فارم 45 اور فارم 47 کا رونا رونے والو یہ سن لے اپنے امت مسلمہ کے عظیم لیڈر کے کارنامے۔۔
تھوری سی بھی اگر شرم اور حیا ہے تو ڈوب مرے۔۔
اور اپنے لیڈر کیلۓ سعد رفیق سے تھوڑی سی ہمت,بہادری اور حوصلہ ادھار لے لے۔۔
@KhSaad_Rafique
Love You sir Tum kal bhi jeety thy or aj bhi😘
آئیں، آج آپ کو ایک واقعہ سناتے ہیں۔۔۔
1993 کی بات ہے اسحاق ڈار صاحب لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر تھے۔ عمران خان صاحب شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے سلسلے میں LCCI آئے۔ ممبرز سے خطاب کے بعد صدر کے چیمبر میں جا بیٹھے۔ LCCI کا دستور ہے کہ صدر کے چیمبر میں اوپن ڈور پالیسی ہوتی ہے۔ تو خان صاحب کے ساتھ اور بھی کئی انڈسٹریلسٹس اور دیگر لوگ کمرے میں آ گئے۔ خان صاحب نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے بارے میں فضولیات بولنا شروع کر دیں۔ مذاق اُڑایا۔ اللہ ��ی کرنی ایسی کہ بینظیر شہید کے بارے میں کی گئی خان صاحب کی باتیں ا��لے روز جنگ اور The News کی ہیڈلائنز کے طور پر اخبار میں شائع ہو گئیں۔ رپورٹر کوئی ینگ unknown شخص تھا جو گزشتہ روز خان صاحب کے ساتھ صدر کے چیمبر میں آ بیٹھا تھا لیکن کوئی اسے جانتا نہیں تھا کہ وہ کون ہے۔
اب خان صاحب تو بنیادی طور پر ایک ڈرپوک آدمی ہیں۔ انہوں نے سخت پریشانی میں ڈار صاحب، جو اس وقت خان صاحب کے اچھے دوست ہوا کرتے تھے، کو فون کیا اور کہا کہ وہ اس خبر کی تردید کر دیں۔ کہہ دیں کے یہ خبر جھوٹی ہے اور عمران خان نے بینظیر کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کی۔ ڈار صاحب نے کہا میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ آپ نے یہ بات کی ہے تو اس کو own کریں۔ اگر میں نے خبر کی تردید کی تو وہ بیچارہ ��نگ unknown رپورٹر جس نے شاید ابھی ابھی اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا ہے، اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔ کسی کی روزی پر لات نہیں ماروں گا۔
ڈار صاحب نے ایسا ہی کیا۔ جھوٹ نہیں بولا اور اس وقت کے اپنے دوست عمران خان کے مقابلے میں اُس ینگ unknown رپورٹر کے ساتھ کھڑے رہے جو کہ اس خبر کے بعد overnight sensation بن گیا۔
ذرا بھوجیں کہ وہ رپورٹر کون تھا؟ وہ رپورٹر وہی شخص تھا جس نے 9 فروری 2024 کو لائیو ٹی وی پر ڈار صاحب کو کہا،
”اُف ، اب یہ کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولے گا“
اینڈ آئی ریسٹ مائے کیس۔۔۔
آئیں، آج آپ کو ایک واقعہ سناتے ہیں۔۔۔
1993 کی بات ہے اسحاق ڈار صاحب لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے صدر تھے۔ عمران خان صاحب شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے سلسلے میں LCCI آئے۔ ممبرز سے خطاب کے بعد صدر کے چیمبر میں جا بیٹھے۔ LCCI کا دستور ہے کہ صدر کے چیمبر میں اوپن ڈور پالیسی ہوتی ہے۔ تو خان صاحب کے ساتھ اور بھی کئی انڈسٹریلسٹس اور دیگر لوگ کمرے میں آ گئے۔ خان صاحب نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے بارے میں فضولیات بولنا شروع کر دیں۔ مذاق اُڑایا۔ اللہ کی کرنی ایسی کہ بینظیر شہید کے بارے میں کی گئی خان صاحب کی باتیں اگلے روز جنگ اور The News کی ہیڈلائنز کے طور پر اخبار میں شائع ہو گئیں۔ رپورٹر کوئی ینگ unknown شخص تھا جو گزشتہ روز خان صاحب کے ساتھ صدر کے چیمبر میں آ بیٹھا تھا لیکن کوئی اسے جانتا نہیں تھا کہ وہ کون ہے۔
اب خان صاحب تو بنیادی طور پر ایک ڈرپوک آدمی ہیں۔ انہوں نے سخت پریشانی میں ڈار صاحب، جو اس وقت خان صاحب کے اچھے دوست ہوا کرتے تھے، کو فون کیا اور کہا کہ وہ اس خبر کی تردید کر دیں۔ کہہ دیں کے یہ خبر جھوٹی ہے اور عمران خان نے بینظیر کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کی۔ ڈار صاحب نے کہا میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ آپ نے یہ بات کی ہے تو اس کو own کریں۔ اگر میں نے خبر کی تردید کی تو وہ بیچارہ ینگ unknown رپورٹر جس نے شاید ابھی ابھی اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا ہے، اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔ کسی کی روزی پر لات نہیں ماروں گا۔
ڈار صاحب نے ایسا ہی کیا۔ جھوٹ نہیں بولا اور اس وقت کے اپنے دوست عمران خان کے مقابلے میں اُس ینگ unknown رپورٹر کے ساتھ کھڑے رہے جو کہ اس خبر کے بعد overnight sensation بن گیا۔
ذرا بھوجیں کہ وہ رپورٹر کون تھا؟ وہ رپورٹر وہی شخص تھا جس نے 9 فروری 2024 کو لائیو ٹی وی پر ڈار صاحب کو کہا،
”اُف ، اب یہ کلمہ پڑھ کر جھوٹ بولے گا“
اینڈ آئی ریسٹ مائے کیس۔۔۔
فتنہ گرفتاری کے ڈر سے عدالت میں چھپا بیٹھا ہے۔ اگر عدالت سے گرفتار کرنا غلط ہے تو کیا ایک مجرم کو عدا��ت کو اپنی پناہ گاہ بنانے کی اجازت دینا بھی کوئی نیا قانون ہے؟ شرم آتی ہے اس دہرے معیار پر!
Aleem Khan's press conference earlier today is a serious charge sheet against Imran Khan. Being privy to all that went on, his revelations are eye-opening & fully endorse what is now a public knowledge. Behind the veil of self-righteousness is a fraud of massive proportions.