زندگی بھر کا تحفہ۔
یہی ہے نافع علم!
ایک عالم نے اپنے شاگرد سے پوچھا:
"تم کب سے میرے ساتھ ہو؟"
شاگرد نے جواب دیا: "تینتیس (33) سال سے۔"
عالم نے کہا:
"تو اتنی لمبی مدت میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا؟"
شاگرد نے عرض کیا:
"آٹھ (8) مسائل سیکھے ہیں۔"
عالم نے افسوس سے کہا:
"إنا لله وإنا إليه راجعون!
میری زندگی تمہارے ساتھ گزری، اور تم نے صرف آٹھ باتیں سیکھیں؟"
شاگرد نے عرض کیا:
"جی ہاں، میں نے صرف وہی سیکھی ہیں، اور میں آپ سے جھوٹ نہیں بولنا چاہتا۔"
عالم نے کہا:
"چلو، سناؤ تو سہی وہ کیا باتیں ہیں؟"
شاگرد نے کہا:
پہلی بات:
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ہر کوئی کسی نہ کسی کو دوست بناتا ہے، لیکن جب وہ قبر میں جاتا ہے تو سب ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔
چنانچہ میں نے نیکیوں کو اپنا دوست بنایا، تاکہ جب میں قبر میں جاؤں تو وہ میرے ساتھ ہوں۔
دوسری بات:
میں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کیا:
> "وأما من خاف مقام ربه ونهى النفس عن الهوى، فإن الجنة هي المأوى"
(النازعات: 40-41)
"اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اور نفس کو خواہشات سے روکے رکھا، تو جنت ہی اس کا ٹھکانہ ہے۔"
پس میں نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکنے میں محنت کی، یہاں تک کہ وہ اللہ کی اطاعت پر جم گیا۔
تیسری بات:
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ جس چیز کی ان کے نزدیک کچھ قیمت ہو، اسے سنبھال کر رکھتے ہیں تاکہ ضائع نہ ہو جائے۔
پھر میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا:
> "ما عندكم ينفد وما عند الله باق"
(النحل: 96)
"جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جائے گا، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔"
تو میں نے جب بھی کوئی قیمتی چیز حاصل کی، اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تاکہ وہ اس کے پاس محفوظ ہو جائے۔
چوتھی بات:
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ہر کوئی اپنے مال، حسب و نسب پر فخر کرتا ہے۔
پھر میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پڑھا:
> "إن أكرمكم عند الله أتقاكم"
(الحجرات: 13)
"یقیناً اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"
تو میں نے تقویٰ کے حصول کی کوشش کی تاکہ اللہ کے نزدیک معزز بن جاؤں۔
پانچویں بات:
میں نے دیکھا کہ دنیاوی نعمتوں پر لوگ ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں۔
پھر میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا:
> "نحن قسمنا بينهم معيشتهم في الحياة الدنيا"
(الزخرف: 32)
"ہم نے دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان معیشت تقسیم کر دی ہے۔"
تو میں نے جان لیا کہ یہ سب تقسیم اللہ کی طرف سے ہے، چنانچہ میں نے حسد چھوڑ دیا اور جو اللہ نے مجھے دیا اُس پر راضی ہو گیا۔
چھٹی بات:
میں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے سے دشمنی رکھتے ہیں، ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں اور لڑتے جھگڑتے ہیں۔
پھر میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا:
> "إن الشيطان لكم عدوّ فاتخذوه عدوّا"
(فاطر: 6)
"یقیناً شیطان تمہارا دشمن ہے، تو تم اُسے دشمن ہی بنا کر رکھو۔"
تو میں نے لوگوں سے دشمنی ترک کر دی، اور شیطان سے دشمنی میں لگ گیا۔
ساتویں بات:
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ رزق کی طلب میں خود کو ذلیل کر رہے ہیں، حتیٰ کہ حرام میں بھی داخل ہو جاتے ہیں۔
پھر میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پڑھا:
> "وما من دابة في الأرض إلا على الله رزقها"
(ھود: 6)
"زمین پر جو بھی جاندار ہے، اس کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔"
تو میں نے جانا کہ میں بھی انہی مخلوقات میں سے ہوں، چنانچہ میں نے اپنے ذمہ کے فرائض پر توجہ دی اور اپنے رزق کی فکر اللہ پر چھوڑ دی۔
آٹھویں بات:
میں نے دیکھا کہ ہر انسان کسی دوسرے انسان پر بھروسا کرتا ہے؛ کوئی مالدار پر، کوئی جاگیر پر، کوئی منصب پر۔
پھر میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پڑھا:
> "ومن يتوكل على الله فهو حسبه"
(الطلاق: 3)
"اور جو اللہ پر توکل کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔"
تو میں نے مخلوق پر بھروسا چھوڑ دیا، اور خالق پر توکل کی راہ اختیار کی۔
یہ سن کر شیخ نے کہا:
"اب سے میں تمہارا شاگرد ہوں!"
