ٹیکنوکریٹ کی نشست سے Select ہونے والے شخص کے وزیرِاعظم آزاد کشمیر بننے کے بعد کیا مستقبل میں پاکستان میں بھی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں پر Select ہونے والے ارکان کے لیے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بننے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے؟
اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کریں
میرواعظ یوسف شاہ صاحب آزاد کشمیر کے صدر نے ایک بند لفافہ کے ذریعہ اس وقت کے جوائنٹ سیکرٹری وزارت امور کشمیر کو صدارت سے استیفا بھیج دیا دوسرے دن جوائنٹ سیکرٹری صاحب مظفرآباد پہنچ کر میرواعظ صاحب سے وجہ پوچھی تو انہوں نے جواب میں کہا کہ میں دستانہ نہی بن سکتا
یہ ایسے مادر چود ہیں کہ پورے پاکستان کو بیغیرت قرار دے رہے ہیں اور یوتھیے کلٹ ایسے تخم حرام ہیں کہ شہباز گِل کی اس گالی کو فخریہ انداز میں پیش کررہے ہیں اور کوئی یوتھیا اس مادر ذات سے یہ نہیں پوچھتا کہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ امریکہ بیٹھ کر کونسی آزادی کی جنگ لڑی جارہی ہے
عمران خان اور اسکے حامی بیغیرت تھے ہیں اور رہیں گے
یہ سوڈان کے بچے نہیں ہے یہ کینیا کے بچے بھی نہیں ہے یہ گھانا کے بچے بھی نہیں ہے بلکہ سندھ کے وزیراعلی جو دس سال سے کرسی پر براجمان ہے اُس کے شہر کے بچے ہیں
یہ بچے سکول بھی نہیں جاتے ہیں اور جہاں نہاتے ہیں وہی سے پانی پیتے ہیں
کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے ❤️
بد قسمت صوبے کا رنگیلا وزیر اعلی، جس سے گورننس ہوتی نہیں بس ہر دو ماہ بعد بھڑکیں مارتا رہتا ہے۔
یہ کھلے عام دہشتگردی کی دھمکی ہے “ہم پوری تیاری کے ساتھ آ رہے ہیں، تمہیں گولی چلانے کی مہلت بھی نہیں دیں گے”۔
آ جاؤ بیٹا اس بار شلوار اٹھانے کا موقع بھی نہیں ملے گا تمہیں، کھسروں کے سرخیل
@InsafPK
ن لیگ کے آج کے فیصلے کے بعد ایک نئی روایت قائم ہوگئی ہے کہ آئندہ مخصوص نشست والے وزیر اعلی وزیراعظم بن سکیں گے۔شرمناک صورتحال تو اُن لوگوں کے لیے ہے کہ جو بچارے عوام کے سامنے بھی جاتے اُن کو جوابدہ بھی ہوتے ہیں عوام سے ووٹ بھی مانگتے ہیں باتیں بھی سُنتے ہیں اچھے تو وہ رہ گئے ہیں جن کو عوام مسترد کرتی ہے وہ ٹیکنوکریٹ بن کر یہ تمام مزے اُٹھالیتے ہیں۔جمہوریت کے لیے ایک بدترین مثال قائم ہونے جارہی ہے
وزیراعظم ُ نا محسن نقوی سے کچھ پوچھنے کی ہمت رکھتے نا مصطفی کمال سے جواب دہی کر سکتے ان کے اختیار میں ایک مزمت کرنا اور ایک سیکٹری ہٹانا تھا وہ ہٹا دیا اس سے آگے کی چاچو سے توقع نا رکھیں ان کی وزارت اعظمی کی کل اوقات اور قیمت اتنی ہی ہے
پمز کی انتظامیہ میں کوئی فوجی افسر شامل نہیں ہے۔
پمز کے افسوسناک واقعے کے بعد تحریکِ انصاف اورمخصوص طبقے نے یہ جھوٹا بیانیہ پھیلانا شروع کر دیا کہ نگران حکومت کے دور میں پمز کی اعلیٰ انتظامیہ فوجی افسران کے حوالے کر دی گئی تھی۔
