It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
عمران خان کی رہائی اور علیمہ خان کی سربراہی میں سٹریٹ موومنٹ کی پکار پر آئی ایس ایف کی للکار!
راولپنڈی مری روڈ: مری روڈ پر انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے طلبہ نے دفعہ 804 نافذ کر دی۔
نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ سٹریٹ موومنٹ کی کال قائد عمران خان کی ہے، آئی ایس ایف کے جوان ہمیشہ کی طرح ان شاء اللہ ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
میں انتہائی احترام اور پیشگی معذرت کیساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ
پورے خیبرپختونخوا کی پارٹی کو بجائے موٹر وے بند کرنے اور کے پی کو بلاک کرنے کی بجائے پشاور کہ خیبر روڈ پر شیر شاہ سوری پل اسمبلی چوک سے لیکر شامی روڈ تک کہ درمیانی علاقے میں پر امن آکر بیٹھ جانا چاہئے۔ اور اس وقت تک نہیں اٹھنا چاہئے جب تک عمران خان کہ بحیثیت قیدی تمام حقوق بحال نہیں ہو جاتے،
ان کی بہنوں سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جاتی
وکلاء اور پارٹی کہ رفقاء تک رسائی نہیں دی جاتی
عدالتوں میں ان کہ کیسز میرٹ پر لگنا شروع نہیں ہو جاتے۔
یہ واحد آخری راستہ ہے۔
چکری روڈ بینک کالونی راولپنڈی
بچے کی مزدوری (Child Labor) ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا ادارے پر نہیں، بلکہ پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔ اسلام میں جہاں حکمرانوں کو جوابدہ ٹھہرایا گیا ہے، وہیں پڑوسیوں اور عام مسلمانوں کو بھی ایک دوسرے کی فلاح و بہبود کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے آپ درج ذیل نکات اور قرآنی حوالہ جات کی روشنی میں اس معاملے کو سمجھ سکتے ہیں:
1. پڑوسی کے حقوق اور معاشرے کی ذمہ داری
اسلام میں پڑوسی کے حقوق پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اگر آپ کے پڑوس میں کوئی بچہ تعلیم چھوڑ کر مزدوری پر مجبور ہے، تو یہ پورے محلے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
قرآن کا حکم:
سورۃ النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی..." (سورۃ النساء، آیت: 36)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عبادت کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق، خصوصاً پڑوسیوں، یتیموں اور مسکینوں کی مدد کا حکم دیا ہے۔ اگر کوئی بچہ غربت کی وجہ سے مزدوری کر رہا ہے تو وہ "مسکین" اور "محتاج" کے زمرے میں آتا ہے، اور اس کی خبر گیری کرنا اہل محلہ کا فرض ہے۔
2. ہر شخص اپنے دائرہ کار میں جوابدہ ہے
حکومت بلاشبہ قانون سازی اور وسائل کی فراہمی کی ذمہ دار ہے، لیکن ایک حدیثِ مبارکہ کے مطابق ہم میں سے ہر شخص "نگہبان" ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت (زیر اثر لوگوں) کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" (صحیح بخاری)
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نے اپنی آنکھوں سے کسی بچے کو اس حال میں دیکھا، تو کل روزِ قیامت آپ سے بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ نے اس کی مدد کے لیے کیا قدم اٹھایا۔
3. مال میں محروم لوگوں کا حق
قرآن پاک میں واضح ہے کہ اللہ نے صاحبِ استطاعت لوگوں کے مال میں غریبوں کا حق رکھا ہے:
"اور ان کے مالوں میں مانگنے والے اور محروم (نہ مانگنے والے) کا حق ہے۔" (سورۃ الذاریات، آیت: 19)
وہ بچہ جو مزدوری کر رہا ہے، وہ دراصل اس معاشرتی حق سے محروم ہے جو اسے تعلیم اور اچھی زندگی کی صورت میں ملنا چاہیے تھا۔
ہمارا عملی فرض کیا ہے؟
صرف حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا کر خاموش ہو جانا کافی نہیں ہے۔ ایک ذمہ دار شہری اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
معاونت: اگر ممکن ہو تو اس بچے کے تعلیمی اخراجات خود اٹھائیں یا چند لوگ مل کر اس کی ذمہ داری لیں۔
آگاہی: بچے کے والدین کو تعلیم کی اہمیت سمجھائیں اور انہیں بتائیں کہ یہ عمر کام کی نہیں، سیکھنے کی ہے۔
رپورٹ: اگر وہ بچہ کسی جبر یا زیادتی کا شکار ہے، تو متعلقہ فلاحی اداروں یا حکومتی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کو مطلع کریں۔
خلاصہ: حکومت نظام بنانے کی ذمہ دار ہے، لیکن انسانیت کی بنیاد پر اس بچے کا ہاتھ تھامنا پڑوسیوں اور ہر اس شخص کا فرض ہے جو اسے دیکھ رہا ہے
کاپیڈ پوسٹ
It is past midnight in Pakistan. Imran Khan’s family has been outside Adiala Jail for over eight hours in the cold, protesting for a meeting with their brother. The Army colonel controlling Adiala Jail continues to deny them their weekly, court-mandated family meeting.