کتنی حقیر ہے دنیا ان لمحوں میں!
"لا إلـــه إلا الله"
نہ دنیا خوشگوار ہے مگر اللہ کے ذکر سے
اور نہ آخرت خوشگوار ہے مگر اللہ کی معافی سے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ
ہمیں جنت میں ایک ساتھ جمع فرمائے،
اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے متعلق فرمایا:
> "وجوه يومئذٍ مسفرة، ضاحكةٌ مستبشرةٌ"
(عبس: 38-39)
"اس دن کچھ چہرے خوشحال ہوں گے، ہنستے ہوئے اور خوشیاں مناتے ہوئے۔"
بہترین ساتھی وہ ہے
جو تم سے اللہ کے لیے محبت رکھے،
تمہیں اللہ کی یاد دلائے،
تمہیں اللہ کے غضب سے ڈرائے،
اور تمہیں اللہ سے ملاقات کی رغبت دلائے۔
(عربی پوسٹ سے مترجم)
بھائی نے تو پریس بریفنگ میں سچ بول کر سب کو لاجواب کر دیا! 👏
"غریب کا ٹیکس کاٹ کر سم بلاک، اور دبئی میں اربوں کے اثاثے رکھنے والوں کو کھلی چھوٹ۔ حکمران طبقہ اپنے مفت پٹرول، بجلی اور گیس کے مزے کم کرنے کو تیار نہیں، سارا بوجھ بس غریب عوام پر۔"
#Budget2026#BudgetForPakistan
📖 *ہر نئی صبح ایک حدیث کے ساتھ*🌹
*عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ .*
*رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جو ( کسی کو ) نقصان پہنچائے گا، اللہ اسکا نقصان کر دے گا اور جو کسی کو مشکل میں ڈالے گا، اللہ اس پر سختی کرے گا .*
*The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever harms others, Allah (SWT) will harm him; and whoever causes hardship to other Allah will cause hardship to him .*
ابن ماجہ 2342
ایک شخص نے إمام إبن المبارك رحمه اللہ تعالٰی سے عرض کیا:
"مجھے کوئی نصیحت فرمائیے.."
تو آپ نے اس سے فرمایا:
"فضول دیکھنے کو چھوڑ دو، تمہیں خشوع کی توفیق مل جائے گی۔
فضول گفتگو کو چھوڑ دو، تمہیں حکمت کی توفیق مل جائے گی۔
فضول کھانے کو چھوڑ دو، تمہیں عبادت کی توفیق مل جائے گی۔
اور لوگوں کے عیبوں کی ٹوہ میں رہنا چھوڑ دو، تمہیں اپنے عیوب پر نظر رکھنے کی توفیق مل جائے گی۔"
🤲🙏🤲
زوال پذیر قوموں کی نشانیاں ۔
علامہ ابنِ خلدون نے اپنے شہرہ آفاق "مقدمہ" میں ریاستوں کے عروج و زوال کے جو قوانین بیان کیے ہیں، وہ صدیوں گزرنے کے بعد بھی اتنے ہی سچے ہیں جتنے ان کے دور میں تھے۔ ابنِ خلدون کے مطابق، جب کسی سلطنت یا ریاست پر زوال کا سایہ لہراتا ہے، تو صرف عمارتیں نہیں گرتیں اور سرحدیں نہیں سکڑتیں، بلکہ معاشرے کا پورا اخلاقی، سماجی اور نفسیاتی ڈھانچہ پگھلنے لگتا ہے۔
زوال کے اس دورِ بلا خیز میں ریاست کے حالات کیسے ہوتے ہیں اور وہاں کس قسم کے لوگ جنم لیتے ہیں؟ آئیے ابنِ خلدون کی بصیرت کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
زوال پذیر ریاست کے عمومی حالات
ابنِ خلدون کے نزدیک ریاست کا زوال اچانک نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک بتدریج عمل ہے جس کی چند واضح علامات ہوتی ہیں:
عصبیت (سوشل کوہیژن) کا خاتمہ: ریاست کی بنیاد جس یکجہتی، مشترکہ مقصد اور بھائی چارے پر ہوتی ہے، زوال کے وقت وہ ختم ہو جاتی ہے۔ لوگ گروہوں، فرقوں اور ذاتی مفادات میں بٹ جاتے ہیں۔
