گیارہ اکتوبر پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے 1973 بلوچستان میں عطاء اللہ مینگل کی حکومت گورنر راج لگا کر گرائی گئی اس کے بعد آج پچاس سال گزر چکے ہیں آپ بلوچستان پر قابو نہیں پاسکے۔ جب آپ نفرت بوتے ہیں وہ آسانی سے ختم نہیں ہوتی وہ اپنا زہریلا پھل دیتی ہے ہمیں خدشہ ہے خیبرپختونخوا میں بلوچستان والے حالات پیدا نہ ہوجائیں۔
ہم اپنی مزاہمت جاری رکھیں گے میں پوری قوم کو کہتا ہوں آپ پچیس کروڑ ہیں یہ کم ہیں یہ آپ پر قابض ہیں اگر آپ چار پانچ فیصد بھی گھروں سے نکل آئیں یہ نظام نہیں ٹک پائے گا۔ ہم پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑے ہیں ان شاء جلد فتح پائیں گے۔
سلمان اکرم راجہ
@salmanAraja
#گورنر_راج_نامنظور
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
۹ جنوری بروز جمعہ!!!
کراچی، سندھ تیار ہو؟
انشاءاللہ عمران خان صاحب کا پیغام لے کر ہم آرہے ہیں۔ تمام پارٹی کے دوستوں سے جمعہ کے دن ملاقات ہوگی۔ انشاءاللہ
اسکو ضرور Repost کریں
ٹھیک ہی کہا تھا عمران ریاض نے یہ لوگ پہاڑوں سے اتر کر نہیں آئے ۔ سوال کریں گے جواب مانگیں گے ۔ جواب دینا پڑے گا۔
نئی نسل کے سوالوں کا جواب آپ کے پاس نہیں ہے
اللہ تعالی جنید اکبر کی حفاظت فرمائے ظالموں کو سیدھا للکارا ہے ۔۔
اگر پی ٹی ائی کے شہیدوں کو شہید نہیں مانو گے تو میں بھی تمہارے شہیدوں کو شہید نہیں مانوں گا۔۔۔!!!
بھولنا مت 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ خان صاحب کے میڈیکل check-up کے لئے ضرور کیا کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے
کیونکہ ہمیں پمز اسپتال کے سرکاری ڈاکٹرز پر بلکل بھی بھروسہ نہیں
“میں عاصم منیر کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے ماننے والے ہیں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم جب تک زندہ ہیں یزیدیت اور فرعونیت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے کیونکہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی انسان کے آگے جھکنے کو شرک مانتے ہیں۔ مجھ پر اور بشرٰی بی بی پر جیل میں جو ذہنی تشدد ہو رہا ہے وہ عاصم منیر کروا رہا ہے اور اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم جھک جائیں یا ٹوٹ جائیں-
جنرل یحیٰی خان کو فوج نے ملک چلانے کے لیے منتخب نہیں کیا تھا بلکہ اس نے فوج کا کندھا استعمال کر کے ڈکٹیٹر شپ کی اور ملک میں ظلم و جبر کا بازار گرم کیا۔ اپنے دس سالہ اقتدار کی لالچ میں اس نے ملک دو لخت کر دیا۔ آج عاصم منیر بھی اسی طرز پر فوج کا کندھا استعمال کر کے ملک میں لاقانونیت اور فسطائیت کا ماحول بنائے ہوئے ہے۔
عاصم منیر نے اپنے دس سالہ ناجائز اقتدار کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔ سب سے پہلے جمہوریت کا گلا دبوچا، نو مئی کا فالس فلیگ کر کے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کچلا گیا، پھر 8 فروری کو انتخابات میں عوام نے جب تحریک انصاف کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے اور تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا تو اس مینڈیٹ کو بے شرمی سے چرا لیا گیا۔ عوام کا مینڈیٹ چرا کر سزا یافتہ لوگوں کو اقتدار دے دیا گیا۔ اس کے بعد عدلیہ کو مفلوج کیا گیا اور چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ججز کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے گئے۔ عدلیہ کو سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
تیسرے نمبر پر میڈیا کی آزادی پر قدغن لگا دی گئی ہے، آزاد میڈیا کا تصور پاکستان سے بالکل ختم ہو چکا ہے۔ نہایت مشکل سے پاکستان میں جیسی تیسی جمہوریت کے تسلسل سے یہ دو چیزیں، کسی حد تک خود مختار عدلیہ اور آزاد میڈیا تھا، مگر عاصم منیر کی وجہ سے ان دونوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت جمہوریت معطل ہے، انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے، عدلیہ غلام اور میڈیا خوفزدہ ہے۔
