حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ فرمایا کہ جس نے اپنے بھائی کی آبروریزی کی یا کسی پر طظلم کیا تو اس کو چاہئے کہ آج ہی اس سے پاک ہولے اس دن سے پہلے کہ اس کے پاس دینے کو نہ دینار ہو گا نہ درہم۔
حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کو امیر بنا کر جب آپﷺ نے یمن بھیجا تو ان کو نصیحت فرمائی کہ مظلوم کی بدعا سے بچتے رہنا کیونکہ اس کے اور خدا کے بیچ میں کوئی پردہ نہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے چاہئے کہ وہ اس پر ظلم نہ کرے اور نہ اس کو بے یارو مددگار چھوڑے۔‘‘
’’اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کر لیا ہے اور تمہارے درمیان میں بھی اس ظلم کو حرام کیا ہے لہذا تم آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔‘‘
حدیث قدسی
’’تم اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہﷺ اگر وہ مظلوم ہو تو اس کی مدد کروں۔ لیکن اگر وہ ظالم ہے تو اس کی مدد کیسے کروں آپﷺ نے فرمایا: تم اس کو ظلم کرنے سے روکو یہی اس کی امداد ہے۔‘‘
حدیث
یقینًا اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا اور جو شخص اپنے مظلوم ہونے کے برابر کا بدلہ لے تو ایسے لوگوں پر الزام نہیں۔ الزام تو صرف انہی لوگوں پر ہے جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں۔
(اعراف: 33)
’’اے نبیﷺ! آپ فرما دیجئے کہ میرے رب نے شرک کے کاموں کو جو کھلے ہوں یا چھپے ہوں اور گناہ کو اور ناحق کسی پر زیادتی اور سرکشی کو حرام کر دیا ہے۔‘‘
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ تعالیٰ اسی ظالم کو اس پر مسلط کر دے گا۔
حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حقدار کو اس کے حق سے منع نہیں کرتا۔
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس نے کسی ظالم کی اس کے ظلم پر مدد کی وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہو گا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو، خدا کی قسم! جو مومن دوسرے مومن پر ظلم کرے گا توقیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ اس ظالم سے انتقام لے گا۔
اور ہرگزاللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جائیں گی
سورة ابراہیم - 42
میری طرف سے ہزار بار لعنت انہی کی ڈر کی وجہ سے یہ ہوا کاش اس دن یہ اس ٹریپ یا ڈر میں نا آتا کاش یہ اس کلمے کا مطلب سمجھ چکا ہوتا جو عمران خان بار بار بتاتا رہا۔۔۔ نا یہ مطلب سمجھا اور نا اس کے اندر کے ڈر ختم ہوے۔ خان نے کہا تھا علی امین اگر پہبچ جاتا بہت بڑا ہیرو اور لیڈر بن جاتا
جو کچھ بھی ہو رہا ہے سب اس ڈرکی وجہ سے ہو رہا ہے جو علی امین اس دن اپنے دل میں لے گیا۔ کاش اس دن یہ ڈی چوک قافلے کا ساتھ جاتا۔ کسی کی جرات نہیں ہونا تھی کہ ایسی واحیات حرکتیں ہوتیں کہ لوگوں کی ماوں بہنوں اور چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہوتا
یہ بے شرمی ہے۔ ایک غریب گھر کا لڑکا۔ جس نے جان ہتھیلی پر رکھ کر روپورٹنگ کی تا کہ روزی کما سکے۔ اس کی اس کوشش کو اس کے اور اس کے خاندان کا قصور بنا دیا ہے۔ بے شرم لوگ
یہ بے شرمی ہے۔ ایک غریب گھر کا لڑکا۔ جس نے جان ہتھیلی پر رکھ کر روپورٹنگ کی تا کہ روزی کما سکے۔ اس کی اس کوشش کو اس کے اور اس کے خاندان کا قصور بنا دیا ہے۔ بے شرم لوگ
یا اللہ یہاں سب کے سب منافق اور باطل کا ساتھ دینے والے ہیں حق کے ساتھ کھڑا دلیر لیڈر تیری ہی عطاء سے ہمیں ملا ہے اس کی حفاظت کرنا۔ شیطانوں کا غول پوری قوت کے ساتھ تیرے نیک بندے سے طاقت آزماء رہا ہے اس شیطانی غول کو ذلیل ورسوا کرنا اور اپنے بندے کو قوت بخشنا۔۔۔ آمین
کچھ تو ایسا ہے کہ سارا نظام عمران خان سے ملاقات کو روکنا چاہ رہا ہے۔ ہائی کورٹ میں درخواست دینے والے انتظار پنجوتھہ بھی لاپتہ ہو گئے۔ ایسے میں عمران خان کے حوالے سے تحریک انصاف کے خدشات تقویت حاصل کر رہے ہیں۔ کچھ تو ہے جسے چھپایا جا رہا ہے۔ عمران ریاض خان
@ImranRiazKhan #IntazarHussainPanjutha #ImranKhan
https://t.co/JNHWgpYdCw