ڈاکٹر عفان ایک نمبر کا چُوتیا ہے۔ ویوز کے چکر میں تربوز کو انجکشن لگانے والی بےسروپا بکواس کر کے نہ صرف تربوز کے کاشتکاروں بلکہ اس سے جڑے لاکھوں غریبوں کا نقصان کیا ہے۔
جس ریڑھی والے سے کل تربوز خریدا وہ بتا رہا تھا کہ جو گاہک آتا یہی کہتا کہ تم انجکشن لگا کر زہر بیچ رہے ہو۔
پاکستان میں بیسٹ کوالٹی تربوز پیدا ہوتا اور وہ بھی وافر مقدار میں اس لیے اتنا سستا ہے۔ ٹنوں کے حساب سے تربوز روز مارکیٹ آتا اور کھیتوں سے ٹرکوں کے حساب سے سودا ہوتا ہے۔ اتنا وقت کہاں ان کے پاس کے تربوز کو ٹیکے لگائیں۔ بیرون ملک کسی پاکستانی سے پوچھنا 4 سے پانچ پاؤنڈ کا ایک کٹا ٹکڑا بکتا ہے وہاں جو پاکستانی بارہ تیرہ سو روپے بنتے ہیں۔
خدا کے لیے ہر جاہل کی بکواس پر آنکھیں بند کر نہ عمل کیا کرو۔ انہوں نے جوس کمپنیوں سے پیسے پکڑے ہوتے ایسی کمپین کے لیے تو کہ لوگ گرمی میں تربوز چھوڑ کر ان کے مشروب استعمال کریں۔
ہونا ، گفتگو میں شریک نہ ہونا ، اس کا نا قابل تلافی نقصان ہو گا۔ کیا آ پ سوچنا سیکھ رہے ہیں ، سوچنا آ جائے ، باقی معاملات خود ہی سیٹ ہو جائیں گے۔ گولی باز صرف سیاستدان نہیں ہیں ، ہر جگہ ملیں گے۔ اتنے جوان تو ہو جائیں کہ آ پ کو دھوکا نہ دیا جا سکے۔
سوچنے کا فن بہت ضروری ہے۔
1960 میں لکھی ہوئی کتاب کو پڑھنے پڑھانے کو تعلیم سمجھنا غلطی ہے۔ وہ تو ٹرمینالوجی سیکھا سکتی بس، ضروری ہے کہ سمجھا جائے کہ اس مضمون کا علم آ ج کہا ں پہنچ گیا ، ضروری ہے کہ یہ اندازہ قائم کیا جائے کہ یہ علم اگلے پانچ سالوں میں کہا ں پہنچ جائے گا،
تعلیمی اداروں میں جدت نہ آ ئی ، نئی چیزوں کو سمجھنے کے بارے نہ سوچا گیا تو تعلیمی ادارے اپنے اہمیت گنوائیں گے اور پھر بند ہونے لگیں گے۔
جوانو ، سوچتے رہو ، سمجھتے رہو۔ سوال پوچھتے رہو ، گونگے بن کر لیکچر اٹینڈ کرنا، سوچ کا شریک نہ ہونا ، گفتگو میں شریک نہ
فائز عیسی یہ کیس خود کیسے سن سکتا ہے!
