ناجائز نظام کی پیداوار فارم 47 کی جعلی وزیر اعلیٰ نے پنجاب کے ساتھ لگنے والے پاکستان کے تینوں دیگر صوبوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دیا ہے اور پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے حوالے سے مودی اور انڈیا کو کلین چٹ دے دی ہے۔
اس کے بیان نے ریاست پاکستان کے عالمی سطح پر دہشتگردی کے حوالے سے مؤقف کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، اور اس نظام کو بنانے اور چلانے والوں کی سوچ پر بھی مزید سوال کھڑے کر دئیے ہیں !!
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ کے دوران بھی نوازشریف سمیت یہ ٹولہ غائب رہا تھا اور جنگ کے خاتمے تک کوئی بیان نہیں آیا۔اور ڈان لیکس کے زریعے بھی دہشتگردی کا الزام پاکستان پر لگا دیا تھا- یہ ہمیشہ قومی مفاد کے آگے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں - پاکستان، پاکستانی اور پاکستانی ادارے صرف ان کے لئے تبھی قابل احترام رہتے ہیں جب تک یہ ان کی ذاتی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا لہجہ PMLN کے پاکستان کو تقسیم کرنے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے- لیکن اب تین وفاقی اکائیوں کو دہشتگردی کی بنیاد قرار دے دینا ملک کی بنیادوں کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے-
ان لوگوں کو 8 فروری 2024 کو ناصرف پاکستان بلکہ پنجاب اور لاہور کی عوام بھی مسترد کر چکے ہیں۔ اس شرمناک شکست کے باوجود ایسی گھٹیا سوچ کے لوگوں کو اقتدار پر بٹھانے اور انگلی پکڑ کر چلانے والوں کے لیے یہ ایک مزید سبق ہے کہ عوام کے ووٹ اور عوام کے فیصلے کی قدر نہ کر کے ملک مضبوط نہیں تباہ ہو جاتے ہیں۔
پھر کہتے ہیں ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں
تیرے جوانوں نے پیٹی اسی لیے باندھی ہے
تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے
تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟
تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو
میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی
میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا
آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے
الیکشن میں حصہ لیجیے
پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں
مولانا فضل الرحمان
آپ نے شروعات ہی غلط کی، اگر آپ مفتی صاحبان کو کرپٹو کرنسی کا کوئی بورڈ شورڈ بنا کر اس میں رکن بنا دیتے اور ماہانہ معاوضہ فکس کر دیتے تو انہوں نے کرپٹو کرنسی کو حلال قرار دے دینا تھا جیسے مفتیان صاحب سود کا کاروبار کرنے والے مختلف بینکوں اور اداروں کیلئے paid فتوے دینے کا کام کرتے ہیں، ویسے آپ بھی فتوی لے لیتے۔
اسلامی تاریخ paid مفتیوں سے بھری پڑی ہے۔