ٹیکسوں کا بوجھ اور معاشی بحران: حکمران طبقے کے شاہانہ اخراجات اور عیاشیاں بڑھ جاتی ہیں۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے عوام پر بھاری اور ناجائز ٹیکس لگائے جاتے ہیں، جس سے تجارت اور زراعت تباہ ہو جاتی ہے۔
انصاف کا اٹھ جانا اور ظلم کا عام ہونا: قانون صرف کمزور کے لیے رہ جاتا ہے۔ ابنِ خلدون لکھتے ہیں کہ "ظلم حکومت کی تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے"، جہاں طاقتور کو ہر جرم کی معافی مل جاتی ہے۔
سودے بازی اور بیرونی اثر و رسوخ: سلطنت اپنی اندرونی کمزوری کی وجہ سے بیرونی قوتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے لگتی ہے اور فیصلے اپنے مفاد کے بجائے دوسروں کے دباؤ میں کیے جاتے ہیں۔
زوال کے ماحول میں جنم لینے والے کردار
جب ریاست کا ڈھانچہ گل سڑ رہا ہوتا ہے، تو ابنِ خلدون کے مطابق معاشرے میں خاص قسم کی نفسیات اور کردار ابھرتے ہیں جو زوال کی رفتار کو مزید تیز کر دیتے ہیں:
۱۔ خوشامدی اور موقع پرست طبقہ (The Sycophants)
زوال پذیر دور میں اہلیت اور میرٹ کی جگہ "خوشامد اور جی حضوری" لے لیتی ہے۔ حکمرانوں کے گرد ایسے درباریوں اور مشیروں کا گھیرا ہوتا ہے جو انہیں سچی بات بتانے کے بجائے صرف وہ سناتے ہیں جو ان کے کانوں کو بھلا لگتا ہے۔ یہ لوگ عاقبت اندیش نہیں ہوتے بلکہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے ماہر ہوتے ہیں۔
۲۔ طفیلیے اور تن آسان لوگ (The Parasites)
معاشرے میں محنت کی عظمت ختم ہو جاتی ہے۔ لوگ پیداواری کاموں (تجارت، صنعت، علم) کے بجائے حکومت کے مالِ مفت پر نظریں جمائے رکھتے ہیں۔ ہر شخص سلطنت کے وسائل کو لوٹنے اور وظیفوں پر زندگی گزارنے کو ترجیح دیتا ہے، جس سے معاشرہ معاشی طور پر بانجھ ہو جاتا ہے۔
۳۔ اخلاقی پستی اور مایوس عوام (The Cynics & Apathics)
عوام میں سے غیرت، شجاعت اور سچائی کا مادہ رخصت ہونے لگتا ہے۔ مسلسل ظلم اور بے انصافی کی وجہ سے لوگ انتہائی خود غرض ہو جاتے ہیں۔ "پہلے میں" کی نفسیات جنم لیتی ہے۔ لوگ اجتماعی مفاد کو بھول کر صرف اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہیں اور معاشرے میں ایک عام مایوسی اور بے حسی پھیل جاتی ہے۔ ۴۔ مصنوعی اور نمائشی اشرافیہ
اس دور کے حکمران اور امرا اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے نمائش اور پروٹوکول کا سہارا لیتے ہیں۔ بڑی بڑی گاڑیاں (یا اس دور کی سواریاں)، عالی شان محل اور نوکر چاکر کی کثرت تو ہوتی ہے، لیکن ان کے اندر فیصلے کرنے کی جرات اور شجاعت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔
خلاصہ کلام
ابنِ خلدون کا یہ فلسفہ دراصل ایک آئینہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب کسی قوم میں عزم و ہمت، انصاف اور یکجہتی ختم ہو جائے، تو قدرت اس کی جگہ ایسے لوگوں کو دے دیتی ہے جو زوال کے سوداگر ہوتے ہیں۔ تاریخ کا یہ سبق آج بھی زندہ ہے کہ سلطنتیں صرف بیرونی حملوں سے نہیں، بلکہ اپنی اندرونی اخلاقی اور معاشی سڑاند سے مرتی ہیں۔
@AllahHulHaq@peopletalkshows Dear Sister if you think otherwise, or have any other outcome
Share your opinion with your research,
Or let us know where are you going with this or what are you trying to prove??????
