بادشاہ ننگا ہے اور اب سب کو نظر آرہا ہے-
رجیم چینج آپریشن کےسازشی ایسے باز نہیں آئیں گے-
اب وقت آگیا ہے اس ننگے بادشاہ کو عوام اس کے گھر سے نکالے-
شاہ پرست اور ننگے بادشاہ کے سازشی حواریوں کے لئے عوامی طبل جنگ کا وقت ہوا چاہتا ہے-پاکستانی قوم زندہ باد۔پاکستان پائندہ باد 🇵🇰🌹
یا تو عاصم منیر رہے گا یا پاکستان رہے گا، اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔ جتنا آپ پریشان ہو رہے ہو، مجھے تو کچھ دن کے مہمان لگ رہے ہیں۔
آج کے دن عمران خان ہی پاکستان ہے۔ آپ پاکستان کو زیادہ دیر قید نہیں رکھ سکتے۔
یہ جنگ حسینیت اور یزیدیت کی ہے۔ حق اور باطل کی ہے۔ باطل کا کوئی نام لیوا نہیں رہے گا۔
ادھر آ ستمگر، ہنر آزمائیں
تو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرنیلوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
I strongly condemn the assassination of Ismail Haniyeh in Iran and the bombing of Beirut by the government of the war criminal, Netanyahu.
Israel's war crimes and blatant violations of international laws and conventions reflect the complete breakdown of any international rule-based order that may have existed.
“I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation” Imran Khan (July 22, 2025)
فوج نے عمران خان کا پورا خاندان اغواء کر لیا ہے، ڈاکٹر شہباز گل کا فوجی پراڈکٹس کی بائیکاٹ مہم کا اعلان، کم از کم پاکستانی قوم اتنا تو کر سکتی ہے، اس پیغام کو ہر جگہ پھیلائیں۔
27 ستمبر کو تو ہم آئیں گے اور پوری طاقت سے آئیں گے مگر جس طرح اراکین اسمبلی کو اغوا کیا جارہا ہے ، وہ بہت تشویشناک ہے
میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ فوری طور پر اجلاس بلائیں اور تمام اسمبلیوں اور سینیٹ سے استعفوں پر غور کیا جائے
جب کسی رکن پارلیمنٹ کو پروٹیکشن ہی نہیں اور اس سے عام شہری سے بھی بدتر سلوک ہورہا ہے تو ہم کیوں ان اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں؟
یہ نظام ویسے ہی گررہا ہے ، ہمیں اس نظام کو مکمل زمین بوس کردینا چاہیئے
Enough is enough
A proper judicial investigation must be instituted to examine his own statements plus evidence that other sources have. We have descended into a state of brutality, unknown in civilised society, indulged in by the powerful against those who dare to criticise & expose wrongdoings
Shocked at the brutal murder of Arshad Sharif who paid the ultimate price for speaking the truth - his life. He had to leave the country & be in hiding abroad but he continued to speak the truth on social media, exposing the powerful. Today the entire nation mourns his death.
2021 کراچی میں ایک مرد کے ساتھ بنی ہوئی اپنی وڈیو پر بلیک میل ہونے والے جرنیلی جوکر نے آج پھر کہا کہ میں نے جنرل باجوہ سے رشتہ داری کرنے کی کوشش کی تھی۔
اس ڈبل سواری کے ایکسپرٹ کو کوئی یہ بتائے کہ یہ بیان میں نے سپریم کورٹ کے باہر ہماری حکومت جانے کے بعد دیا تھا۔ اصل میں میں نے باجوہ کو للکارا تھا۔ اور کہا تھا کہ جنرل باجوہ آپ آسمان سے نہیں اترے ہمارے جیسے انسان ہیں۔ ہماری طرح کے ہیں۔ میری ماں بھی باجوہ ہے۔ آپ کوئی اعلی یا آسمان سے اترے نہیں کہ آپ ہر قانون سے مبرا ہیں۔
وقت بدلنے دیں۔ اس شخص نے خان کے گھر کی خواتین پر بہت گند اچھالا ہوا ہے۔ گندے غلیظ حملی کئیے ہوئے ہیں۔ جب عوام نے دھتکار دیا تو اب یہ پھر ہمدرد بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ بے شرم انسان۔
These are not just any criminals. These are the people in charge of Pakistan.
This is how they’ve abducted my family members. Masked, armed men dragging innocents from their houses and taking them to unknown locations.
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
Note: This tweet is based on the tweet from July 24, 2025.
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
عاصم منیر، گدی تو آپ کو چھوڑنی پڑے گی! آپ کی طاقت نہتی 70 سالہ نہتی عورتوں پر ہی چلتی ہے! جو طاقت یہاں دکھا رہے ہو یہ بلوچستان یا جنوبی پختون خواہ میں دکھاؤ نا!
میں جی ایچ کیو نہیں ہوں جو زمینوں پر قبضہ کرے۔ تمہارے جھوٹے الزاموں کا بھی مقابلہ کروں گا۔ کل ہی اوقاف کے نوٹس کے خلاف دعوا دائر کرونگا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً نوجوانوں یہ اس GHQ کی ناجائز مَلَت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا وقت ہے۔
27 کو اسلام آباد پہنچیں!
@Rananavid علی محمد خان کو بھی گرفتا کر لیا گیا ہے ۔۔ جب اس کے چہرے سے زلفیں ہٹا کر دیکھا تو وہ علی محمد خان تھا ۔۔ کمپنی کے افسر نے بولا یہ کس چول کو اٹھا لائے ہو وہی چھوڑ کر آؤ جہاں سے یہ درود پڑھ کہ جھوٹ بولنے والے کو اٹھا کر لائے ہو 😂😂😂😂