Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves
Imran Khan, the whole world knows who he is. A Patriot of Pakistan, a true son of the soil, a man who is prayed for in Kaaba and Karbala.
Now these smoll men in big offices. No one knows you except for your traitorous activities against Pakistan.
Never forget, never forgive
باجوڑ کی بے گھری کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ اگلی باری مہمند کی ہے اور آگے بھی یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ جس ملاکنڈ سے ہم نے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا تھا اب وہاں بھی انہیں پھیلایا جارہا ہےاورکچھ ہی ہفتوں میں آپ کو وہاں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملے گی۔ لوگ کتنی تعداد میں نکلے، ان کا کیا مطالبہ ہے اس سے سروکار اس ریاست کو ہوتا ہے جو ماں ہو ہمارے یاں وہ ڈائن ہے!
صوبائی حکومت نے پہلے فریقین کے مابین جرگوں کے زریعے معاملات سنبھالنے کی کوشش کی (اگرچہ میری پہلے ہی ان سے یہی گزارش تھی کہ ان کے حوالے سے کوئی خوش فہمی پالنے سے گریز کریں اور جرگے سڑکوں پر ہوں) میری توقع کے عین مطابق فوج ملکی مفاد کو ذاتی مفادات پر قربان کرنے کی اپنی دیرینا روایت سے پہلو تہی کرنے پہ نہ دو سال قبل راضی تھی نہ آج راضی ہوئی۔
نتیجہ وہی ہے جس کا خدشہ تھا۔
اگست ۲۰۲۲ میں اسلام آباد میریٹ ہوٹل میں دہشت گردی پر کانفرنس میں یہ سارا پلان بیان کیا تھا۔ اگست ۲۰۲۵ اور حرف با حرف وہی سب ہورہا ہے۔ ہمارے وہ لوگ جو امن کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں انہیں اور ان کے عیال کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ان کے گھروں پر گرنیڈ پھینکے جاتے ہیں، سروں پر ڈرون اڑائے جاتے ہیں۔ انہیں دہشت زدہ کرکے ان کی آوازیں دبائی جارہی ہیں۔ خیبر پختونخواہ کے علاوہ باقی ملک میں اس وقت امن آشتی کا دور دورا ہے، اگلے چند روز میں آپ سڑکوں پر ہری جھنڈیوں کی بہار دیکھیں گے اور نادیدہ ترقی کے شادیانے بجیں گے مگر پردے کے پیچھے سب اچھا نہیں ہے! اور جب تک باقی ملک کو اس بات کا ادراک ہوگا تب تک آگ آپ کی دہلیزوں تک بھی پہنچ چکی ہوگی۔ پہلے بھی یہی وارننگز دےچکا ہوں تب بھی میں فسادی تھا اور فوکس تحریک انصاف کو کچلنا تھا۔ آج بھی میں غدار ہوں اور پرائرٹی سیاسی کارکنان کو دس دس سال سزائیں سنا کر اور عمران خان کی بہنوں اور کارکنان کو قید میں ڈال کر اپنی اناؤں کی تسکین ہے۔ مگر جب آگ پھیلے گی تو پھر نا وہ بال بچہ محفوظ رہیگا جن کی خاطر دوسروں کی اولادوں کو موت کے مونہہ میں دھکیل رہے ہیں اور نہ وہ مال دولت کام آئیگا جس کے عوض وطن بیچ کر اپنے لوگوں کو دربدر کررہے ہیں۔ اور وہ جو خاموش ہیں۔۔ جو سب دیکھتے جانتے بوجھتے انجان ہیں۔۔ یقین مانیں آپ جیسوں سے بھی قبرستان بھرے پڑے ہیں۔
رہی ہماری بات کہ ہم کیا کررہے ہیں؟
۲۰۲۲ سے جب ان کی آبادکاری کی جارہی تھی تب سے آج تک ہم ہی رکاوٹ ہیں۔ ۲۰۲۲ میں بھی دو مرتبہ ہم نے ہی انہیں واپس دھکیلا تھا۔ ابھی بھی ایک سال سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو موبلائیز کرکے امن کا جھنڈا لہرا کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ ہمارے امن کے جھنڈے کو ہمارے خون سے رنگا جارہا ہے لیکن ہمارے پاس خاموشی کا آپشن نہیں ہے چاہے ہمارے سروں کی قیمتیں لگیں، گھروں پر گولے گریں، یا ہم پر ہماری گلیوں میں ہمارے ٹیکس کے پیسوں کی گولیاں برسائی جائیں،ہمیں اپنا انجام معلوم ہے۔
ہمارے آپسی جرگے میں پانچ نکاتی لائحہ عمل پر اتفاق ہوا ہے۔ جس پر کل سے عملدرآمد شروع ہوجائیگا۔ گروانڈ پر موجود اپنے ساتھیوں کے تحفظ کی خاطر اس وقت یہاں ان نکات کی تفصیل بیان کرنا مناسب نہیں ہوگا مگر اپنے لوگوں کو یہ باور کرادوں کہ عمران خان کے نظریے اور سوچ کے مطابق ہم کسی کو بھی اپنے لوگوں کو کسی اور کےمفادات کی آگ میں جھونکنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
“We haven't seen our father for three years and haven't been able to speak to him for months. It's obviously brutal. It seems like they're trying to break him.”