فائز عیسی واقعاتی شہادتوں کی بنیاد پر خود فریق ہے۔ فائز عیسی نے فوج سے مل کر تحریک انصاف کو نشانہ بنایا اور جبرا چوروں کو دو تہائی اکثرئت دلوائی تاکہ اسے ایکسٹینشن مل سکے۔ فائز عیسی آئی ایس آئی سیف ہاوسز میں ڈی جی آئی ایس آئی سے الیکشن سے قبل مسلسل ملاقاتیں کرتا رہا۔
فائز عیسی کے فوج کیساتھ اسی گٹھ جوڑ کی بنیاد پر فوج نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو ہراساں کیا۔ یعنی اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو ہراساں کروانے میں فائز عیسی ملوث ہے۔
اب ایسے میں جو شخص خود ملزم ہو یا جسے فائدہ مل رہا ہو یا جس پر الزام ہو وہ خود ہی اپنے اوپر لگے الزامات کا کیس کیسے سن سکتا ہے؟
تحریک انصاف یہ مطالبہ بھی کرے کہ فائز عیسی خود ایسے کسی کیس میں نہ بیٹھے کیونکہ فائز عیسی تو خود اس سارے سیٹ اپ سے مفاد کشید کررہا ہے اور یہی سارا نظام تو آزاد عدلیہ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بڑے بڑے وکلاء فائز عیسی سے اپنی یاری دوستی نبھانا بس کردیں اور اب وقت ہے کہ کھل کر سامنے آئیں۔
جب فرعون کی آنکھوں کے سامنے اللہ نے موسی کے لشکر کے لیے پانی میں رستہ بنایا تو اللہ نے اُسے ایک آخری موقع دیا تھا حق کو تسلیم کرنے کا۔ یہ ماننے کا کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو قادرِ مطلق ہے۔ کہ فرعون کوئ نہیں ہوتا خلقِ خدا کے فیصلے کرنے والا۔ مگر فرعون اپنی طاقت کے غرور میں مست چلتا گیا۔ اس کے تکبر نے اُسے سامنے کی حقیقت نہیں دیکھنے دی۔ یہ حقیقت کہ اللہ تعالی لا الہ الا للہ پر ایمان رکھنے والوں کی پشت پر ہے۔ یہ کہ اُس کی خدائ جھوٹ پر کھڑی ہے۔ وہ اپنی گمراہی میں اس حد تک چلا گیا تھا کہ وہ خود کو ملنے والے آخری موقع کو بھی نہیں پہچان سکا۔
موسی کے لشکر کے سامنے بھی تو ایسا لمحہ آیا تھا کہ جدھر وہ نعوذ باللہ اللہ کی کبریائ سے مایوس ہو کر اُس کی حکمت پر سوال اٹھاتے۔ پیچھے خدائ کا دعویدار، آگے لپکتی لہریں۔ نا آگے جا سکتے نہ پیچھے مڑ سکتے۔ تھے تو وہ بھی انسان۔ ایک لمحے کو شاید انہوں نے بھی سوچا ہو کہ اُن کے سفر کا انجام بس یہی تھا۔ مگر کیا چیز تھی جو انہیں فرعون کے لشکر سے مختلف بنا رہی تھی؟ ایمان۔ ایمان کا تقاضہ تھا کہ وہ اپنا سرجھٹک کر اللہ پر بھروسہ رکھ کر آگے بڑھتے۔ کہ وہ اپنی reality کو confront کرتے، کیونکہ وہ حق پر تھے۔
فرعون کی فرعونیت اور اہلِ ایمان کا انجام صرف اس ایک لمحے کے فیصلے پر مربوط تھا۔ وہ ایک لمحہ جس میں فرعون نے اپنے تکبر میں رُکنے سے انکار کیا۔ وہ ایک لمحہ جس میں اہل ایمان نے کسی وسوسے کو دل میں جگہ نہ دے کر جھکنے سے انکار کیا۔ اُس ایک لمحے نے دونوں لشکروں کا انجام لکھا۔ اللہ چاہتا تو وہ فرعون کو اس لمحے سے پہلے بھی غرق کرسکتا تھا۔ اللہ چاہتا تو ایمان والو کو کسی اور راستے بھی نکال سکتا تھا اُس کی خدائ میں کون سی بات ناممکن تھی؟
مگر اللہ نے اُس ایک لمحے میں دونوں لشکروں کو موقع دیا۔ ایک کے تکبر نے اُسے غرق کردیا۔ دوسرے کے توکل نے اُسے امر کردیا۔
میرے پاکستانیو!
