بیروزگاری خطے میں سب سے زیادہ ٹیکس کا سارا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر، بجلی 60/65 روپے کا یونٹ اور گیس کی قیمت سیکڑوں فیصد بڑھ گئی ہوں تو جو مال بھی بنائیں گے وہ مقابلتاً مہنگا ہو گا، ایکسپورٹس خاک بڑھنی ہیں۔ ایس آئی ایف سی بنی اس کا بھی اتا پتا نہیں
@mustafa_nawazk@TTAP_OFFICIAL
معیشت کو جانچنا ہے تو اپنا کیمرہ لے کر بازاروں میں جائیں اور عام آدمی سے پوچھیں کہ اس حکومت میں اس کا کیا حال ہوا ہے۔ 100 میں سے 2/3 ہی لوگوں کی بات ٹی وی پر چلانے کے قابل ہوں گی۔ آدھا پاکستان غربت کی سطح سے نیچے ہے
@mustafa_nawazk@TTAP_OFFICIAL
DO NOT DISTURB!
اب تو عدالتوں کے باہر بڑا سا بورڈ لگا دینا چاہیے کہ ہمیں جگانے کی کوشش مت کرو تم جانو اگر بچ گئے تو ٹھیک ورنہ ہم تو اپنے نام کے ساتھ ایسے ہی جسٹس اور چیف جسٹس لگا کر بیٹھے ہیں !
مصطفی نواز کھوکھر ۔۔۔
@mustafa_nawazk@TTAP_OFFICIAL
تحریک تحفظ آئین پاکستان اعلامیہ
تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کی مشاورتی نشست قائد حزب اختلاف اور اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوئی جس میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس ، سابق سپیکر اسد قیصر ، سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر اور اتحاد کے ترجمان اخوانزادہ حسین یوسفزئی نے شرکت کی۔
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان ملک کی موجودہ صورتحال پر نہایت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو طاقت کے نشے میں اندھا دھند اقدامات کرنے پر متنبہ کرتا ہے ۔ یہ اتحاد آزاد کشمیر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دونوں جانب سے ہونے والے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتا ہے ۔ وہاں کی حکومت اور مقتدر قوتوں کو چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر کی مخدوش امنِ عامہ اور عوام کے جائز مطالبات پر سنجیدہ رویہ اپنائیں اور تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں ۔ عوام کی کسی بھی نمائندہ تنظیم پر پابندی لگانا مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی طاقت کے بل بوتے پر عوامی رائے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ دشمن آزاد کشمیر کے حالات پر نظریں جمائے بیٹھا ہے، لہٰذا ایسے میں کوئی بھی غلط اقدام معاملات کو مزید بگاڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ اتحاد گلگت بلتستان کے انتخابات میں اپوزیشن، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے جمہوری عمل سے باہر رکھنے کی کوششوں اور 2024ء کے عام انتخابات کے 'ایکشن ری پلے' پر شدید اظہارِ تاسف کرتا ہے اور انتخابی نتائج کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ جَب فیصلے کہیں اور ہونے ہیں ، تو پھر مُلک میں انتخابات محض تکلفاً کرانے کی کیا تُک باقی رہ جاتی ہے؟ اَب نہ ہی الیکشن کمیشن کی کوئی ساکھ باقی رِہ گئی ہے اور نہ ہی انتخابی عمل کی۔ یاد رہے کہ عوامی مقبولیت دلوں میں بنائی جاتی ہے، اسے چھینا یا چوری نہیں کیا جا سکتا ۔ جبری طور پر ہتھیائی گئی مقبولیت اور اقتدار کی عمارت ریت کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں ہوتی ۔
اتحاد بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال، اپوزیشن اتحاد کے سربراہ اور قائدِ حزب اختلاف محمود خان اچکزئی پر درج کی گئی جھوٹی اور مَن گھڑت ایف آئی آر ، سیاسی کارکنان کے خلاف طاقت کے استعمال، جبری گمشدگیوں سمیت ہر قسم کے کریک ڈاؤن اور عوام میں بڑھتے ہوئے احساسِ محرومی و عدم تحفظ کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ انھی حالات کے پیش نظر، اپوزیشن اتحاد بی این پی اور اس کے سربراہ اختر جان مینگل کی جانب سے 10 جون کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتا ہے ۔