Imran Khan’s sons #SulaimanKhan and @Kasim_Khan_1999 in an Exclusive Interview with @piersmorgan
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
گذ شتہ برس خان صاحب کا پیغام موصول ہوا کے سینیٹ کے لیے کاغذات جمع کراؤ۔ مجھے کچھ مناسب نہیں لگا کہ حلقے کی سیاست کرنے والے کو سینیٹ لڑوانا اور اس کا سینیٹ پر راضی ہوجانا دونوں ہی زیادہ دانشمندانہ باتیں نہیں لگتیں۔ دوبارہ پیغام آیا کہ لازمی اپلائی کرنا ہے، سو کیا۔
پھر وہی ہوا جس کی توقع تھی۔ جنرل الیکشن میں کاغذات ریجیکٹ ہوئے، تائید کنندہ اور تجویز کنندہ کو اغوا کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ اپیل میں گیا وہاں سے بھی فیصلہ خلاف آیا۔ سینیٹ کی نامزدگی پر بھی یہی متوقع تھا یہی ہوا۔ ابھی چونکہ چھبیسویں ترمیم کے زریعے آئین کا مکمل کباڑہ نہیں نکالا گیا تھا، پارٹی نے آئی ایل ایف کے وکلاء کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ وکیل ہائیر کرکے ہائیکورٹ میں فیصلہ چیلنج کردیا۔ ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ حق میں دیا تو سینیٹ انتخابات ملتوی کردیے گئے۔ شرط ایک؛ جس نام پہ کاٹا لگا تھا اس پر کاٹا لگا رہیگا۔ ہم خدا ہیں ہمارا فیصلہ ہے اول تو ہوگا نہیں، ہوا تو جیتے گا نہیں، جیتا تو آ نہیں سکتا، آیا تو واپس نہیں جائیگا۔ اور ساتھ ہی بیانیے؛ کیا کرلیگا؟ سیٹ ضائع، ووٹ ضائع (جیسے ووٹ، اکثریت جیسی چیزیں یہ اب تلک خاطر میں لائے ہوں)۔ آج دن تک خدائی کی لڑائی جاری رہی۔ مجھے یقین ہے آگے بھی جاری رہے گی، دنوں کی بات ہے ارادے واضح تھے واضح تر ہوجائیں گے۔ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ مجھے عمران خان کے بغیر اس پارلیمانی نظام کا حصہ بننے میں کوئی دلچسپی ہے نہ اس کا کوئی فائدہ۔ انتخابات کی واضح اکثریت۔ فارم ۴۷ کی حکومت مسلط کرنے کے باوجود نوے سے اوپر ایم این ایز۔ سینکڑوں نمائندگان دیگر اسمبلیوں میں کیا کرپائے ہیں جو ایک سینیٹ کی نشست کر لے گی کہ جب ملک میں آئین ہی نہیں۔ جب عدل ہی تماشہ ہے اور ڈنڈے کے زور پر ڈگڈگی تماشہ لگا کر ملک کے ہر ادارے کو مافیہ کے مفادات کے تحفظ کا ننگا ناچ نچوایا جارہا ہے۔ ایسے میں کون سے ایوان کی کوئی تقدیس باقی رہ گئی ہے کہ جس کا نمائندہ بننا کوئی قابلِ تحسین امر ہو (اور جو ایوان بنا ہی ووٹ کا استحصال کرکے ہو وہاں آپ اپنے لوگوں کے حقوق کا ہی کیا تحفظ کر پائیں گے)۔
سچ کہوں تو مجھے خان صاحب کی سوچ بھی نہیں سمجھ آئی کیا کرنا ہے مراد سعید کو سینیٹر بنوا کر؟ فائدہ؟ ایوانِ بالا کا احترام نہ شبلی فراز کا گریبان بچا سکا، نہ اعظم سواتی کی چادر اور چاردیورای اور قید تو وہ ہے جو اعجاز چوہدری دو سال سے کاٹ ہی رہا ہے۔ مراد سعید کا سر کیا بچا لینا ہے اس نے؟
بہت منطق ڈھونڈی نہیں ملی تو بسم اللہ پڑھ کر دستخط کردیے۔ دوسری جانب جو بھاگ دوڑ شروع ہوئی اور جو ایڑھی چوٹی کا زور لگا تو خان صاحب کی منطق سمجھ آئی؛”آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے، کاٹا صرف اللہ کی ذات لگاتی ہے“۔
