیں یہ سب پیسے بیانیہ بنانے ڈیجیٹل واٹر فئیر کے لئے لگے ہیں اور حال یہ ہے کہ ٹرینڈ پینل پر پچھلے چار دنوں سے پہلے پانچ ٹرینڈ حکومت مخالف ہیں
راتب خور اور حکومتی وظیفے والے کیا صرف وزیروں کی ذاتی ستائشی ٹویٹس کے لئے ہیں ؟
یہ کسی بھی طرح حوصلہ افزا بات نہی کہ ریاست مخالف سمجھے جانے والی بات کو اتنی مقبولیت ملے
جمعیۃ علماء اسلام نے اپنی سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے میدان میں بھی اپنی مضبوط موجودگی ثابت کر دی ہے۔ ایک وقت تھا جب مخالفین سمجھتے تھے کہ جدید ذرائع ابلاغ کے میدان میں صرف مخصوص قوتوں کا غلبہ ہے، مگر آج جے یو آئی کے کارکنان نے محنت، نظریاتی وابستگی اور منظم حکمتِ عملی کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ دلیل، فکر اور سیاسی شعور رکھنے والی جماعت ہر میدان میں اپنا مقام بنا سکتی ہے۔ آج سیاسی حلقے اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ جمعیۃ علماء اسلام کی ڈیجیٹل میڈیا ٹیم اور کارکنان نے سوشل میڈیا پر ایک مؤثر آواز قائم کر دی ہے۔ یہ کامیابی کسی وقتی مہم کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلسل محنت، نظم و ضبط اور نظریاتی وابستگی کا ثمر ہے۔
✍️حافظ محمد اسامہ پسروری
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو #معافی_مائی_فٹ