اللہ تبارک و تعالی جب ہم سے پچھلی قوموں کے واقعات بیان کرتا ہے تو کہتا ہے کہ اِن سے سبق سیکھو۔ آج ہم ایسے ہی ایک لمحے میں کھڑے ہیں۔ وقت کا فرعون اپنی طاقت کے نشے میں نقارۂ خدا کو جھٹلا چکا ہے۔ آپ کے فیصلے پر بارگیننگ اور ڈیلیں کی جارہی ہیں۔ اقتدار کا فیصلہ مفادِ عامہ/ ملکی مفاد نہیں اپنی ذات اور اپنے آقاؤں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے مستقبل کو داؤ پر لگا کر چند افراد اپنی طاقت کو دوام دینے کی تگ و دو میں ہیں۔
مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ جو ایمان ہمیں اس کنارے تک لے کر آیا ہے وہی ہمیں یہ دریا پار بھی کرائیگا اور اسی پانی میں ان کا تکبر بھی غرق ہوگا۔ ہمیں نظر اپنی منزل پر رکھنی ہے اور دل میں وسوسوں کو جگہ نہیں دینی۔ یہ اپنا آخری موقع گنوا چکے ہیں اور ہمیں اللہ کے بھروسے پانی میں قدم رکھنا ہے۔
اپنے امیدواروں کی پشت پر کھڑے رہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو سال کی فسطائیت اور ہر قسم کے دباؤ کو برداشت کیا ہے۔ صرف اللہ اور آپ کے بھروسے۔ یہ آگے کے مرحلے بھی آپ کی سپورٹ سے طے کریں گے۔
اگر آپ کے امیدوار جیت گئے ہیں تو اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا کام یہاں ختم ہوگیا ہے۔ آواز اٹھاتے رہیں جس طرح ستائیس سال آپ کے لیڈر نے آپ کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
یاد رکھیں یہ الیکشن نہیں ہماری آزادی کی جنگ ہے۔ ہمارے لیے ایک ایک حلقہ اہم ہے۔ اس امر کو یقینی بنائیں کہ تمام حلقوں پر فارم-۴۵ کے مطابق حتمی نتائج مرتب ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پرامن طور پر متعلقہ آر او آفس کے باہر بیٹھیں اور تب تک بیٹھے رہیں جب تک درست نتیجہ جاری نہیں ہوتا۔
میں جانتا ہوں ہم میں سے بہت سے مایوس ہورہے ہوں گے۔ بہت سوں کے ذہن میں یہ ڈالا جارہا ہوگا کہ تمہارا اختیار بس یہیں تک تھا۔ مگر یاد رکھیں بحیثیتِ قوم ہماری زندگی موت کا فیصلہ اس لمحے نے کرنا ہے۔ اگر ہم ڈٹے رہتے ہیں۔ ہم اِن کی خدائی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار نہیں کرتے تو اُس ذات کے لیے نہ کل پانی میں رستے بنانا مشکل تھا نہ آج مشکل ہے۔
I echo the @StateDept call for a full investigation of election interference and fraud in Pakistan. Now is the time for the international community to stand on the side of the people of Pakistan. We cannot recognize a new government until it is clear that democracy has prevailed.
Since my colleagues and I raised our concerns about human rights in Pakistan last November, things have only gotten worse. There can't be free and fair elections when one of the opposition parties has been criminalized.
https://t.co/ZG8giXTjVM
We recognise serious concerns over the fairness and lack of inclusivity of Pakistan’s elections.
Authorities must uphold fundamental human rights including free access to information and the rule of law.
I applaud all who voted.
https://t.co/15U4EcmRjK
This is Hitler's bunker moment for Asim Munir. And not just Asim Munir, if his Corps Commanders back him for this massive ongoing theft, they will all be swept away in the tsunami.
I echo the @StateDept call for an investigation of election interference & fraud in Pakistan.
The U.S. should ensure that a credible, independent investigation is completed before recognizing a result. We must protect democracy & the will of the people.
https://t.co/LHcAIQuKc1
Very concerned by reports of vote manipulation and interference in Pakistan's election. I agree with the @StateDept that we need a full investigation. The will of the Pakistani people must be respected.
February 8th saw a historic election in Pakistan.
However, I am deeply concerned by the mounting evidence of military interference. I join the @StateDept in calling for a full investigation into any plot to overturn the will of the people.
Millions of Pakistanis exercised their democratic right at the ballot box yesterday, demonstrating their faith in democracy.
I stand with @StateDept in advocating for an investigation into alleged election interference and urge Pakistan’s leaders to uphold the democratic will of the people.