معذرت کے ساتھ
بینظیر بھٹو کی یہ وہ تصویریں ھیں جو نوازشریف نے 1988میں الیکشن کمپین کے دوران جہاز سے گرائی تھی
سوچا بھی نہیں تھا پیپلزپارٹی والے اتنا گر جائیں گے صرف چند سیٹوں کی خاطر
عمران خان سرخرو ہوگا وہ واپس آئے گا، حج میں بھی عمران خان کے لئے لوگوں نے دعائیں کی۔ ہمیں عمران خان نے شعور دیا ہے
ایک رکشے والے کی گفتگو 🔥
عوام اپنے حق کے لیے کھڑی
آخے ہماری مقبولیت کے ساری دنیا میں چرچے ہیں
مخے گلگت بلتستان میں عمران خان کے نام سے اتنا خوف ہے منتخب نمائندوں کو صوبہ بدر کردیا اور منتخب وزیر اعلی کا فون اٹھانے سے گھبراتے ہیں🔥🔥🔥
سب کو عید مبارک!
اپنے عید کے پچھلے پیغامات میں، میں نے عمران خان کو عید کی نماز ادا کرنے کے بنیادی حق سے محروم رکھنے کے گھناؤنے فعل کی نشان دہی کی تھی۔ میں نے تب بھی یہ واضح کیا تھا کہ برطانوی سلطنت نے اسیرِ مالٹا مولانا محمود الحسن کے ناقابلِ تسخیر عزم کو توڑنے کے لیے بعینہ یہی نفسیاتی حربہ استعمال کیا تھا۔ آج تاریخ خود کو اپنی بدترین شکل میں دہرا رہی ہے۔ عمران خان، اسیر نمبر آٹھ سو چار، کو ایک بار پھر عید کی نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔
آج ہم پر مسلط حکمرانوں کی ذہنیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی۔ پاکستان کی موجودہ حکومت ماضی کے ظالم ترین آمروں اور نوآبادیاتی آقاؤں کی سچی 'براؤن صاحب' جانشین ثابت ہوئی ہے۔
ظالم ہمیشہ مسلمانوں کے روحانی اور مزہبی اتحاد سے خوفزدہ رہے ہیں۔ آئیے میں آپ کو جنوبی امریکہ، سوویت یونین اور افریقہ سے تاریخ کے تین ایسے گہرے واقعات سناتا ہوں جو پاکستان میں موجودہ فاشسٹ ہتھکنڈوں کے ہو بہو آئینہ دار ہیں۔
۱۔ برازیل (۱۸۳۵): بلال پسیفیکو لیکوٹان کو زنجیریں پہنانے کی قیمت
غلاموں کی تجارت کے دور میں، سلواڈور دا باہیا میں افریقی مسلم اسکالرز اور اساتذہ کی ایک متحرک، زیرِ زمین برادری آباد تھی جنہیں 'مالیز' کہا جاتا تھا۔ انہی میں بلال پسیفیکو لیکوٹان بھی شامل تھے، جو نوآبادیاتی آقاؤں کے ہاتھوں غلام بنائے گئے ایک انتہائی معزز مسلم اسکالر، بزرگ اور روحانی پیشوا تھے۔ اٹھارہ سو پینتیس میں رمضان سے چند دن پہلے، اسٹیبلشمنٹ نے بلال لیکوٹان کو گرفتار کر کےعقوبت خانے کی ایک تاریک کوٹھری میں قید تنہائی میں ڈال دیا۔
جب مسلمانوں کو یہ احساس ہوا کہ ان کے روحانی پیشوا کو عید کی باجماعت نماز پڑھانے، بلکہ نماز ادا کرنے تک کے حق سے محروم کر دیا جائے گا، تو ان کا غم غیظ و غضب کا رنگ اختیار کر گیا اور انہوں نے اپنے اس رنج و ملال کو انصاف کی ایک تاریخی تحریک میں بدل دیا۔
