یہ انسان بھی پنسل کی مانند ہوتا ہے،
حالات کی رگڑیں اسے گھڑتی رہیں تو اچھا اور خوبصورت لکھتا رہتا ہے
اور رگڑیں کھاتے کھاتے یہ پنسل ایک دن فنا ہو جاتی ہے…
اگر کچھ بچتا ہے تو بس وہی جو اس نے لکھ رکھا ہوتا ہے ۔
اے عزیز اور سربلند ملتِ ایران!
اے مسلم اقوام اور دنیا کے آزاد انسانو!
“خدا کا ایک بندہ، اپنے رب سے جا ملا۔”
بے شک اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ اپنے رب سے شہادت کی حالت میں جا ملا۔
علی لاریجانی کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ان کی شہادت کا اعلان
اس میسج کو صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر کریں ہو سکتا آپ کیوجہ سے کسی کی جان بچ جائے👇
(((ہارٹ اٹیک سے 10 سیکنڈ میں اپنی زندگی بچائے)))
ہارٹ اٹیک آنے پر پاس میں کوئی نہ ہو تو 10 سیکنڈ میں خود اپنی زندگی کس طرح بچائے؟ذرا سوچیں کہ شام کے 7:25 بجے ہے اور آپ کے گھر جا رہے ہے وہ بھی بالکل اکیلے.ایسے میں اچانک سے آپ کے سینے میں تیز درد ہوتا ہے جو آپ کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا آپ جبڑو تک پہنچ جاتا ہے. آپ کو آپ کے گھر سے قریب ترین ہسپتال سے 5 میل دور ہیں اور بدقسمتی سے آپ کو یہ نہیں سمجھ میں آرہا ہے کہ آپ وہاں تک پہنچ پائیں گے کہ نہیں. آپ سی پی آر (CPR: Cardio Pulmonary Resuscitation) میں تربیت یافتہ ہیں مگر وہاں بھی آپ کو یہ نہیں سکھایا گیا کہ اس کو خود پر استعمال کیسے کریں. ایسے میں دل کے دورے سے بچنے کے لئے یہ اقدام آزمائے: - چونکہ زیادہ تر لوگ دل کے دورے کے وقت اکیلے ہوتے ہیں l بغیر کسی کی مدد کے انہیں سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے. وہ بے ہوش ہونے لگتے ہیں اور ان کے پاس very hardly صرف 10 سیکنڈز ہوتے ہے. ایسے حالت میں مبتلا زور زور سے کھانس کر خود کو عام رکھ سکتا ہے. ایک زور کی کھانسی لینی چاہئے ہر کھانسی سے پہلے اور کھانسی اتنی تیز ہو کہ سینے سے توک نکلے. جب تک مدد نہ آئے یہ عمل دو سیکنڈ سے دہرائی جائے تاکہ دھڈكن عام ہو جائے. زور کی سانس پھیپھڑو میں آکسیجن پیدا کرتی ہیں اور زور کی کھانسی کی وجہ سے دل سكڑتا ہے جس سے خون آپریشن باقاعدہ چلتا ہے. جہاں تک ممکن ہو اس پیغام کو ہر ایک تک پہنچائے. ایک دل کے ڈاکٹر نے تو یہاں تک کہا کہ اگر ہر شخص یہ پیغام
لوگو کو بھیجے تو ایک جان بچائی جا سکتی ہے. آپ سب سے درخواست ہے کہ چٹكلے بھیجنے کے بجائے یہ پیغام سب کو بھیجے تاکہ لوگوں کی جان بچ سکے۔۔