#FreeImranKhan
For the past three months, Imran Khan has been held in complete isolation. Solitary confinement is not only illegal under Pakistan’s laws, but a grave violation of basic human rights. International law clearly recognizes solitary confinement as a form of torture. Despite this, Imran Khan is being denied even his most basic legal rights. Every Tuesday, six family members and six lawyers are legally entitled to meet him, this is not a privilege, it is his right.
This Tuesday at 1:00 PM, we invite you to join us outside Adiala Jail for Khatam-e-Quran, followed by a collective dua after the Asr prayer. This dua is for the release of Imran Khan, Bushra Bibi, and all those who continue to be illegally imprisoned. We urge everyone to come together in collective prayer across Pakistan and across the world at 3:30 PM Pakistan time.
چھوٹا سربراہ۔۔
انکل! میری امی بیمار ہیں ان کے لئے دوائی لینی ہے،
پلیز تھوڑی سی برفی لے لیں نا
اوکے بیٹا کتنے کی دو گے یہ ساری؟
ایک سو پچاس روپے کی اور مجھے پچیس روپے ملیں گے
روزانہ چار پانچ تھالی بیچ لیتا ہوں
یہ کہاں سے لے کے آتے ہو؟
وہ مٹھائی والے انکل سے
بیٹا! آپ سکول نہیں جاتے؟
جب پاپا تھے اس وقت جاتا تھا اب میں بڑا ہوگیا ہوں نا اس لئے نہیں جاتا
تم ابھی بہت چھوٹے ہو کس نے کہا بڑے ہوگئے ہو؟
مما کہتی ہیں اب بڑے ہوگئے ہو کیونکہ رابی اور عاشی مجھ سے چھوٹی ہیں
بیٹا رابی عاشی کون ہیں ؟
میری بہنیں ہیں نا
اچھا یہ ہونٹ پہ کیا لگا ہے ؟ تھوڑی بلیڈنگ ہو رہی ہے
انکل ! وہ نا ادھر (ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے) کچھ لڑکے کھڑے ہوئے تھے۔ مجھ سے ایک تھالی برفی کی لی، پیسے بھی نہیں دئیے۔ جب پیسے مانگے تو مجھے مارا انہوں نے
اچھا انکل برفی لے لیں نا
بیٹا ! اس قدر سردی ہے چلو تمہیں بند شوز لے دیتا ہوں
نہیں ! مما کہتی ہیں کسی سے کوئی چیز نہیں لیتے، انہوں نے کہا تھا جمعہ کے دن لے دوں گی
انکل یہ موبائل میں کیا کر رہے ہو ؟ میری ویڈیو نہیں بنانا مجھے اچھا بھی نہیں لگتا میرا منہ میلا ہوگیا ہے نا صابن سے دھو لوں گا فِر ویڈیو بنانا
اچھا انکل برفی لے لیں نا پلیز
گھر کے اس سربراہ کو عقیدت بھرا سلام
اور معاشرے کے غلیظ اور بد بودار چہرے پر ایک زناٹے دار تھپڑ!!
ہم دہشتگردی کے ہر شکل کے مخالف ہے۔
فرد کی دوسرے فرد پر، ایک فرقے کی دوسرے فرقے پر، ایک قوم کی دوسرے قوم پر دہشتگردی کے ہم خلاف ہے۔
حتی ریاستی دہشتگردی کے بھی ہم مخالف ہے
پہلی بات یہ ہے کہ یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے، اوپر سے یہ پڑھنے لکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے-
اسی لئے یہ سچ انھیں ویڈیو کی شکل میں سمجھایا گیا ہے- اب اُمید ہے ڈی جی صاحب کو کوئی ان کے پٹواری لیول کی نوکری دی جائے گی، یہ موجودہ عہدے کے حقدار نہیں ہیں-
#DGPMLN
عمران خان نے کبھی نہیں کہا کہ آرمی چیف قوم کا باپ ہوتا ہے۔
عمران خان نے یہ کہا تھا کہ ملک کا وزیراعظم ملک کے باپ کی طرح ہوتا ہے، قوم اس کے بچے ہوتے ہیں۔ اگر بچے بھوکے ہوں تو کیا باپ ایک بادشاہ کی طرح رہے گا؟ وہ اپنے خرچے کم نہیں کرے گا؟
وہی متنفر جنگی مائنڈسیٹ، وہی رعونت بھرا لب و لہجہ، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر جھوٹ اور دو نمبری کا سہارا لیتے ہوئے سیاسی پریس کانفرنس داغ دی۔ آج جن سیاسی جماعتوں کو دودھ سے دھلا قرار دیا، ذرا ان کے ماضی کے بیانات بھی سن لیں، ہر بار ہمیں ہی آ کر ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب کو تاریخی حقائق کی الف ب سکھانی پڑتی ہے۔ آخر کوئی ڈھنگ کا ریسرچر ہائر کیوں نہیں کر لیتے جناب؟
#DGPMLN
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔
ڈی جی صاحب نے فرمایا ہے کہ کے پی میں دہشت گردی کی بنیادی وجہ وہاں کا political conducive environment ہے اور وہاں پر سیاسی، جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ ہے، ہم یہاں حقائق کی روشنی میں یہ بیان دیکھتے ہیں:
80 کی دہائی میں ایک ایف اے پاس ڈفر جو خود کو امیرالمومنین کہلواتا تھا نے امریکی ایماء پر ڈالر جہاد کا اعلان کیا، ملک بھر سے آرمی کی سربراہی میں دہشت گردی کے مراکز قائم کئے گئے، جہاں نوجوانوں کو جہاد کے نام پر ورغلا کر افغانستان میں روس کے خلاف امریکی جنگ لڑوائی گئی، وقت بدلا پھر ایک روشن خیال ایف اے پاس ڈفر ملک پر مسلط ہوا، وہ روشن خیالی کے نام پر امریکی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کُود پڑا، جینیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نے ڈالرز کے بدلے افغان سفیر امریکہ کے حوالے کردیا کراچی سے افغان بارڈر تک امریکہ کو رسائی دی گئی، اسلحہ و منشیات کا استعمال عام ہوا، ان کی اس پالیسی کے خلاف پاکستان میں شدت پسندی بڑھی۔ دہشت گردی کی اس نام نہاد جنگ میں پاکستان نے 70 ہزار جانیں قربان کیں، ہزاروں ارب کا نقصان ہوا ہماری معیشت بیٹھ گئی پھر باجوہ نامی ایک ڈفر نے طالبان افغانستان سے واپس لانے کا پلان بنایا اور ان کو کے پی کے افغان ملحقہ ایریاز میں بسا دیا گیا۔