حکومت کو بجٹ میں عام آدمی کے لیے صفر ریلیف اور مجوزہ ٹیکسوں کے انبار پر سخت متنبہ کیا جاتا ہے ۔ حکمران اپنی عیاشیوں اور بے جا سرکاری اخراجات میں فوری کٹوتی کریں اور آنے والے بجٹ کے نتیجے میں اٹھنے والے مہنگائی کے سیلاب کے آگے بند باندھیں ۔ موجودہ حکومتی نااہلی، کرپشن اور بدانتظامی کا نتیجہ آئی ایم ایف کی غلامی اور عوام پر ناقابل برداشت بوجھ کی صورت میں نکل رہا ہے ۔ معاشی اشاریوں کے ہیر پھیر اور لفاظی سے غریب عوام کا پیٹ نہیں بھرا جا سکتا ۔ تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے سمیت گزشتہ برسوں میں صرف ٹیکسوں کی مد میں 19 کھرب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنا، حکومتی بے حسی کی داستان کا محض سرورق ہے۔ متوقع بجٹ میں شنید یہی ہے کہ مزدور اور کسان، تاجر اور تنخواہ دار کے لئیے کوئی ریلیف نہیں۔
اپوزیشن اتحاد مُلک میں جاری فسطائیت، سیاسی کارکنان پر جاری جبر اور میڈیا پر لگائی گئی غیر اعلانیہ سنسرشپ کی پرزور مذمت اور اِن فسطائی اقدامات کو آئین میں دئیے گئے سیاسی و شخصی حقوق اور جمہوری اقدار کی نفی سمجھتا ہے۔ جہاں یہ اتحاد عمران خان ، اُن کی اہلیہ ، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور دیگر اسیرانِ جمہوریت کی استقامت اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے وہی یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ اِس مُلک کی عدلیہ ظلم کی اِس اندھیری رات میں انصاف کی شمع روشن کرے۔ جیل مینویل کے تحت اسیران کے حقوق ، اُن کی ملاقاتیں اور اُن کے مقدمات میں التواء انصاف کے نظام پر ایک سیاہ دھبہ ہیں۔ عدلیہ کی انصاف مہیا نہ کرنے اور ظلم کے راستہ نہ روکنے سے روگردانی کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔
حسین احمد یوسفزئی
ترجمان
تحریک تحفظ آئین پاکستان
It is not just delusional but madness for anyone left with an iota of humanity to think that any Muslim country will sign the Abraham Accords and recognise Israel after the ongoing genocide by the Zionist entity. Israel and all its allies have the blood of innocent Palestinians on their hands. The world must never forgive or forget these war criminals, ever.
پانچواں بجٹ بنانے کی پاکستان میں شاز و نادر ہی کسی کو توفیق ہوئی۔ یہ انفرادیت تو شہباز صاحب کو مِلی ، اسٹیبلیشمنٹ کی بھی غیر معمولی حمایت ، پر عوام کو کیا ملا؟ مہنگائی ، بے روزگاری ، بَد امنی اور گھُٹن۔ کہاں ہے غیر مُلکی سرمایاکاری؟ اُلٹا درجنوں ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی پاکستان چھوڑ گئی۔ بڑی ٹیم ہے جی ن لیگ کے پاس۔ سواہ ٹیم ۔ اگر آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکس ہی ٹھوکنے ہیں تو یہ کام تو کوئی ایرا غیرا بھی کر سکتا ہے۔
مصطفی:سادہ سا حساب کہ اخراجات کم کریں
رانا:تو آپ بتائیں کہ یہ خرچہ کم کریں
مصطفی:پنجاب میں جہاز کیوں خریدا
رانا:کیوں کا جواب بعد میں دیتے ہیں
مصطفی:پٹرول بجلی کی قیمتیں بڑھنےپرحکومت چور یہ نواز/مریم نے کہا
رانا :یہ سارا پراپگینڈا کہ بربادی ہو گئی
@mustafa_nawazk@TTAP_OFFICIAL
رانا: آپ ہماری جگہ آنا چاہتے ہیں
مصطفی: الیکشن کا عمل ہی خراب کر دیا گیا
رانا: 2018 میں بھی آر ٹی ایس بیٹھا تھا
رانا: آپ بجٹ کا بتائیں کہ یہ کریں وہ نہ کریں۔
مصطفی: آپ 17 ہزار ارب کے ٹیکس لگانے جا رہے ہیں۔
رانا: تو آپ بتا دیں کتنے کے لگائیں!
