وہ ماں کہ جس کا جوان بیٹا
تمہارے وہم و گماں کی آندھی میں گم ہوا ہے
تمہارے بدلے کی آگ جس کو نگل گئی ہے
وہ دیکھو اب تک بلک رہی ہے
کوئی تو کاندھے پہ ہاتھ رکھے
کہے کہ ہم نے بھی قاتلوں کی کہانیوں پر
یقیں کیا تھا
کہے کہ ہم نے گناہ کیا تھا
کہے کہ ماں ہم کو معاف کر دو
#Swat
@AU_Qasmi However, the visuals that you have attached are not acceptable whatsoever. Only the state of Pakistan has the authority to take any punitive action against any person or community after a thorough investigation.
@AU_Qasmi Why are they fond of calling themselves Muslims? It's the constitution of Pakistan that declares them non-Muslims. They should accept this reality and enjoy their equal rights as minority non-muslims.
BREAKING: Saudi Arabia's Crown Prince Mohammed Bin Salman denounces 'heinous crimes' against Palestinians and calls for independent Palestinian state with 'East Jerusalem as its capital'
@JimmyVirkk یہ چمپنزی ایک جمہوری حکمران کے سامنے ہی ایسی پھرتیاں دکھا سکتے تھے جو شاید کتنے عرصے بعد ہمیں ملا تھا. اب زبانیں گنگ ہیں. بے شرم اور گھٹیا قبیل کے لوگ.
بھارتی حکومت نے جنرل اوپیندرا دویدی کو نیا آرمی چیف نامزد کر دیا۔ نئے آرمی چیف کو کوئی بزرگ سیاسی شخصیت یہ نہیں کہے گی کہ تم بھی میرے بیٹوں جیسے ہو، ایک بی ایم ڈبلیو گاڑی کا تحفہ قبول کرو۔ ریٹائر ہونے والے جنرل منوج کو کسی نے یہ نہیں کہا کہ جانے کی باتیں جانے دو۔ کسی انڈین جنرل کے سسر کے ڈرائنگ روم میں عہد و پیمان نہیں ہوئے۔ کسی بھارتی سیاسی رہنما نے نہیں کہا کہ آرمی چیف قوم کا باپ ہوتا ہے اس لیے جنرل منوج کو تین سال ایکسٹینشن دی جائے۔ نیا آرمی چیف جنرل اوپیندرا اپنے کسی دوست کو اتر پردیش کا وزیراعلی نہیں بنوائے گا۔ اروند کیجریوال جیل سے یہ نہیں کہے گا کہ میں صرف جنرل اوپیندرا سے ہی بات کروں گا۔ انڈیا کے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر خصوصی نشریات، ترانے، قصیدے نہیں پڑھے جائیں گے۔ انڈیا کے صحافیوں کو مغز ماری نہیں کرنی پڑی کہ کس جنرل کا بیگ گراؤنڈ کیا ہے اور اسکی رشتے داریوں کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل منوج پانڈے کی ریٹائرمنٹ پر 30 جون کو جنرل اوپیندرا دویدی عہدہ سنبھالیں گے۔ بھارتی آرمی چیف کے دفتر میں ہی کمان کی تبدیلی کے بعد ایک تصویر میڈیا کو جاری کر دی جائے گی۔
بزرگ سیاستدان نواب زادہ نصر اللہ خان کا ایک شعر یاد آ رہا ہے کہ
اک جرم ہے جس کی تلافی نہیں ممکن۔۔۔
اس دیس میں تابندہ روایات کی خواہش