ڈی جے اس بات کا بھی جواب دیں کہ قوم کا اربوں روپیہ لگا کر جو افغان بارڈر پر باڑ لگائی گئی وہ کیوں دراندازی روکنے میں ناکام ہے؟ 2600 کلومیٹر کا بارڈر آپ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔
کے پی جو گزشتہ چار دہائیوں سے آپ کی غلط پالیسسیوں کی وجہ سے جل رہا ہے، سلگ رہا ہے، اس طرح کے بیانات قوم کو تقسیم کرنے اور زخموں پر نمک پاشی کے سوا کچھ نہیں! اگر آپ سیاست کی بجائے بارڈرز کی حفاظت میں مصروف ہوتے تو پاکستان اور کے پی کے یہ حالات ہرگز نہ ہوتے۔
“To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.
At this moment, Pakistan is being governed solely under “Asim Law”. Here, verdicts are pre-written and merely announced aloud. Like the baseless decisions and sentences of the past three years, the Toshakhana 2 verdict is nothing new for me. This ruling, too, was delivered in haste, without any evidence and without fulfilling legal requirements. Neither we nor our lawyers were even given opportunity to present our case.
The sustained solitary confinement imposed on me and my wife constitutes severe mental torture. We are barred from books, television, and meetings. Although television access is granted to every other prisoner, even this fundamental facility has been withheld from me and Bushra Bibi. The books sent by my family are confiscated by jail authorities, and we are kept in solitary confinement for weeks at a time. This treatment is inhumane, yet all this oppression and brutality cannot weaken my resolve.
It is not our tradition to target women and children. Our religion mandates mercy toward women even during warfare, yet here they are being persecuted purely out of political vendetta. I am deeply saddened and distressed by the mistreatment and brutality faced by my sisters and other women outside Adiala Jail. The treatment meted out to Bushra Bibi, Dr. Yasmin, Mahrang Baloch, and other women stands in clear violation of Islamic traditions and moral values. Bushra Bibi, my wife, has been subjected to solitary confinement purely because of personal hostility towards me, even though she has no political role and is a homemaker.
The army is mine and belongs to the people of Pakistan. When I criticize Asim Munir, it is criticism of an individual, just as past dictators were criticized. Asim Munir did not come into power through a public referendum or popular vote. Whatever is happening to me in jail is being carried out on the instructions of a colonel acting under Asim Munir’s orders.
The rule of law in Pakistan has been severely undermined. Just as in 2007, PCO judges who sided with a dictator and tarnished the sanctity of the judiciary earned no respect, while those who resisted were hailed as national heroes. Similarly, today, the judges who are resisting this system are our heroes, while those acting as puppets, obediently following orders, lack conscience and are no different from the PCO judges of the Musharraf era.
For the struggle to restore the rule of law and uphold the Constitution, it is essential for the Insaf Lawyers Forum and legal fraternity to step forward decisively. Only a just legal system can safeguard the people; without it, neither economic progress nor moral development is possible.
I have full confidence in Salman Safdar and his team and have instructed them to file an appeal against these bogus decisions in the Islamabad High Court.
My message for Sohail Afridi is to prepare for a street movement. The entire nation must rise for their rights!!
To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his lawyers after the verdict of a military-style trial in Adiala Jail - (20 December, 2025)
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)