@mustafa_nawazk@TTAP_OFFICIAL
Next fiscal year will be even tougher for ordinary Pakistani’s. IMF has set the revenue targets 13% higher than the previous year, at Rs 17000 billion. Where the hell are we going to get that money from? By squeezing the already taxed?
This is going to be Shahbaz govts 5th budget and there’s no sigh of relief for anyone ; for businesses, salaried class, daily wage earners or farmers. Absolute incompetence.
At this point, the question we should be asking ourselves : is IMF program worth staying in? With back-breaking IMF induced taxation and an already overburdened tax base, our economy is stuck in a “negative loop”. There’s simply nothing left to tax.
Quit IMF, get back the control on your budget, reduce extravagant expenses and give relief to the public!
بجائے اِس کہ کے نوجوانوں میں اپنی سیاست مقبول بنائیں، خوف کی ماری حکومت نے ایک اور جَھک مارنے کا فیصلہ کر لیا۔ اگر ایک نوجوان ۱۸ سال کی عمر میں قانونی طور پر معاہدہ کرنے کا اہل ہے، فوج میں بھرتی ہو کر ملک کی خاطر لڑنے کا اہل ہے ، تو اپنے حکمران چُننے کے اہل کیوں نہیں؟
Insurgencies can't survive without public support. BLA's recent kidnappings of university of Gwadar professors, along with extortion and civilian killings, will surely alienate ordinary people. A shift in state behavior at this point, could help win back public trust.
All of us are proud of the role of Mushtaq Bhai, who helps the Palestinians and becomes their voice at every international forum. Standing up to a state that does not respect human rights and international laws is an example of their courage and bravery.
The press conference held by Vice Chairman Tehreek-e-Tafaquz-e-Ayin-e-Pakistan, Mustafa Nawaz Khokhar, at the time of Senator Mushtaq's joining Tehreek-e-Tafaquz-e-Ayin-e-Pakistan
And in Pakistan, especially in the Palestinian cause, the credibility of Mushtaq Bhai is unmatched. We will definitely learn a lot by keeping his experiences in front of us in this political journey. Raising our voice against the violation of the Constitution and cruel taxes in Pakistan is the need of the hour. The 26th and 27th Amendments have damaged the rights of the people, while the threat of the 28th Amendment is looming. The economic downturn has broken the back of the people. Now is not the time for silence!
Press conference held by Vice Chairman Tehreek-e-Tafaquz-e-Ayin-e-Pakistan Mustafa Nawaz Khokar at the time of Senator Mushtaq Ahmed joining Tehreek-e-Tafaquz-e-Ayin-e-Pakistan
سہیل آفریدی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کی آج اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود اچکزئی کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی۔
اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس ،سابق اسپیکر اسد قیصر، وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان مصطفی نواز کھوکھر سمیت دیگر افراد بھی موجود۔
سہیل خان آفریدی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ، نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر آج اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی۔
اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ ناصر عباس ، سابق سپیکر قومی اسمبلی و سیکرٹری جنرل تحریک انصاف اسد قیصر، وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان مصطفی نواز کھوکھر, ترجمان تحریک انصاف حسین احمد یوسفزئی اور قائد پاکستان تحریک انصاف کے وکیل خالد یوسف چوہدری بھی موجود تھے۔
ملاقات کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت و علاج ، قانونی دستاویزات پر دستخط و حق انصاف تک رسائی سے روکے جانے ، آمدہ بجٹ، National Finance Commission (NFC) ایوارڈ، صوبائی حقوق ، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں قومی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا
ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
گو کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی آئینی ذمہ داریوں اور انسانی حقوق سے بے اعتنائی پر تحفظات ہیں ، لیکن ججز ٹرانسفر پر اُن کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی بطور سزا ٹرانسفر عدلیہ کی آزادی پر ایک کاری ضرب اور آزاد ججوں کو حکومتی خواہشات کے تابع بنانے کی مذموم کوشش ہے۔
جوڈیشل کمیشن اجلاس سے قبل تحریکِ تحفظ آئین بار اور وکلاء رہنماؤں کی مشاورتی میٹنگ بُلا کر ایک متفقہ لاحِ عمل بنانے پر غور کرے گی۔
As fragile as it seems, extension in ceasefire on Pakistan’s urging, is a sigh of relief for a world on edge.
