“ آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر “ کی ہیت ترکیبی ایک پیچیدہ مگر ھمہ جہت نوعیت کی حامل ہے ۔ جسے آسانی سے سمجھنا قدرے مشکل امر ہے ۔ بین الاقوامی متنازعہ حثیت ، آئینی موشگافیاں، قانونی جوازیت، انتظامی کمزوری ، تاریخی ، سیاسی اور جغرافیائی پسِ منظر ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے ۔ کسی ایک نقطہ نظر کو پکڑ کر یہ پیچیدہ بندوبست سمجھنا موجودہ نئی نسل کے لیے جوئے ِ شیر لانے سے کم نہیں ۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے کا منظر نامہ ، 1947/48 کی آزادی تحریک ، 24 اکتوبر 1947 کا اعلان آزادی ، اقوام متحدہ کی کشمیر پر 1947 اور 1948 میں قرار دادیں ، 1949 کا معاہدہ کراچی ، آزاد جموں کشمیر اور کشمیری مہاجرین مقیم پاکستان پر مشتمل مقبوضہ اور آزاد علاقوں پر مشتمل عارضی نمائندہ حکومت ، 1960 کا عبوری ایکٹ ، 1970 کا عبوری ایکٹ اور 1974 کا عبوری ایکٹ ،
UNCIP اور معاہدہ کراچی کے تحت حکومت پاکستان کی آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر سے متعلقہ ذمہ داریاں ،
آزاد حکمومت ریاست جموں کشمیر کی آئینی ، قانونی اور انتظامی ذمہ دارایاں ، آزاد جموں کشمیر کونسل اور قانون ساز اسمبلی کی نمائندہ حثیت ۔ اعلیٰ عدالتی اور انتظامی بندوبست ، بجٹ اور ترقیاتی امور ان سب کو اکٹھا سمجھنا کم از کم عام انسان کے بس کی بات نہیں ۔ دانش مندوں کے ساتھ پیٹ نہ ہوتا تو وہ بروقت سمجھا دیتے کہ یہ ایک نظریاتی اور تحریکی عارضی بندوبست ہے جو صرف اور صرف جموں کشمیر کے عوام کی وحدت اور شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ پاکستان کے ساتھ تعلق کو جوڑے ہوئے ہے ۔
آزاد جموں کشمیر کی حکومت ��ارضی مگر قابل عمل انتظامی بندوبست ہے ۔ اسے خود مختار حکومت نہیں سمجھنا چاھیے ۔ دفاعی ، خارجہ امور اور سفارتی امور میں یہ حکومت کی مروجہ تعریف پر پورا نہیں اترتی لیکن انتظامی لحاظ سے ایک ایسی حکومت ہے جسے قانون سازی اور بیرون آزاد کشمیر بھی اپنے باشندوں کے لیے قانون سازی کا اختیار حاصل ہے ۔
یہ بین القوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نہیں لیکن ایک متنازعہ خطہ کی ترجمان ضرور ہے ۔ اس کا وزیر اعظم وہ تمام انتظامی اور مالی اختیارات رکھتا ہے جو پاکستان کا وزیر اعظم نہیں رکھتا ۔
اس کے صدر ، وزیر اعظم اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو سفارتی پاسپورٹ رکھنے کی سہولت حاصل ہے ۔
اس کی حکومت کے اعلی عہدیدار اور اعلیٰ عدلیہ کے عہدیدار مکمل پروٹوکول کے ساتھ بیرون آزاد کشمیر سفر کرتے ہیں ۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں انہیں سرکاری مہمان کا درجہ دیتی ہیں ۔ غرض جب تک یہ متنازعہ خطہ کی نمائندہ “ آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر “ ہے تب تک یہ انتظامی ڈھانچہ ہونے کے باوجود ایک نیم خود مختار حکومت ہے ۔ یاد رہے ریاست جموں کشمیر کی ایک اور آزاد اکائی “ گلگت بلتستان “ کو بوجوہ یہ “ سہولت حاصل نہیں ہے ۔
آزاد جموں کشمیر میں بعض عناصر اور غیر رجسٹرڈ تنظمیں عوامی حقوق اور قومی تشخص کی آڑ میں “ پاکستان “ مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ ایسے عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جانا چاھیے ۔
ھم پاکستانی ہیں ، پاکستان ھمارا ہے ۔
#کشمیر_بنے_گا_پاکستان
Peace must always be given a chance—never war. Wars are not a symbol of life, but of death n distraction whereas peace represents life, the spirit of spring, and the foundation of civility.