یہ دعویٰ مکمل طور پر من گھڑت ہے اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
پمز کے موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ED) نیشنل ہیلتھ سروسز میں سیکریٹری (BPS-20) کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے
تاہم اُس وقت کے وزیرِ صحت قادر پٹیل (پیپلز پارٹی) نے انہیں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (BPS-21) کا اضافی چارج دے دیا۔
یہ تقرری باری سے ہٹ کر اور سیاسی بنیادوں پر کی گئی تھی۔
اس واقعے کا ذمہ دار شخص قادر پٹیل، سابق وزیرِ صحت پاکستان پیپلز پارٹی، کا سیاسی طور پر مقرر کردہ شخص ہے۔
اس خونی گدھ کے کندھوں پر شروع سے ہی کوئی نہ کوئی لاش رہی ہیں، جیسے چندے کیلئے ماں کی لاش، یہ گدھ ہمیشہ لاشوں کی تلاش میں سڑکوں پر سرگرداں رہا، ڈی چوک سے پارلیمنٹ تک لاشوں کی تلاش، 9مئی لاشوں کی تلاش، 26 نومبر لاشوں کی تلاش، اور اب شفاء انٹرنیشنل ہسپتال جانے کیلئے لاشوں کی تلاش. اس خونی گدھ سے کچھ بعید نہیں کہ یہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے کتنے معصوموں کی بَلی چڑھا دے.
نیازی کے بچوں کو اپنا انٹرویو کرکٹ میچ کے بیچ دکھانے کے لئے کتنا پیسہ دیا ہوگا تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کے کوئی دیکھتا نہیں ہے تو میچ کے دوران دھوکے سے زبردستی اپنا انٹرویو دکھایا جاۓ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہے نیازی جیل ہی میں رہے گا۔
عقیل یوسفزئی کے سنسنی خیز انکشاف نے سب کے ہوش اڑا دیے! 🔥
مولانا فضل الرحمن کا افواجِ پاکستان کے خلاف زہر اگلنا کوئی اتفاق نہیں، بلکہ قندھار میں ہیبت اللہ اخوندزادہ سے کیے گئے "خاص وعدوں" کا نتیجہ ہے۔ اپنے سیاسی فائدے اور طالبانی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے مولانا نے اب کھل کر اپنی ہی فوج کے خلاف محاذ کھول لیا ہے۔ یہ سیاست نہیں، واضح سہولت کاری ہے
ن لیگ کی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن کیا وجہ ہوئی کہ ایک ہارے ہوئے شخص کو وزیراعظم آزاد کشمیر نامزد کیا جا رہا ہے ؟ کیا یہ فیصلہ کشمیر کے معروضی حالات میں زخموں پر مرہم رکھ پائے گا ؟ ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ مکمل دفن ہو چکا۔۔۔؟
محترم وزیر اعظم
@CMShehbaz
محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ
@MaryamNSharif
کیا یہ ووٹ کو عزت دو کا فلسفہ ہے کہ جس امیدوار کو جنرل الیکشن میں عوام نے مسترد کر دیا آپ اسے اسپیشل سیٹ دیکر وزیراعظم بنا رہے ہیں
مانا کہ ہم سے غلطی ہوئی ن لیگ کو ووٹ دینے کی مگر ہمارے ووٹ کو نیلام نہ کریں
افتخار گیلانی مسلسل 2 الیکشن ہارے ہوئے ہیں وزیراعظم کے بجائے انکو مشیر بنا دیتے مگر ایک شکست خوردہ شخص کو وزیراعظم نامی نیٹ کر کے اس منصب کی توہین کی گئی کمپرومائزئز کرکرکے ن لیگ بکری بن گئ ہے وزیراعظم کی کرسی کیلئے اہل شخص کو نہ چنا گیا تو یہ فیصلہ ن لیگ کو بہت بھاری پڑے گا