فيه وحده من عماتي عقيم ماتجيب عيال ف يوم زوجها عرف تزوج عليها وحملت زوجته الثانية وعمتي طيبه مره معها كانت تساعدها وتسوي لها اكل مرات و يوم ذيك ولدت طلعت جايبه توأم قامت حلفت على عمتي تعطيها واحد وتاخذ واحد ههههههههه وفعلا والله كبر الولد ذا على يد عمتي ربته وزوجته بعد
عصمت چغتائی کا اپنے برادرِ بزرگ عظیم بیگ چغتائی پر لکھے گئے خاکے “دوزخی” سے ایک اقتباس:-
انہیں دھوکہ باز اور مکار آدمی سے مل کر بڑی خوشی ہوتی تھی۔ کہتے تھے دھوکہ اور مکاری مذاق نہیں عقل چاہیے ان چیزوں کے لیے۔
انہیں ناچ گانے سے بڑا شوق تھا مگر کس ناچ سے؟ یہ جو فقیر بچے آتے ہیں ان کا ! عموماً پیسے دے کر ڈھول میں ناچتے ہوئے فقیروں کو اس شوق سے دیکھا کرتے تھے کہ ان کا انہماک دیکھ کر رشک آتا تھا۔ نہ جانے انہیں اس ننگے بھوکے ناچ میں کیا کچھ نظر آتا تھا۔
میں نے انہیں کبھی نماز پڑھتے نہ دیکھا ۔ قرآن شریف لیٹ کر پڑھتے تھے اور بے ادبی سے، اس کے ساتھ ساتھ سو جاتے تھے۔ لوگوں نے ملامت کی تو اس پر کاغذ چڑھا کر کہہ دیا کرتےتھے کچھ نہیں قانونی کتاب ہے۔ جھوٹ تو خوب نبھاتے تھے۔
حدیث بہت پڑھتے تھے اور لوگوں سے بحث کرنے کے لیے عجیب عجیب حدیثیں ڈھونڈ کر حفظ کر لیتےتھے اور سنا کر لڑا کرتے تھے۔ ان کی حدیثوں سے لوگ بڑے عاجز تھے۔ قرآن کی آیات بھی یاد تھیں اور بے تکان حوالہ دیتے تھے۔ شک کرو تو سرہانے سے قرآن نکال کر دکھا دیتےتھے۔
یزیدکے بڑے مداح تھے اور امام حسینؑ کی شان میں بکواس کیا کرتے تھے۔ لوگوں سے گھنٹوں بحث ہوتی تھی۔ کہتے تھے ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت امام حسینؑ کھڑے ہیں، ادھر سےیزید لعین آیا، آپ کے پیر پکڑ لیے، گڑ گڑایا ، ہاتھ جوڑے تو آپ کا خون جوش مارنےلگا اور اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ بس میں نے بھی اس دن سے یزید کی عزت شروع کردی۔ جنت میں تو ان کا ملاپ بھی ہو گیا، پھر ہم کیوں لڑیں۔‘‘
سیاست سے کم دلچسپی تھی۔ کہتے تھے ’’بابا ہم لیڈر بن نہیں سکتے تو پھر کیا کہیں، لوگ کہیں گے تم ہی کچھ کر کے دکھاؤ اور یہاں کم بخت کھانسی اور دمہ نہیں چھوڑتا ۔‘‘بہت سال ہوئےکچھ مضامین ’’ریاست‘‘ میں سیاسیات اور اکنامکس پر لکھے تھے وہ نہ جانے کیا ہوئے۔ مذہب کا جنون سا تھا۔ مگر آخر میں بحث کم کر دی تھی اور کہتے تھے:۔
’’بھئی تم لوگ تو ہٹے کٹے ہو اور میں مرنے والا ہوں اور جو کہیں دوزخ جنت سب نکل آئیں توکیا کروں گا۔ لہٰذا چپ ہی رہو۔
‘‘ پردہ کے خلاف تو کبھی سے تھے مگر آخر میں کہتے تھے۔’’یہ پرانی بات ہو گئی اب پردہ رو کے نہیں رک سکتا۔ اس معاملہ میں ہم کر چکے۔ اب تونئی پریشانیاں ہیں۔‘‘ لوگ کہتے تھے دوزخ میں جاؤ گے، تو فرماتے، ’’ یہاں کون سی اللہ میاں نے جنت دے دی جو وہاں دوزخ کی دھمکیاں ہیں۔ کچھ پرواہ نہیں ہم تو عادی ہیں۔ اللہ میاں اگر ہمیں دوزخ میں جلائیں گے تو ان کی لکڑی اور کوئلہ بیکار جائے گا۔ کیونکہ ہم تو ہر عذاب کے عادی ہیں۔ ‘‘کبھی کہتے ’’اگر دوزخ میں رہے تو ہمارے جراثیم تو مر جائیںگے۔ جنت میں تو ہم سارے مولویوں کو دق میں لپیٹ لیں گے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ سب انہیں باغی اور دوزخی کہتے ہیں۔ وہ کہیں پر بھی جائیں۔ میں یہ دیکھناچاہتی ہوں کیا وہاں بھی ان کی وہی قینچی جیسی زبان چل رہی ہے؟ کیا وہاں وہ حوروں سےعشق لڑا رہے ہیں یا دوزخ کے فرشتوں کو جلا کر مسکرا رہے ہیں۔ مولویوں سے الجھ رہے ہیں یا دوزخ کے بھڑکتے شعلوں میں ان کی کھانسی گونج رہی ہے۔ پھیپھڑے پھول رہے ہیں اور فرشتےان کے انجکشن گھونپ رہے ہیں۔ فرق ہی کیا ایک دوزخ سے دوسری دوزخ میں۔
’’ دوزخی‘‘ کاکیا ٹھکانہ۔
As a wise man once said... how will you ever take our love for Imran Khan out of our hearts? When it comes to loving him, it’s simply insane, there are no words to describe the depth of it.
How beautiful she looks in this baddie look! I’ll never forgive Bollywood for making us believe that going from curly to straight hair and having lighter skin would make us(or anyone) more beautiful.