۲۰۱۳ کے الیکشن میں جب پارٹی کے بڑوں نے میرے ٹکٹ کی مخالفت کی تو خان صاحب نے ایک جملہ کہا تھا ”مراد میرا پوسٹر بوائے ہے“۔ آپ کو اپنا پرایا، کوئی مراد سعید کے بغض میں، کوئی محبت کے لبادے میں تو کوئی کھلم کھلا عمران خان کی نفرت میں تو کوئی مایوسی میں تنکے کا سہارہ کھوجتے اور کم فہمی میں وراثت کے منجن بیچے گا، مگر میں بس یہی ہوں۔ پوسٹر بوائے؛ ایک استعارہ۔ بس یہی بتانا تھا کہ اس سے زیادہ ایڑھی چوٹی کا زور لگا لو، چاہے ایوانوں اور عدالتوں کو قحبہ خانے بنا دو، ملک کی ہر قابلِ فروخت زبان سے اپنی خدائی کے بیانیے بنوالو آج عمران خان نے آپ کی آنکھوں کے سامنے محض ایک پوسٹر رکھا ہے، جس کا ٹائٹل ہے؛ “آپ کوئی نہیں ہوتے کسی پر کاٹا لگانے والے“۔
انشاءاللہ عمران خان واپس آئیگا!
شرمناک جمہوریت، بدترین عدالت۔۔
یہ ڈیموکریسی نہیں ڈاکو کریسی ہے۔۔
پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی نشان چھینا گیا،لیڈرشپ قید کردی گئی،اس کے باوجود دو تہائی اکثریت حاصل کی گئی تو وہ چھینی گئی،اب مخصوص نشستیں چھینی گئی۔یہ ڈیموکریسی نہیں ہے جناب یہ ڈاکو کریسی ہے۔عوامی مینڈیٹ پر الیکشن کمیشن اور عدالتوں کے ذریعے ڈاکہ ڈالنے کا شرمناک عمل۔
آج کے عدالت فیصلے نے مخصوص نشستیں حکومتی اتحاد کو دے دیں، جس سے ان کے پاس قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت آ گئی ہے۔
پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور اس فیصلے سے دیگر فائدہ اٹھانے والی جماعتیں ان نشستوں کو کیسے اخلاقی جواز فراہم کریں گے؟
خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کے 6 ارکان ہیں، لیکن انہیں 8 مخصوص نشستیں مل گئیں۔ پیپلز پارٹی کو 4 پر 6، حتیٰ کہ اے این پی کو 1 پر 1 نشست مل گئی!
یہ اس ملک،جمہوریت، عوامی مینڈیٹ اور انصاف کیساتھ مذاق ہے،قائداعظم کے پاکستان کی توہین پے۔
“Two years ago, I was asked to step aside for three years and allow the current system to function unchallenged. But I won’t stay silent even for three minutes at the behest of any Yazeed [tyrant].
I am being pressured to accept the 26th Constitutional Amendment, yet my entire struggle has been for the rule of law, and this amendment blatantly violates it.
They demand that I apologize for May 9th (2023). Yet those who owe the nation an apology are the ones who stole CCTV footage, dishonored women, desecrated homes, imprisoned thousands of political workers, and martyred innocent citizens. If even one hour of the May 9th cases were heard on merit, these baseless cases would collapse instantly. The tragedy here is not only the absence of justice, but that not even a semblance of justice is visible.
