🏑💔 بھارتی ہاکی کے کھلاڑی سندیپ سنگھ نے اپنے کیریئر میں تقریباً 110 گول کیے۔ 2006 میں ایک المناک حادثے کا شکار ہوا، موت کے منہ سے واپس آیا اور دوبارہ میدان میں اترا۔ اس کی جدوجہد کو سراہنے کے لیے بھارت نے 2018 میں اس کی زندگی پر فلم "سورما" بنا دی، جسے کروڑوں لوگوں نے دیکھا اور آج بھی سندیپ سنگھ کو قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ 🇮🇳🎬
مگر ذرا اپنے گریبان میں جھانکیے...
پاکستان کے پاس سہیل عباس جیسا عظیم کھلاڑی تھا، ہے اور رہے گا۔ وہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کی ہاکی تاریخ کا سب سے بڑا پینلٹی کارنر اسپیشلسٹ مانا جاتا ہے۔
🔥 348 بین الاقوامی گول!
جی ہاں، 348 گول... ایک ایسا عالمی ریکارڈ جو آج بھی قائم ہے اور جس تک پہنچنا دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کے لیے خواب ہے۔
2001 میں اس نے ایک ہی سال میں 100 سے زائد گول کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ جب سہیل عباس پینلٹی کارنر لینے آتا تو مخالف گول کیپر کے چہروں پر خوف صاف نظر آتا تھا۔ اس کی ڈریگ فلک بجلی کی طرح گول پوسٹ میں جا لگتی تھی۔
2002 ایشین گیمز کے طلائی تمغے سے لے کر چیمپئنز ٹرافی اور اولمپکس تک، پاکستان کی کامیابیوں کے پیچھے ایک نام بار بار سامنے آتا تھا: سہیل عباس۔
لیکن افسوس...
نہ اس پر کوئی فلم بنی۔
نہ کوئی بڑا ڈرامہ۔
نہ کوئی یادگار۔
نہ کوئی مجسمہ۔
آج کی نسل کے بہت سے نوجوان شاید اس عظیم نام سے بھی واقف نہیں۔
یہ صرف ایک کھلاڑی کو بھولنا نہیں...
یہ اپنی تاریخ کو بھولنا ہے۔
یہ اپنے اصل ہیروز کو فراموش کرنا ہے۔
ہم فلمی کرداروں اور وقتی شہرت رکھنے والوں کو تو یاد رکھتے ہیں، مگر وہ لوگ جو پاکستان کا پرچم دنیا بھر میں بلند کرتے رہے، خاموشی سے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔
سہیل عباس صرف ایک کھلاڑی نہیں...
وہ پاکستان ہاکی کے سنہری دور کی آخری روشن یادوں میں سے ایک ہے۔
🏑🇵🇰 سہیل عباس ہمارا فخر ہے، ہمارا ہیرو ہے، ہماری تاریخ ہے۔
اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو اپنے اصل ہیروز کو وہ مقام دینا چاہیے جس کے وہ حق دار ہیں، تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ نئی نسل جان سکے کہ دنیا کی ہاکی کا سب سے بڑا گول اسکورر پاکستانی تھا!
سہیل عباس زندہ باد!
پاکستان ہاکی زندہ باد!
پاکستان پائندہ باد! 🇵🇰❤️
منقول
The WSJ published an opinion piece today arguing that Pakistan's position on Palestine is "deranged." The author is an Indian columnist at a pro-Israel think tank whose next book is about Modi. Published on the Pahalgam anniversary. During the week Pakistan is mediating between the US and Iran. I wrote a response.
گھر میرا
گھر کی چھت میری
گھر کی چھت پر لگا سولر میرا
سورج اللہ پاک کا
سولر لگاؤں تو اجازت نیپرا سے لوں ؛ وجہ؟
اجازت لینے کے پیسے حکومت کو دوں ؛ وجہ؟
انی دیو مذاق اے 🤦♂️
THIS IS HILARIOUS 🍿
Journalist — Pakistan has a long history with Iran, so it's okay if they act as mediators
Pawan Khera — What are you saying? India has a longer history with Iran, like thousands of years long
Journalist — But FM Jaishankar said we are not ‘Dalal’
PK — So was Modi ‘Dalal’ when he did ‘War rukwa di Paw Paw’ during Russia Ukrain war? 🤣
**Journalist went speechless 😭**
Piers Morgan “Mohammed, do you condemn the Hamas attacks on October the 7th?”
Mohammed Hijab “Yes, I do. Do you condemn Israel killing over 1000 kids?”
Piers Morgan “I believe Israel has a right to defend themselves”
That answer should be on the tombstone of his career.
Qatar's PM: "This war needs to stop immediately. Everyone knows who the main beneficiary of this war is."
Qatar's PM told the world, this war serves someone's interests. And that someone is not in Tehran, Washington, or Doha — it's in Tel Aviv.
Abdul Wahab Bugti, a renowned singer from Balochistan and a proud Pakistani, is the original voice behind the iconic song "Teri Mitti Mein Mil Jawan."
This patriotic song, which he sang out of deep love for Pakistan, was later copied by an Indian singer. India even featured it in a Bollywood film glorifying British colonial loyalty. However, the original artist behind this heartfelt melody is none other than Abdul Wahab Bugti a Baloch, and a true patriot.