عاصم منیر جب سے چیف بنا ہے افغانستان کے ساتھ حالات خراب کرنے کی کوشش میں ہے۔ چیف بنتے ہی پہلے افغانستان کو دھمکیاں لگائیں، پھر تین نسلوں سے مقیم افغانیوں کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا پھر وہاں ڈرون حملے کیے اور پوری کوشش کی کہ ان کو اکسا کر پاکستان سے جنگ کروائی جائے اور پاکستان میں دہشتگردی کا ماحول بنایا جا سکے تاکہ مغرب میں موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابیز کو "مجاہد" بن کر دکھا سکے کہ میں ہی ہوں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ سکتا ہوں۔
جبر کے اسی نظام کے باعث پاکستان میں اس وقت معیشت بھی تاریخی سست روی کا شکار ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری بالکل صفر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنی کم سرمایہ کاری نہیں آئی جتنی اس دور میں ہوئی۔ تین سال میں ملک پر قرضہ دگنا ہو چکا ہے۔ ہر پاکستانی اس وقت قرضے کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ جب تک ملک میں عوامی حکومت قائم نہیں ہو گی معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
ملک میں اخلاقیات کا جو جنازہ اٹھا ہوا ہے اس کی بھی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو کام جنگوں میں بھی نہیں ہوتے وہ یہاں عوام کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے، بچوں کو اٹھا کر ہراساں کیا گیا، بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کبھی کسی سیاستدان کے گھر کی غیر سیاسی خواتین کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا جو میری اہلیہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جب ملک کا اقتدار ان چور لٹیروں کے ہاتھوں میں دے دیا جائے گا جن کی کرپشن کی داستانوں سے بچہ بچہ واقف ہے تو اخلاقیات ایسے ہی تباہ ہوں گی”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (17 ستمبر، 2025)
1/2
@MohsinnaqviC42 یہ فخر سے بتانے کی بات نہیں ایک وزیرداخلہ کے طور پر لمبر ون ہونے کے طور پر ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ دھشتگرد اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ آپکے صوبے کا وزیراعلی جان بخشی کے لئے بھتہ دے رہا ہے۔ لیکن تم حرامیوں میں غیرت ہوتی تو ڈوب مرتے ۔ نسل ہی ایسی ہے۔
اس نظام کے ڈوب کر غرق ہو جانے کا مقام ہے کہ عمران ریاض خان کو ایک بار پھر اُٹھا لیا گیا ہے۔ شرم، حیا اور غیرت جیسے الفاظ اس نظام اور اس کے چلانے والوں کے لئے معنی ہی نہیں رکھتے۔
انشاء اللہ ہم عمران بھائی اور اُن کے خاندان کے ساتھ ہیں اور پاکستان کے عوام بھی۔
قیامت سے پہلے قیامت کے مناظر 💔
فلسطین کے مسلمانوں کو یاد رکھیں اور کچھ نہ سہی کم ازکم آواز تو بلند کرتے رہیں، پی ایس ایل جیسے گھٹیا ڈراموں کا باٸیکاٹ کریں۔
ایک بحث شروع ھے اور ھکومت کے لیے حمایت رکھنے والے بیانیہ بنا رھے ھیں کہ عمران خان کو نہیں چاھیے تھا کہ وہ قرض رکوانے کے لیے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی بات کرتا اور اسکو ملک دشمنی سے تعبیر کر کیا جارھا ھے یہ بھی الزام لگایا جارھا ھے کہ زاتی مفادات کو ملکی مفادات پر ترجیع دی جارھی ھے ۔۔لیکن یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ھے ۔۔سارے حالات و واقعات کا جائیزہ لینا ھو گا پھر اس پر راے قائم کرنا ھو گی ۔۔سب سے پہلا سوال یہ ھے کہ کیا
تحریک انصاف کے امیدواروں کو جعل سازی سے ھرانا ۔۔دھاندلی کر کے لوگوں کی رائے پر ڈاکہ ڈالنا ۔۔سیاسی اور زاتی مفادات کو ملکی مفادات سے اوپر کرنے کے مترادف نہیں ھے ؟؟ عمران خان نے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی بات دھاندلی اور جعلُسازی کے رد عمل میں اس وقت کی ھے جب ھماری عدالتیں بیوروکریسی اور ریاست انصاف فراھم کرنے سے انکاری ھے ۔۔کسی بھی عمل کے رد عمل پر تنقید سے پہلے عمل کو دیکھناُپڑے گا اور اصل بات یہ ھے کہ اگر دھاندلی اور بے ایمانی سے شکست کھانےُوالوں کو جیتا ھوا ظاہر نہ کیا جاتا تو آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی بات ھی نہ ھوتی ۔۔اس لیے صرف عمران خان پر تنقید مناسب نہیں ھے دھاندلی کر کے ایسی صورت حال پیدا کرنے والے نقالوں سے ھو شیار رھنے کی ضرورت بھی ھے