مالاکنڈ سوات کی اس لڑکی نے دو ہفتے پہلے اپنے بوڑھے باپ کے ہمراہ پریس کلب پشاور میں پریس کانفرنس کر کے وزیر اعلی خیبر پختونخواہ سے قبضہ گروپس کے خلاف انصاف اور تحفظ کی اپیل کی تھی
پھر دیکھیں ہمارے ملک کا سسٹم اور خاص کر کے پی کے کا انصاف !!!!
اس کو انصاف اور تحفظ ملنے کے بجائے اج اس لڑکی کو باپ سمیت گولیوں سے چ ھن ل ی کر کے انصاف دیا گیا
اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا مافیا گروپ ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں۔
👈اس آواز کو حکومتی ارباب اختیار تک پہنچائیں۔
@syed_bacha@FarhanKVirk@GFarooqi
پمز کا بجٹ دس ارب روپے ہیں ۔۔ مگر کسی ایمرجنسی کی صورت میں نہ کوئی ایمرجنسی ایگزٹ ہے نہ کوئی اسٹاف نہ کوئی عملہ اور تو اور اسلام آباد جیسے بڑے شہر میں فائر برگئیڈ دس گھنٹے بعد پہنچی وہاں موجود لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دروازے کھڑکیاں توڑ کر بچے بچائے ۔
ان قابض حکمرانوں سے پوچھا جائے کہاں جاتا ہے اتنا پیسہ؟؟
لو،تمہاری غلط پالیسیوں کا انجام سامنے ہے۔
وادیٔ تیراہ میں امن کے لیے احتجاج کرنے والے عوام کو فوج کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔قبائلی علاقوں میں بے چینی اور مزاحمت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔
اب بھی وقت ہے،طاقت کے بجائےعوام کی آواز سنی جائے اور امن کے لیےسنجیدہ لائحۂ عمل اپنایا جائے
گوہر صاحب نے خود کو کرنل صاحب کی بیگم کی جگہ رکھ کر اُن کا درد محسوس کیا اور فیصلہ سنا دیا کہ ہم کرنل صاحب کے ساتھ ہیں، چاہے وہ طلبہ میں سے جسے چاہیں شوٹنگ پریکٹس کا نشانہ بنائیں۔🖐️
#PakistanUnderMilitaryFascism
سندھ نے بہت کچھ دیا ہے،
اب سندھ کا حق ہے کہ اس کی شناخت، اس کے وسائل اور اس کی وحدت کا بھی احترام کیا جائے۔
سندھ سب کا احترام کرے گا،
مگر سندھ اپنی وحدت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
4 سال بعد اللہ نے بیٹا دیا، آگ لگی تو انتظامیہ کا کوئی بندہ نظر نہیں آیا، نرسری کے تالے توڑنے کےلئے کوئی بندہ نہیں تھا، اندر میرا بیٹا تھا، تالہ توڑ کر اندر گیا، آگ نے اُٹھا کر مجھے باہر پھینکا، میں نے اپنے ہاتھوں سے چار سے پانچ جلے ہوئے بچے باہر نکالے، ایک باپ کا دُکھ۔!!💔
بلوچستان میں بھی مختلف قومیں اور زبانیں بولنے والےلوگ آبادہیں
تو پھر وہاں ہر شناخت کے نام پر الگ صوبے کیوں نہیں بنائے جاتے؟
اصول ایک ہے تو سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔
یا پھر مان لو کہ مسئلہ اصول کا نہیں، سندھ کا ہے!
پہلے اپنے صوبے کے ٹکڑے کرو، پھر سندھ کی بات کرنا!
آج جو لوگ سندھ کے مزید ٹکڑے کرنے کی بات کرتے ہیں، ان سے صرف ایک سوال ہے:
تم لوگوں نے اپنے صوبوں کے کتنے ٹکڑے کیے ہیں؟
اگر زبان، قوم اور آبادی کی بنیادپرنئے صوبے بنانے کا اصول اتنا ہی ضروری ہے، تو پھر یہ اصول صرف سندھ کے لیے کیوں؟
پنجاب میں سرائیکی بولنے والے آباد ہیں،
تو پہلے پنجاب میں سرائیکی صوبہ بنا کر دکھاؤ۔
خیبر پختونخوا میں افغان لوگ بھی بڑی تعداد میں رہتےہیں،
توپھرانکےلیےالگ صوبےکامطالبہ کیوں نہیں کیاجاتا؟
سندھ نے بہت کچھ دیا ہے،
اب سندھ کا حق ہے کہ اس کی شناخت، اس کے وسائل اور اس کی وحدت کا بھی احترام کیا جائے۔
سندھ سب کا احترام کرے گا،
مگر سندھ اپنی وحدت پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
سندھ اپنی زمین، اپنی ثقافت، اپنی زبان اور اپنی وحدت کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہے۔
ہم تقسیم نہیں چاہتے،
ہم نفرت نہیں چاہتے،
ہم کسی کو نکالنا نہیں چاہتے۔
ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ:
جو سندھ میں رہے، سندھ کی وحدت کا احترام کرے۔
1/3
جو سندھ کے وسائل سے فائدہ اٹھائے، سندھ کے حق کو بھی تسلیم کرے۔
اور جو سندھ کو اپنا گھر سمجھے، وہ گھر کے ٹکڑے کرنے کی بات نہ کرے۔
کیونکہ گھر سب کے لیے ہو سکتا ہے،
مگر گھر کے ٹکڑے کرنے کا حق کسی کو نہیں۔
پولیس کوکرنل کی بیوی کےخلاف ریاست کےکام میں مداخلت کاپرچہ دیناچاہیئے
کرنل کی بیوی کوہراساں کیاگیاکہنےوالے آنکھیں کھول کردیکھیں کیسےایک عورت بدمعاشی سےپولیس والوں سےڈنڈاچھین کرریاست کےکام میں مداخلت کررہی ہے یہ ہراساں ہونہیں رہی بلکہ اتنےسارے لوگوں کواکیلی ہراساں کر رہی ہے۔