روایتی سفید چغے پہنے، عربی میں خفیہ طور پر لکھی گئی دعائیں ہاتھ میں لیے اور اللہ کی حمد و ثنا گاتے ہوئے، انہوں نے مشہور مالے بغاوت کا آغاز کر دیا۔ اس انقلاب کی رات ان کا بنیادی اور واضح اسٹریٹجک ہدف کیا تھا؟ جیل پر سیدھا دھاوا بولنا، اس کے دروازے توڑنا، اور بلال لیکوٹان کو ان کی کوٹھڑی سے باہر نکالنا تاکہ وہ نماز میں ان کی امامت کر سکیں۔ جیسا کہ متوقع تھا، نوآبادیاتی آقاؤں نے مذہبی آزادی کی اس جدوجہد کو "بغاوت" کا نام دیا۔ بہت سے لوگ سڑکوں پر بے دردی سے قتل کر دیے گئے؛ اور دیگر کو پکڑ کر، مقدمہ چلا کر پھانسی دے دی گئی۔
۲۔ سوویت یونین: عید کی نماز کو جرم قرار دیا گیا۔
انیس سو بیس کی دہائی میں، مطلق العنان سوویت ریاست نے دونوں عیدوں یعنی عید الاضحیٰ اور عید الفطر کو نشانہ بناتے ہوئے ریاستی میڈیا کے ذریعے ایک زہریلی اور انتہائی منظم مہم شروع کی۔ بالکل آج کے کنٹرولڈ میڈیا بیانیے کی طرح، عید کی تقریبات اور نمازوں پر وحشیانہ کریک ڈاؤن کو جائز قرار دینے کے لیے "عید کے خلاف" کے عنوان سے پروپیگنڈا کیا گیا۔ جب وسطی ایشیا کے نامور مسلم علماء، اور رہنماؤں کو سیاسی باغی قرار دے کر دور دراز کے گولاگ لیبر کیمپوں میں بھیجا گیا، تو انہیں مکمل طور پر تنہا کر دیا گیا۔ وہاں کے مقتدر طبقے اور اسٹیبلشمنٹ نے عید کی باجماعت نماز کو غداری اور سیاسی بغاوت کا عمل قرار دیا۔
مگر ظلم کبھی ایمان کو مغلوب نہیں کر سکا۔ ان کیمپوں سے زندہ بچ جانے والوں کی یادداشتیں یہ انکشاف کرتی ہیں کہ فوری سزائے موت یا تنہائی کی کوٹھڑی میں تشدد کے خوف کے باوجود، مسلم سیاسی قیدیوں نے پورے رمضان خاموشی سے، سرگوشیوں میں روزے رکھے۔ عید کی صبح، جب محافظوں نے انہیں جبری مشقت پر مجبور کیا اور مکے کی طرف رخ کرنے سے بھی روک دیا، تو قیدی ایک زبردست اجتماعی احتجاج کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر اس جابر حکومت کو للکارا۔
۳۔ افریقہ: امیر عبدالقادر کو عید کی نماز سے روکا گیا-
شمالی افریقہ پر فرانسیسی قبضے کے دوران، الجزائر اور مراکش میں نوآبادیاتی نظام عید کی نمازوں کے بڑے اجتماعات کو قوم پرست مزاحمت کی آماجگاہ کے طور پر دیکھتا تھا۔ اس خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے، آزادی کے نامور رہنماؤں، مذہبی اسکالرز اور صوفی شیوخ کو عید کے اعلان سے چند دن پہلے ہی فوجی قلعوں میں بند کر دیا جاتا تھا۔
جب عظیم مجاہدِ آزادی امیر عبدالقادر کو قید کر کے عید کی نماز کی امامت سے روکا گیا، تو فرانسیسی نوآبادیاتی آقاؤں نے، اپنی تمام تر بیدردی کے باوجود، انہیں ایک بنیادی حق ضرور دیا: بین الاقوامی شخصیات کو خطوط لکھنے کا حق۔ امیر عبدالقادر نے جیل میں بیٹھے ہوئے اپنے قلم کو اس جابر ریاست کے خلاف احتجاج کے لیے استعمال کیا، اور ان یورپی طاقتوں کی منافقت کو بے نقاب کیا جو ایک طرف "مہذبی اقدار" کا دعویٰ کرتی تھیں اور دوسری طرف مذہبی آزادی کو زنجیریں پہناتی تھیں۔