تاریخ کا سچ اور افسانہ
تحریر: [پی ٹی ایس]
تاریخ کے جھروکوں میں کچھ سچ اتنے گہرے دفن ہوتے ہیں کہ وقت کی گرد ہٹنے پر جب وہ سامنے آتے ہیں، تو مروجہ بیانیے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کو ایک "عظیم اور خودمختار حکمران" بنا کر پیش کرنے کا فیشن عام ہے، لیکن جب ہم 1806 اور 1809 کے معاہدوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں، تو حقیقت کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔
حقیقت کیا ہے اور افسانہ کیا؟
افسانہ: رنجیت سنگھ ایسٹ انڈیا کمپنی کے کٹر مخالف تھے اور انہوں نے انگریزوں کو پنجاب میں گھسنے نہیں دیا۔
حقیقت: رنجیت سنگھ نے اپنے اقتدار کی بقا اور مغربی سرحدوں (پشتون علاقوں) پر تسلط کے لیے انگریزوں کو اپنا سب سے بڑا اتحادی بنایا اور مسلم ریاستوں کے خلاف انگریزی مہرہ بنے۔
1806 کا معاہدہ لاہور: مرہٹوں کے ساتھ غداری
جب مرہٹہ سردار جسونت راؤ ہولکر انگریزوں سے شکست کھا کر امرتسر پہنچا اور رنجیت سنگھ سے مشترکہ محاذ بنانے کی اپیل کی، تو رنجیت سنگھ کے پاس پورے ہندوستان کو انگریزوں کے چنگل سے بچانے کا ایک سنہری موقع تھا۔ لیکن رنجیت سنگھ نے برصغیر کے وسیع تر مفاد پر اپنے گروہی مفاد کو ترجیح دی۔ اس نے لارڈ لیک (Lord Lake) کی قیادت میں آئی کمپنی کی فوج سے خوفزدہ ہو کر 1806 میں معاہدہ لاہور کیا، جس کے تحت ہولکر کو دیس نکالا دیا گیا اور انگریزوں کے دشمنوں سے ہمیشہ کے لیے ناطہ توڑ لیا گیا۔
1809 کا معاہدہ امرتسر: "دائم دوستی" کا جال
چارلس مٹکاف (Charles Metcalfe) اور رنجیت سنگھ کے مابین ہونے والا "معاہدہ امرتسر" تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں پنجاب کی قسمت انگریزوں کے ہاتھ گروی رکھ دی گئی۔ اس معاہدے کے آغاز میں ہی "Perpetual Friendship" (دائم دوستی) کے الفاظ درج تھے۔
انگریز شاطر تھے، انہوں نے رنجیت سنگھ کو دریائے ستلج کے مشرق میں بڑھنے سے روک دیا (تاکہ دہلی اور کلکتہ محفوظ رہیں) اور اسے مغرب (پشاور، کشمیر، ڈیرہ جات) کی طرف ہندوکش تک مار دھاڑ کی کھلی چھوٹ دے دی۔
سید احمد شہیدؒ اور رنجیت سنگھ کا ٹکراؤ
جب سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے 1826 میں سکھوں کے خلاف جہاد کا آغاز کیا، تو یہ کوئی "نئی جنگ" نہیں تھی، بلکہ یہ رنجیت سنگھ کے اس ظلم اور جارحیت کا دفاع تھا جو وہ پشاور اور ملحقہ افغان علاقوں پر کر رہا تھا۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ سید صاحب نے رنجیت سنگھ کو خطوط لکھے، یہاں تک کہ اسے اسلام لانے پر حکمرانی برقرار رکھنے اور اپنی بیٹی کی شادی تک کی پیشکش کی تاکہ انگریز کے خلاف ایک مسلم-سکھ متحدہ محاذ بن سکے، لیکن کمپنی کے وفادار رنجیت سنگھ نے اسے ٹھکرا دیا۔
رنجیت سنگھ ٹیپو سلطان کی شہادت (1799) اور مرہٹوں کے زوال سے کوئی سبق نہ سیکھ سکا۔ وہ انگریزوں کی چال نہ سمجھ سکا اور اپنی موت (1839) کے محض دس سال بعد ہی اس کی سلطنت کو اسی "دائم دوست" انگریز نے نگل لیا۔
جو لوگ آج بھی رنجیت سنگھ کو انگریز کا مخالف اور مجاہدینِ بالاکوٹ کو کمپنی کا ایجنٹ ثابت کرنے کی علمی بددیانتی کرتے ہیں، انہیں تعصب کا چشمہ اتار کر 1806 اور 1809 کے معاہدوں کا متن دوبارہ پڑھنا چاہیے
پی ٹی آئی نے عمران خان کی پراپرٹیز کی منی ٹریل جاری کر دی ہے ۔