Nations do not perish under oppression. They are reborn through struggle. The Holy Prophet (Peace Be Upon Him) endured thirteen of the most difficult years but remained steadfast and was ultimately triumphant. Therefore, following in his footsteps, we too must stand firm as a nation and fight until the very end.
Peaceful protest becomes the only viable path when every door to justice is sealed shut. I call upon the entire nation, including Pakistan Tehreek-e-Insaf, to prepare for a nationwide protest.
Rule of law is entirely suspended in Pakistan. Even the dignity of women is no longer secure. My wife, Bushra Bibi, has been in solitary confinement for 14 months over mere allegations of facilitation, without a single proven charge. Dr. Yasmin Rashid, a cancer survivor and an elderly woman, has been shamelessly jailed under false cases. My sisters, aged between 65 and 70, visit me in jail under High Court orders, which is a basic right, but a Colonel obstructs them, flouting court directives with impunity. My sisters are abducted and abandoned in remote areas in the dead of night. A nation that treats its own women this way has lost its moral compass. When Maryam Nawaz was found guilty of owning five undisclosed flats in London, her bail was granted within two months, because the Sharif family had agreed to a deal. Anyone who bows before tyranny gets absolved of all charges, while those who stand on principle are punished without cause.
No foreign investment has come into Pakistan for two years because the world knows that the law here is trampled under a Colonel’s boot. Without investment, there can neither be no economic stability nor development. Investor confidence will remain non-existent as long as judicial orders remain subject to a Colonel’s whims.
The entire nation now looks to the judiciary for justice yet the 26th Amendment has crippled the judiciary.
There are two motives behind this amendment: The first is to protect a rigged election. And secondly, to keep me, PTI leadership, and its workers incarcerated, violating basic human rights without fear of accountability.
There are two direct consequences of this Amendment:
1- The judiciary has entirely surrendered to the executive. The Supreme Court has authorized military courts in direct contradiction of Article 175(3) of the Constitution, which mandates a separation of powers. Special benches are being formed to snatch reserved seats from PTI despite the people voting for us. These seats are being handed to other parties in complete violation of the Constitution.
2- The judiciary is so paralyzed that even High Courts and judges cannot assign cases of their own volition. As a result, I am being denied justice. Sometimes benches for my cases remain incomplete, while hearings are arbitrarily delayed at other times. My cases are deliberately kept in limbo. Even my basic rights under jail regulations are denied—I am not allowed to speak to my children, scheduled meetings with my wife are cancelled, and even my books are withheld. All of this is designed to break my spirit. 1/2
Shah Mahmood Qureshi sahib is a distinguished son of Pakistan who has served Pakistan with distinction! @SMQureshiPTI is now a Prisoner of Conscience, a Political Prisoner, who needs to be released forthwith! Proud of @SMQureshiPTI courage & commitment!
“He is a very very resilient person, he is one of the hardest people possible to break … He has strong faith in God” Imran Khan’s son Kasim Khan in an interview with Mario Nawfal
“پاک بھارت حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستانی ایک بہادر اور خوددار قوم ہیں۔
میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ “فوج بھی میری ہے اور یہ ملک بھی میرا ہے”- جس طرح ہمارے جوانوں نے فضائی اور زمینی سرحدوں پر مودی کو شکست دی ویسے ہی پاکستانی عوام خصوصاً سوشل میڈیا نے مودی اور آر ایس ایس کے بیانیے کو دنیا بھر میں شکست دی-
مودی نے پاکستان میں سویلین بچوں، عورتوں، بزرگوں اور تنصیبات کو ٹارگٹ کر کے بزدلی کا مظاہرہ کیا جس کا ہماری فورسز نے بہترین جواب دیا- ہم ان بزدلانہ حملوں میں شہید ہونے والے سویلینز اور ملٹری آفیشلز کی فیملیز کے غم میں برابر کے شریک ہیں-
میں پاک فضائیہ سمیت تمام فوجی جوانوں کو پروفیشنلزم اور بہترین کارکردگی دکھانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مودی کی طرح سویلنز اور سول تنصیبات کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے پاکستان پر حملے میں شامل طیاروں اور تنصیبات کو کامیابی سے تباہ کر کے کامیابی حاصل کی-
