یہ ہے ایکٹویزم کا صحیح طریقہ
یہ ہے اے آئی کا صحیح استعمال
ٹرولنگ میمز تبرے ٹھیک ہے ان کی اپنی جگہ ہو گی!
مگر اس ویڈیو جیسے کام کی اشد ضرورت ہے جو شعور دے، عقل کی منطق کی بات کرے، جو سوچنے پہ مجبور کرے۔
بڑا ہو کر میں آرمی والا بھی بنوں گا نیوی والا بھی اور ائیرفورس والا بھی اورسب کا سب سے بڑا والا افسر بنوں گا اور سب کو کنٹرول کروں گا۔ پاکستان کا سب سے بڑا اور طاقتور آفیسر بنوں گا۔ سب مجھے سلوٹ کریں گے۔ میرے سے ڈریں گے۔ میں تاحیات سب سے بڑا آفیسر رہوں گا
عمران خان وزیر اعظم نا بنتا تو ایک ملک گیر سیاسی جماعت کا سربراہ تو تھا ، وہ بھی نا ہوتا تو ایک بہت بڑا فلاحی ادارہ بنانے والا ، وہ بھی نا ہوتا تو ورلڈ کپ وننگ ٹیم کا کپتان ، وہ بھی نا ہوتا تو اپنے وقت کا بہترین آل راونڈر ، وہ بھی نا ہوتا تو جہاں بھی ہوتا تو جو بھی کرتا کمال ہوتا کمال کرتا۔ یا پھر وہ جیسے عمران خان نے کہا تھا کہ اگر میں شوکت خانم بنا سکتا تھا ، نمل یونیورسٹی بنا سکتا تھا تو میری نظر کمزور نہیں تھی میں شوگر ملیں اور فیکٹریاں بھی بنا سکتا تھا۔
دوسری طرف؟ ایک عہدہ ، ایک عہدہ ، ایک عہدہ نا اس سے آگے کچھ نا اس کے پیچھے کچھ۔ اس کی جگہ کوئی بھی چھکن ، ڈھکن ، چھپن آسکتا تھا ، ایسا ہی دھنیا پانجہ ، ایسا ہی ٹٹ پونجیا ، ایسا ہی پھدو پھنٹر۔
عمران خان کے پیغام کو باہر آنے سے روکنا مائنس عمران ہے۔ بہنیں مجبور ہیں۔ شاید بھائی کی شکل دیکھنے کے لیے اس طرح کے بیانات حلفی پر دستخط کردیتی ہیں۔
عمران خان کی سیاست کا تحفظ انکی سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے۔ لانگ مارچ نتیجہ خیز ہوگا یہ نتیجہ یا تو عمران خان کی رہائی ہوگا یا سلمان اکرم راجہ ، بیرسٹر گوہر ، سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی گھر جائیں گے۔
یہ ماشکیل بلوچستان میں پچکی ہوئی ، ٹائر ہوا میں ، اور شاید کچھ ڈیڈ باڈیز کیساتھ بھی ہارڈ اسٹیٹ پڑی ہوئی ہے۔ اس ہارڈ اسٹیٹ نے سعودی عرب اور ترکی کا تحفظ کرنا ہے۔ اس ہارڈ سٹیٹ نے بتانا ہے کہ کون ملک چلائے گا اور کون نہیں۔
عدالت نے عمران خان کی بہنوں کا کیس جلد سننے سے معذرت کرلی ہے۔ سماعت 17 ستمبر کو ہی ہوگی۔ آئندہ اگر آپ عدالتی آبزرویشنز ، ریکارڈ مانگ لیا ، کیک بھیج دیا ، سعودی عرب نے کہہ دیا ، ترکی نے کہہ دیا جیسی خبروں پر یقین لائیں تو جس رجسٹر میں آپ کی تاریخ پیدائش کا اندراج ہے اس رجسٹر پر لعنت۔