مقامِ افسوس ہے کہ انیسویں صدی کے فرانسیسی استعمار کاروں کی طرف سے دیا گیا وہ بنیادی حق بھی، یعنی خطوط لکھنے اور دنیا کے ساتھ رابطہ کرنے کا حق، آج پاکستان کے حکمرانوں نے عمران خان کو نہیں دیا بلکہ کسی سےملاقات کی بھی اجازت نہیں، تصویر تو دور کی بات ہے۔
تاریخ کا فیصلہ
ان کہانیوں میں شامل ہر ڈکٹیٹر، ہر غلاموں کا تاجر، اور ہر نوآبادیاتی غاصب یہ سمجھتا تھا کہ وہ عید کے دن ایک لیڈر کا اپنے خالق سے رابطہ منقطع کر کے اس کے انسانی جذبے کو توڑ دے گا۔ تاریخ ان جیل وارڈنوں، ان سوویت کمشنروں اور ان نوآبادیاتی ججوں کے نام بھول گئی۔ لیکن تاریخ نے مولانا محمود الحسن، بلال لیکوٹان، امیر عبدالقادر اور عمران خان کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
پاکستان پر اس وقت حکومت کرنے والے براؤن صاحبوں کو تاریخ کے یہ صفحات غور سے پڑھنے چاہئیں۔ آپ ایک لیڈر کو کوٹھڑی میں بند کر سکتے ہیں، آپ اسے عید کی نماز سے روک سکتے ہیں، لیکن آپ حقیقی آزادی کے لیے تڑپتی ہوئی قوم کے اجتماعی عزم کو کبھی زنجیر نہیں پہنا سکتے۔ بقول فیض:
چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں
تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
Prisoner #804 @ImranKhanPTI Eid Mubarak
https://t.co/S0Z2AGB4Sa
مہنگائی اب معاشی مسئلہ نہیں، بقا کی جنگ ہے۔
عوام قربانی دے ؛ حکومتی عیاشیوں کے لئیے
سکولوں میں پنکھے نہیں، مگر وزیراعظم ہاؤس سجایا جا رہا ہے۔
ملک "نازک موڑ" پر نہیں، غریب آخری موڑ پر ہے۔
حق کے لیے آواز اٹھانا انتشار نہیں،
بلکہ جمہوری اور آئینی حق ہے۔
آواز اٹھانا اب سب پر فرض ہے۔
ہمارے حقیقی وزیراعظم کا کہنا ہے حکمران سادگی اختیار کریں تو معیشت بھی بہتر ہو گی!
#عیدقرباں_عہدمزاحمت
#EidMubarakImranKhan
ٹاوٹس دعوے تو کرتے ہیں لیکن کبھی یہ ٹاؤٹ مائیک لے کر جائیں عوام میں اور لائیو چلائیں کہ لوگوں کی نواز شریف ،مریم نواز اور موجودہ نظام کے بارے کیا رائے ہے ،
نواز شریف اور مریم نواز تو بہت دور کی بات ،ان کے بینفشری ٹاوٹس عوام میں جانے کے قابل نہیں ہیں ،
کوئی ایک ٹاؤٹ جو لاہور جا کر لائیو پروگرام میں لوگوں سے شریف خاندان کے بارے سوال کرکے ان کا جواب لے اور لائیو جانے دے ؟؟؟
وہ لاہور جس پر شریف خاندان نے پچھلے 36 برس میں پنجاب کے حصے کا ستر فیصد بجٹ خرچ کیا
یہ ایسے بیشرم ہیں کہ ان کو جھوٹ بولتے ہوئے ذرا شرم نہیں آتی ،
شریف خاندان نے ملک کے ساتھ جو کر چھوڑا ہے ،اس کے بعد کونسا محب وطن پاکستانی ہے جو ان کو ووٹ دینے کا سوچ بھی سکتا ہے ؟؟؟