رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے، ہوا مسلسل اس کو (ایک یا دوسری طرف) جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال ودیوار درخت کی طرح ہے (جس کا تناؤ ہوا میں بھی تن کرکھڑا رہتا ہے)، ہلتا نہیں حتیٰ کہ (ایک ہی بار) اسے کاٹ کر گرا دیا
○يٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ ۖ وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ هِيَ دَارُالْقَرَارِ○
"اے قوم، یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے، ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے"
(القرآن الكريم سورة غافر آیت نمبر : 39)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’جب کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو قبلے کی طرف نہ منہ کرے اور نہ پشت، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو۔‘‘
(صحیح بخاری حدیث نمبر : 144)
○وَلَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ۗ اِنِّيْ لَـكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ○
"اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود، میں تمہارے لیے اُس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں"
(القرآن الكريم سورة الذاريات آیت نمبر : 51)
"اور اُس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیر لے ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے"
{القرآن الکریم سورة السجدة آیت نمبر : 22}
"کاش تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے (اُس وقت یہ کہہ رہے ہوں گے)
"اے ہمارے رب، ہم نے خوب دیکھ لیا اور سُن لیا اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں، ہمیں اب یقین آگیا ہے"
{القرآن الکریم سورة السجدة آیت نمبر : 12}
{وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ}
"جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا"
(القرآن الكريم سورة المائدة آیت نمبر : 9)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’میری امت کے کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے۔ (اس کے باوجود) وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح نشانہ بننے والے جانور میں سے تیر آر پار ہوتا ہے۔‘‘
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر : 171)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد (جو تم سے ہوجائے) بھلائی کرو جو برائی کو مٹادے، اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ‘‘۔
(جامع ترمذی حدیث نمبر : 1987)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’اے حکیم! دنیا کا یہ مال (دیکھنے میں) خوشن اور (ذائقے میں) شیری ہے لیکن جو اس کو دل کی سخاوت اور سیر چشمی سے لے تو اسکے لیے اس میں برکت ہوگی اور جو کوئی اسے طمع اور لالچ سے لے، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ہوگی۔ یہ اس شخص کی طرح ہے جو اسے کھاتا ہے
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اِنِّيْ لَـكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ)
"(اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا (اُس نے کہا) "میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہو".
(القرآن الكريم سورة هود آیت نمبر : 25)
حضرت جابر بن عبداللہ رض سے روایت ہے کہ،
رسول اللہﷺ نے فرمایا :
’’پانچ وقت کی نمازوں کی مثال تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر بہت بڑی نہر کی سی ہے، وہ اس میں سے روزانہ پانچ دفعہ غسل کرتا ہو۔‘‘
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 1551)
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
میں رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان پر گواہ ہوں کہ
’’جمعہ کے دن ہر بالغ آدمی پر غسل کرنا واجب ہے اور یہ کہ وہ مسواک کرے اور اگر خوشبو میسر ہو تو اسے بھی استعمال میں لائے۔‘‘
(صحیح بخاری حدیث نمبر : 880)
حضرت جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’دلوں کی سختی اور جفا (اکھڑپن) مشرق میں ہے اور ایمان اہل حجاز میں ہے۔‘‘
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 198)