The ongoing peace talks between the United States and Iran, facilitated with the support of Pakistan and other important partner countries, reflect a complex yet significant diplomatic effort. Such conflicts cannot be resolved easily in their initial stages, as each party carries its own interests, dignity, and strategic objectives.
Wars do not erupt instantly, nor do their consequences fade away overnight. These are realities governed by the laws of nature and human behavior, and they cannot be denied. Therefore, there is no room for despair.
Peace will find its way, Insha’Allah. Temporary deadlocks and complications will also pass with the grace of Allah. Humanity must remain hopeful, trusting that the Creator of the universe is the ultimate source of wisdom and justice. His principles—peace, civility, mutual respect, and the protection of rights —will always prevail over man-made conflicts.
Have faith, peace will be given a chance… it will prevail.
Well done 👍 Pakistan
آزاد جموں کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے چند ٹھیکداروں کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے کشمیر کونسل کی سابقہ ترقیاتی سکیمز سے متعلقہ سابقہ بقایا جات کے نام پر ترقیاتی فنڈز کی بندر بانٹ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ موجودہ ملکی مالی صورت حال میں اس کی قطعاً ضرورت نہ تھی ۔ حکومت پاکستان اور چیف سیکرٹری کو اس صورتِ حال کا فوری نوٹس لینا چاھیے ۔ یہ مالی سیکنڈل جہاں پری پول رگنگ کا باعث بنے گا وہاں ذمہ داران کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا ۔
On the blessed occasion of Eid al-Fitr, I extend my heartfelt greetings to Muslims across the world.
Eid reminds us of sacrifice, unity, and our collective responsibility.
Today, humanity stands in dire need of peace, tolerance, and mutual respect.
We pray for an end to conflicts and for the establishment of a just and peaceful global order.
It is imperative for individuals, societies, and governments alike to reflect on their roles and act responsibly to protect humanity, the environment, and all forms of life.
Eid is not only a celebration—it is a call to responsibility.
Eid Mubarak 🌙
@OfficialDGISPR@MaryamNSharif@tariqfarooq60
آزاد جموں و کشمیر پاکستان کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور ہمارے مسلح افواج کا کوئی مقابلہ نہیں۔ آج کچھ شرپسند عناصر نظریاتی خلفشار پھیلا رہے ہیں، جن کی بیخ کنی ضروری ہے۔ کشمیر ہماری پہچان، پاکستان ہماری منزل۔ پاکستان زندہ باد!"
@MaryamNSharif@tariqfarooq60@pmlndigitalpk
پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰
یہ صرف ایک نعرہ نہیں، ایک ایمان ہے—ایک وعدہ کہ ہم اپنی مٹی، اپنی فوج، اور اپنی پہچان کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما ��اركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
By the grace of Allah, the Political Committee of Pakistan Muslim League (N) AJK has successfully concluded consultations with party ticket aspirants from Muzaffarabad, Poonch & Mirpur Divisions.
For clarity:
• No candidate has been finalized
• No party tickets have been issued
• The committee’s role is limited to recommendations
Final authority rests with Quaid Muhammad Nawaz Sharif.
Speculation circulating on social media regarding ticket decisions is entirely baseless.
PML(N) believes in a transparent, structured and merit-based democratic process.
Unity, discipline and organizational strength remain our guiding