نریندرمودی پاکستان سے سخت نفرت کرتا ہے اور دوران جنگ پاکستانیوں کے بے خوف رویے نے مودی کے غصے کو مزید ابھارا ہو گا۔ وہ سخت غصے میں ہو گا اور انتقام لینے کے لیے دوبارہ ویسا ہی فالس فلیگ کرنے کی کوشش کرے گا جیسا جموں کشمیر میں کیا، جس کے لیے ہمیں محتاط اور تیار رہنا ہو گا۔ میں 2019 میں بھی اس حوالے سے پیشنگوئی کر چکا تھا- مودی کی پوری کوشش ہو گی کہ پاکستان کو معاشی سطح پر بھی نقصان پہنچائے۔ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں قوم کو تیار اور متحد رہنا ہو گا۔
دوران جنگ فوری ردعمل دینا انتہائی ناگزیر ہوتا ہے۔جنگیں 60 فیصد تک اعصاب سے لڑی جاتی ہیں اور اسی لیے ایسی لیڈر شپ کا ہونا انتہائی اہم ہے جسے قوم کی حمایت حاصل ہو اور جو فوری طور پر بڑے فیصلے کرنے اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی طاقت رکھتی ہو۔
حالت جنگ میں فوج کو عوام کی حمایت کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور قوم کا مورال بہت اہمیت رکھتا ہے جو فوج کا سہارا بنتا ہے۔ اس لیے میں مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہوں کہ ہمیں اپنے لوگوں کو "آئیسولیٹ" نہیں کرنا چاہیے اور نظام انصاف کو زندہ کرنا چاہیے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے اہل خانہ سے ملاقات میں بھارت کے پاکستان پر حملے اور پاکستانی قوم کے جوابی ردعمل کے حوالے سے گفتگو
(13-05-2025)
1/2
عمران خان نے کہا ہے کہ نریندرمودی ناقابل اعتبار ہے وہ پاکستان سے سخت نفرت کرتا ہے اور دوران جنگ پاکستانیوں کے بے خوف رویے نے مودی کے غصے کو مزید ابھارا ہو گا۔ وہ سخت غصے میں ہو گا اور انتقام لینے کے لیے دوبارہ ویسا ہی فالس فلیگ آپریشن کرنے کی کوشش کرے گا جیسا پہلے کیا، جس کے لیے ہمیں محتاط اور تیار رہنا ہو گا
“The recent escalation between Pakistan and India has once again proven that Pakistanis are a brave, proud, and dignified nation.
I have always said, "Mulk bhi mera, Fauj bhi meri" (this country is mine, and so is the army). Just as our soldiers defeated Modi on both aerial and ground fronts, the people of Pakistan—especially on social media—exposed and dismantled Modi and the RSS’s narrative at a global level.
By targeting innocent civilians such as children, women, the elderly, and civilian infrastructure in Pakistan, Modi displayed cowardice. Our forces responded with strength and precision. We stand in full solidarity with the families of both civilians and military personnel who were martyred in these cowardly attacks.
I pay tribute to the Pakistan Air Force and all our military personnel for their professionalism and outstanding performance. Unlike Modi, who targets civilians and public infrastructure, our forces successfully hit only the aircraft and installations directly involved in the attacks.
Narendra Modi harbors deep hatred for Pakistan. The fearless attitude shown by Pakistanis during this conflict must have only fueled his anger. He is likely furious and may attempt another false-flag operation, similar to what he orchestrated in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir. We must stay alert and fully prepared. I had predicted this scenario back in 2019 as well. Modi will also try to inflict economic damage on Pakistan. In case of any new attack, the nation must remain united and ready.
During wartime, a swift response is absolutely vital. Wars are fought as much with nerves as with weapons—perhaps 60 percent of it depends on mental strength. That is why it is crucial to have leadership that enjoys the people’s trust and can make bold and timely decisions in the face of aggression.
In a state of war, the military needs public support more than ever. The morale of the nation becomes the strength of the armed forces. That is why I’ve consistently emphasized that we must not isolate our people, and we must breathe life back into our justice system”
Illegally incarcerated former Prime Minister Imran Khan’s conversation with his family at Adiala Jail today, in reference to India’s attack on Pakistan and the Pakistani nation’s resilient response (May 13, 2025)
1/2
He is a public servant appointed for a specific security duty. He ll retire and new ll come. We respect every officer who focuses on his duty rather than other unconstitutional activities.
The conflict with India united Pakistanis in defense of their country. To maintain national @ImranKhanPTI, the country's dominant political leader must be freed; and the conflict in #Baluchistan, which is becoming a bleeding wound must be addressed. #Pakistan