📢 **عمران خان کی ون کانسٹیٹیوشن ٹاور پراپرٹیز کی مکمل منی ٹریل جاری!**
تفصیلات کے مطابق عمران خان نے دونوں پراپرٹیز موروثی اثاثے اور پرانا اپارٹمنٹ بیچ کر خریدیں اور 2022 کے ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کیں:
1️⃣ **کمرشل دکان:** ٹیکس سال 2022 میں میاں چنوں (خانیوال) کی 530 کنال موروثی زرعی زمین 15 کروڑ 91 لاکھ میں فروخت کی، جس میں سے 12 کروڑ 58 لاکھ روپے کی یہ دکان خریدی۔
2️⃣ **رہائشی فلیٹ:** کل قیمت 3 کروڑ 40 لاکھ روپے تھی۔ 2015 میں ڈپلومیٹک اینکلیو کا اپارٹمنٹ (جو 1989 سے ملکیت میں تھا) بیچ کر 1 کروڑ 19 لاکھ کی ڈاؤن پیمنٹ دی، جبکہ باقی اقساط خانیوال کی زمین کی فروخت سے پوری کیں۔
#ImranKhan #MoneyTrail #ConstitutionAvenue
@PTIofficial
📖 *ہر نئی صبح ایک حدیث کے ساتھ*🌹
*عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَا مِنْ أَيَّامٍ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ وَلَا أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعَمَلُ فِيهِنَّ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنْ التَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ .*
*نبی ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی دن اللہ کے ہاں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والے نہیں ہیں اور نہ ہی کسی دن کا عمل اللہ تعالی کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے تہلیل (لا الہ الا اللہ) ،تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمد للہ) کہو .*
*The Prophet ﷺ said: No day is greater in the sight of Allaah than these ten days, nor is the deed of any day dearer to Allaah than the deed of these ten days. So in these ten days frequently say Tahlil (La ilaha illa Allah), Takbir (Allahu Akbar) and Tahmid (Alhumdulillah) .*
مسند احمد 5446
Brother Amin Abdullah guarded the San Diego mosque for years. Today, he became a shield between the shooters and the children, helping stop them from reaching innocent lives. اِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
سائیفر کا مکمل ترجمہ :
صفحہ نمبر 1
**خفیہ (SECRET)**
**فوری ترین / بغیر کسی کارروائی کے (MOST IMMEDIATE / NIACTION)** **رسید (RECEIPT)** **پھیلاؤ ممنوع ہے (NO CIRCULATION)** **ٹیلی گرام گریڈ-II (TELEGRAM GRADE-II)** **یہ ایک نان-او ٹی پی (Non-OTP) سائفر پیغام کا اصل متن (سادہ زبان میں کاپی) ہے۔** *یہ ایک قابلِ احتساب/نمبر شمار والی دستاویز ہے۔ اس ٹیلی گرام کی فوٹو کاپی کرنا سخت ممنوع ہے۔*
* **سی سی نمبر:** I-0678
* **منجانب:** پاریپ واشنگٹن (PAREP WASHINGTON - واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ)
* **بنام:** فارن اسلام آباد (FOREIGN ISLAMABAD - وزارتِ خارجہ اسلام آباد)
* **نمبر/تاریخ:** 89، 07 مارچ 2022
* **فارن سیکرٹری (صرف) کی طرف سے سفیر کا پیغام**
آج میری جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ، ڈونلڈ لو (Donald Lu) کے ساتھ لنچ پر میٹنگ ہوئی۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ لیس ویگیری (Les Viguerie) بھی تھے۔ ڈی سی ایم (DCM)، ڈی اے (DA) اور کونسلر قاسم بھی میرے ساتھ شریک تھے۔
