عمران خان کا آرمی چیف کو خط
“ عاصم حال تو تمہارا برا ہوگا۔ لیکن اس میں قصور تمہارا اپنا ہے۔رسم دنیا بھی ہے موقع بھی دستور بھی ہے ۔ خط کے ابتدائیے میں احوال نہ پوچھا تو لوگ کہیں گے عمران خان کو رکھ رکھاو کا علم نہیں۔ عاصم کیسے ہو؟ امید ہے تمہیں کافی ٹھنڈ پڑچکی ہوگی۔ مزید ٹھنڈ آنےوالے مہینوں میں پڑ جائےگی۔ میں چاہتا ہوں کہ تم بالکل ٹھنڈے مت ہوجاو۔ بلکہ ٹرائل سزا اور پھر تختہ دار پر ٹھنڈے ہونے کا انتظار کرو۔
بہرحال آگے چلتے ہیں۔ اب میں لوگوں کی طرح تمہارے زخموں پر نمک پاشی تو نہیں کروں گا۔ یہ تو نہیں پوچھوں گا کیا بنا تمہاری ایس آئی ایف سی کا۔ کیا بنا تمہاری سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا۔ کیا بنا تمہارے سیاسی استحکام کا۔ کیا بنا تمہارے عدلیہ پر کنٹرول کا۔ کیا بنا تمہارے سوشل میڈیا پر کنٹرول کا۔ مجھے پتہ ہے یہ سوال تمہیں تکلیف دیتے ہیں۔ لہذا میں تم سے یہ سوال کروں گا ہی نہیں۔
مجھے باہر کی دنیا کا احوال کم ہی ملتا ہے۔ لیکن اہم واقعات کی کوئی نہ کوئی خبر مل جاتی ہے۔ کس کا پروگرام وڑ رہا ہے۔ کس کا پروگرام چڑھ رہا ہے کوئی نہ کوئی اطلاع آ ہی جاتی ہے۔ تمہارے پروگرام کے بارے میں اطلاع یہ ہے کہ تمہارا پروگرام نہیں وڑا تم خود وڑ چکے ہو!
دیکھو میں نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے۔ تم نے مجھ پر ہر طرح کی سختی کی۔ میری پارٹی کے لوگوں پر سختی کی۔ میں نے اچھے وقت کا انتظار کیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ تمہیں میں نے کہاں پھنسانا ہے۔ چوہا ہمیشہ کڑکی میں پھنستا ہے۔ میں نے تمہیں بھی کڑکی میں پھنسایا ہے۔ میں نے ٹائم گین کی کڑکی لگائی اب تم اس میں پھنس چکے ہو۔ تمہاری گردن کڑکی کے چھوٹے سے سریے کے نیچے ہے۔تمہاری ٹانگیں ہوا میں ہیں۔ اب جب چاہوں گا تمہاری ٹانگیں پیچھے سے پکڑا کر کھینچ لوں گا اور گیم ختم۔
تم صفر سرمایہ کاری کے مابین پھنس چکے ہو۔ تم بین الاقوامی آئسولیشن میں پھنس چکے ہو۔ تم آئی ایم ایف کی ڈیل میں پھنس چکے ہو۔ تمہیں جوبائیڈن کی شکست کا بھی خوف لاحق ہے۔ تمہیں فوج کے اندر سے دباو بھی سونے نہیں دیتا۔ تمہاری کٹھ پتلیوں کی ناکامی علیحدہ تمہاری ناک کا بال بنی ہوئی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر میرا سوشل میڈیا ایسا چڑھا ہوا ہے کہ اترنے کا نام نہیں لے رہا۔
عاصم میرے پاس آج وقت بہت کم ہے۔ دنبے کی ران روسٹ ہوئی پڑی ہے۔ وہ کھا کر پھر قصوری فالودے کا پیالہ کھاوں گا۔ پھر مجھے ڈیڑھ گھنٹہ سائیکلنگ کرنی ہے۔ اس کے بعد مجھے اور بہت سے کام ہیں۔ لہذا آج کا خط صرف اتنا ہی۔ دو ہی پیغامات ہیں جو تمہیں اس خط کے ذریعے دینا تھے۔ جو اکھاڑ سکتے ہو اکھاڑ لو۔ اور دوسرا یہ کہ میں آرہا ہوں۔
تمہارا امریکہ نگہبان “
سوچو اس شخص نے اپنی جنت جیسی زندگی کو ہمارے لیے قربان کر دیا اور اب سلاخوں کے پیچھے ہمارے لیے لڑ رہا ہے اور ہم صرف اپنی گھروں سے نکل نہیں سکتے اس کے لیے