It’s a showdown of : Trump’s pathological inability to process loss VERSUS Iran’s capacity to absorb any onslaught.
The state of American democracy ; profiteering from death & destruction of the innocent.
“If you took the profit out of war, there would be no war.” https://t.co/ThCnTFDXQW
اسلام آباد کے چنتخب نمائندوں نے یہاں کے عوام کو بے آسرا چھوڑ دیا۔ جس سی ڈی اے کے بارے میں وزیرِ داخلہ خود کہتے ہیں کہ رشوت کے بغیر کام نہیں کرتا ، آج ہزاروں لوگوں کو بے دردی کے ساتھ چھت سے محروم کر رہا ہے۔ اشرافیہ کی رہائش کونسٹیٹوشن ون کی ۴۰ منزلہ عمارت بن گئی اور اچانک یاد آیا کہ او ہو یہ تو غیر قانونی ہے۔ پھر سپریم کورٹ نے جرمانہ لگا کر ریگولرائز کر دی۔ تو غریب اس سہولت سے محروم کیوں؟
جب اسلام آباد بنا تو ہزاروں ایکڑ اراضی ایکوائر کی گئی۔ ۱۹۶۲ سے لے کر آج تک کئی لوگ اپنے کلیم لئیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں اور اُن کو ادائیگی نہیں ہوئی۔ بری امام، سید پور اور ملپور میں تین روپے کنال کے حساب تک سے زمین ایکوائر کی گئی اور ستم ظریفی کے وہ ادائیگی بھی نہیں کی۔ اور آج ۶۵ سال بعد کہتے ہیں اُسی ریٹ پر اپنی زمین اور گھر حوالہ کرو ، یہ کہاں کا انصاف ہے ؟
اَب کچی آبادیوں کو لے لیجئے۔ سی ڈی اے کا ایک ذیلی ادارہ ہے انفورسمنٹ کا۔ اُن کے تمام انسپکٹر رشوت لے کر خود تعمیرات کراتے رہے ، سالہ سال اربوں روپے بنائے اور آج دھڑلے سے گرانے پہنچ گئے۔ کیا سی ڈی اے نے اپنے اُن ملازمین جو اِس دھندے میں ملوث رہے ، اُن کے خلاف کوئی کاروائی کی؟
مقامی اور آباد کار بھی بری الزمہ نہیں۔ اپنی قدیمی آبادیوں میں لوگوں کو سی ڈی اے کے انفورسمنٹ عملہ کے ساتھ مل کر آباد کراتے رہے اور لوگ بھی جس جگہ کا کوئی انتقال نہیں ، رجسٹری نہیں ، رشوت دے کر اُن پر گھر بناتے رہے۔ سب اِس داؤ پر تھے کہ جب متاثرین اسلام آباد کے ساتھ سیٹیلمنٹ ہو گی تو ہم بھی متاثرین کی لسٹ میں شامل ہو جائیں گے اور پلاٹ لے لیں گے۔ وہ تو گوگل میپ نے سب کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ۲۰۰۶ یا جب سے وہ آیا ہے ، سیٹلائٹ تصویروں میں قدیمی اور نئی آبادیوں کی تفریق واظح ہے۔
لیکن آج صورتحال مخدوش ہے۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو چُکے ہیں، لوگ بے سر و بے آسرا ہیں۔ چنتخب نمائندوں کو سی ڈی اے اور متاثرین کے ساتھ بیٹھ کر اس انسانی المیہ کا منصفانہ حل نکالنا چاہئیے۔