**2.** آغاز میں، ڈونلڈ (ڈون) نے یوکرین کے بحران پر پاکستان کے موقف کا حوالہ دیا اور کہا کہ "یہاں اور یورپ میں لوگ اس بات پر کافی فکر مند ہیں کہ پاکستان کیوں (یوکرین پر) اس قدر جارحانہ طور پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کر رہا ہے، اگر ایسا موقف ممکن بھی ہے۔ ہمیں یہ ایک غیر جانبدارانہ موقف معلوم نہیں ہوتا"۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل (NSC) کے ساتھ اپنی بات چیت میں، "یہ بالکل واضح لگتا ہے کہ یہ وزیر اعظم کی پالیسی ہے"۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں یہ معاملہ "اسلام آباد میں جاری موجودہ سیاسی ڈراموں سے جڑا ہوا ہے جس کی انہیں (وزیر اعظم کو) ضرورت ہے اور وہ ایک عوامی چہرہ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں"۔
میں نے جواب دیا کہ یہ صورتحال کا درست تجزیہ نہیں ہے کیونکہ یوکرین پر پاکستان کا موقف گہرے اندرونی ادارہ جاتی مشوروں کا نتیجہ تھا۔ پاکستان نے کبھی بھی عوامی دائرے میں سفارت کاری کا سہارا نہیں لیا۔ وزیر اعظم کے ایک سیاسی جلسے کے دوران ریمارکس اسلام آباد میں یورپی سفیروں کے عوامی خط کے ردعمل میں تھے، جو کہ سفارتی آداب اور پروٹوکول کے خلاف تھا۔ کوئی بھی سیاسی رہنما، خواہ وہ پاکستان میں ہو یا امریکہ میں، ایسی صورتحال میں عوامی جواب دینے پر مجبور ہوتا۔
**3.** میں نے ڈونلڈ سے پوچھا کہ کیا امریکہ کے شدید ردعمل کی وجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) میں ووٹنگ کے دوران پاکستان کا غیر حاضر رہنا تھا؟ انہوں نے واضح طور پر نفی میں جواب دیا اور کہا کہ یہ وزیر اعظم کے دورہِ ماسکو کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ:
> "میرا خیال ہے کہ اگر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، تو واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا کیونکہ روس کے دورے کو وزیر اعظم کا ذاتی فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔ بصورتِ دیگر، مجھے لگتا ہے کہ آگے کا راستہ بہت مشکل ہو گا"۔
>
وہ کچھ دیر رکے اور پھر کہا: "میں یہ نہیں بتا سکتا کہ یورپ اسے کس طرح دیکھے گا لیکن مجھے شک ہے کہ ان کا ردعمل بھی ایسا ہی ہوگا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ایمانداری سے، میرا خیال ہے کہ یورپ اور ریاستہائے متحدہ کی طرف سے وزیر اعظم کی تنہائی بہت شدید ہو جائے گی"۔ ڈونلڈ نے مزید تبصرہ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کا دورہِ ماسکو بیجنگ اولمپکس کے دوران طے کیا گیا تھا اور وزیر اعظم کی جانب سے پیوٹن سے ملاقات کی کوشش کی گئی تھی جو کامیاب نہیں ہوسکی، اور پھر یہ خیال تیار ہوا کہ وہ ماسکو جائیں گے۔
**4.** میں نے ڈونلڈ کو بتایا کہ یہ مکمل طور پر غلط معلومات اور غلط تاثر پر مبنی ہے۔ ماسکو کا دورہ پچھلے کچھ سالوں سے زیرِ غور تھا اور یہ ایک طویل ادارہ جاتی عمل کا نتیجہ تھا۔ میں نے اس بات پر زور دیا کہ جب وزیر اعظم ماسکو کے لیے پرواز کر رہے تھے، اس وقت یوکرین پر روسی حملہ شروع نہیں ہوا تھا اور ابھی بھی ایک پرامن حل کی امید باقی تھی۔
دوسرے صفحے کے ترجمے کے لیے کوٹوئیٹ دیکھیں ۔