#Balochistn
سوشیالوجی کا اُستاد ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پیپر چیک کرتے ہوئے بندے کو اُکتاہٹ نہیں ہوتی اور بندہ مسلسل مسکراتا ہی رہتا ہے
سوال تھا کہ "جدید دور میں اولاد اور والدین کے درمیان فاصلے بڑھتے چلےجا رہے ہیں "
تبصرہ کیجیے
ایک اسٹوڈنٹ نے اپنے مضمون میں بہت ہی شاندار دلائل کے ہمراہ لکھا کہ
" جدید نسل اور والدین کے درمیان بڑھتے فاصلے ایک زندہ حقیقت ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے والدین کی شادیاں سولہ ، سترہ یا بیس سال کی عمر میں ہو گئی تھیں
جبکہ جدید نسل کو چوبیس سال کی عمر تک تعلیم کے بہانے اکیلا رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد اچھی نوکری حاصل کرنے میں تین چار سال مزید لگ جاتے ہیں، جدید نسل اپنے بزرگوں کی چالاکیاں خوب سمجھتی ہے
خود تو اپنے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف جدید نسل دیر سے شادی ہونے کی وجہ سے شاید ہی اپنی اولاد کو بھی جوان ہو کر برسرِ روزگار ہوتا دیکھ سکے
والدین اگر چاہتے ہیں کہ اُن کی اولاد خوش رہے تو والدین کو اپنے بزرگوں کے طرزِ عمل کو اپناتے ہوئے اپنے بچوں کی دوران تعلیم ہی شادی کر دینی چاہیے تا کہ جدید نسل اور والدین کے درمیان خوشگوار ماحول قائم ہو سکے ۔ جہاں تک بات رزق کی ہے ، اس کی گارنٹی تو ڈگری کے بعد بھی نہیں .
😁😉
سوشیالوجی کا اُستاد ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پیپر چیک کرتے ہوئے بندے کو اُکتاہٹ نہیں ہوتی اور بندہ مسلسل مسکراتا ہی رہتا ہے
سوال تھا کہ "جدید دور میں اولاد اور والدین کے درمیان فاصلے بڑھتے چلےجا رہے ہیں "
تبصرہ کیجیے
ایک اسٹوڈنٹ نے اپنے مضمون میں بہت ہی شاندار دلائل کے ہمراہ لکھا کہ
" جدید نسل اور والدین کے درمیان بڑھتے فاصلے ایک زندہ حقیقت ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے والدین کی شادیاں سولہ ، سترہ یا بیس سال کی عمر میں ہو گئی تھیں
جبکہ جدید نسل کو چوبیس سال کی عمر تک تعلیم کے بہانے اکیلا رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد اچھی نوکری حاصل کرنے میں تین چار سال مزید لگ جاتے ہیں، جدید نسل اپنے بزرگوں کی چالاکیاں خوب سمجھتی ہے
خود تو اپنے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف جدید نسل دیر سے شادی ہونے کی وجہ سے شاید ہی اپنی اولاد کو بھی جوان ہو کر برسرِ روزگار ہوتا دیکھ سکے
والدین اگر چاہتے ہیں کہ اُن کی اولاد خوش رہے تو والدین کو اپنے بزرگوں کے طرزِ عمل کو اپناتے ہوئے اپنے بچوں کی دوران تعلیم ہی شادی کر دینی چاہیے تا کہ جدید نسل اور والدین کے درمیان خوشگوار ماحول قائم ہو سکے ۔ جہاں تک بات رزق کی ہے ، اس کی گارنٹی تو ڈگری کے بعد بھی نہیں .
😁😉
I was at a Birmingham screening of this extremely powerful film on Saturday. From the outset, most of the audience was in tears, with good reason.
It isn’t ‘based on’ or ‘inspired by’ true events.
It is a true story.
A 5-year old girl surrounded by dead bodies in a car.
A 5-year old pleading with Palestine Red Crescent (PRC) rescuers over the phone to save her.
A 5-year old they have to lie to because the Israelis have killed her rescuers.
A 5-year old who knows she’s going to die.
A 5-year old whose tiny body is discovered in a vehicle mangled by tank shells and riddled with 355 bullets.
Audio recordings of the PRCS with #HindRajab are live.
That’s what makes the film even more intense and heart wrenching.
In the West, every one knows the name Anne Frank. A Dutch Jewish teenager who died in a Nazi concentration camp in 1945.
We leant about her at school, largely because of the diary she kept. But that was 81 years ago.
Will the name Hind Rajab be taught in our schools? Will our children be taught how this little girl was wilfully murdered by a military Britain trains, arms, finances and excuses?
Will our children be taught that Hind’s homeland is occupied by Anne’s people because of what Europeans did to European Jews?
Today, every child in Europe should know the name Hind Rajab, more than they know Anne Frank.
The protests in Iran cannot be separated from the long-standing, state-imposed restrictions on girls’ and women’s autonomy, in all aspects of public life including education. Iranian girls, like girls everywhere, demand a life with dignity.
The people of Iran have long warned about this repression, at great personal risk, and their voices have been silenced for decades. These restrictions exist within a wider system of gendered control shaped by segregation, surveillance, and punishment — one that limits freedom, choice, and safety far beyond the classroom.
They demand their voices be heard and the right to determine their political future. That future must be driven by the Iranian people, and include the leadership of Iranian women and girls — not external forces or oppressive regimes.
I stand with the people and girls of Iran in their call for freedom and dignity. They deserve to determine their own future.