ﷺ❤️
سبحان الله والحمد لله ولاإله إلاالله والله أكبر
ﷺ❤️
لاحول ولاقوة إلا بالله
ﷺ❤️
أستغفر الله الذي لاإله إلاهو الحي القيوم وأتوب إليه
ﷺ❤️
اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عنا
ﷺ❤️
لاإله إلاالله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
چکوال کے دوست انور بی بی کا خاندان تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں۔۔!!
انور بی بی کا کہنا ہے کہ وہ تقریبا دس سال کی تھی جب گھر سے بچھڑ گئی تھی۔چکوال سے کراچی مومن آباد شفٹ ہوئے تھے۔ والدہ فوت ہوئی تھی۔بہن بھائی چھوٹے تھے۔کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا۔ بڑے بھائی کی شادی ہوگئی تو میں بھائی کےپاس رہتی تھی۔ بھائی کی ڈانٹ سے ڈر کر میں گھر سے نکل کر ٹرین اسٹیشن پہنچ گئی کہ وہاں سے گاوں جاکر پھوپھی کے پاس رہونگی, پھوپھی بہت پیار کرتی تھی۔
لیکن ٹرین نکل گئی تھی اور لوگوں نے کمسنی کی وجہ سے روک لیا کہ غلط ہاتھوں میں چلی جائےگی۔
مجھے پولیس کے حوالے کردیا،پولیس نے مجھے گھر بھیجنے کا کہا لیکن میں نے ان سے کہا کہ بھائی مجھے مارےگا دل میں بھائی کا خوف تھا۔
پولیس نے عارضی طور پر ایک شیلٹر جانے کا کہا میں وہاں جمع ہوگئی۔
تین سال بعد میں شیلٹر سے کسی طرح نکل گئی ایک فیملی نے مجھے رکھ لیا، میری شادی کروادی۔
ابھی میرے بچے ہیں۔شوہر چھوڑ چکا ہے۔
مجھے میرے بھائی اور بہن بہت یاد آتے ہیں۔خدارا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
انور بی بی کے والد کا نام غلام رسول ہے،والدہ فاطمہ فوت ہوچکی تھی۔
بھائیوں کے نام عاشق حسین،ساجد حسین،اور عابد حسین اور ایک بہن سمیرا کے نام یاد ہیں۔
دادے کا نام کرم الہی اور چچا نذیر دوسرا حاجی فیض رسول۔
ایڈریس:چکوال،چوا سیدن شاہ، گاؤں ڈنڈوٹ ۔
سال 1997 میں کراچی میں اپنے گھر سے نکلی تھی۔
انور بی بی کی داستان مکمل ہم لکھنے سے فیصل الحال قاصر ہیں۔اللہ کسی دشمن کو بھی اس طرح کے دن نا دکھائے۔
آپ نے اگر کسی بے بس اور مظلوم انسان کی دعا لیکر اپنا بیڑا پار کروانا ہو تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اسکے اپنے مل گئے اور وہ ایکسپٹ کرنے کو تیار ہوجائیں تو بہت ساری دعائیں آپکے حق میں کرےگی جو ان شاءاللہ رد نہیں ہونگیں۔
کسی بھی اطلاع کے لیے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں۔
+923162529829
27 june 2026
#waliullahmaroof
شوباز، عمران خان نے تو وزیراعظم بنتے ہی کہا تھا جو حلقہ کھولنا ہے، کھول لو اور الیکشن 2018 کی تحقیقات کرا لو، تب بھی تم بھگوڑے ہوئے۔ 2018 سے پہلے 1985 سے تحقیقات شروع کرو جب مارشل لاء کے گملے میں تمہاری پنیری لگائی گئی یا 1990 سے، جب پیسے تقسیم کرکے چھانگا مانگا متعارف کرایا تھا
🔴 اٹلی میں فلسطین کے حق میں مظاہرے میں شریک ایک اطالوی شہری نے کہا:
“یہ کوئی حقیقی جنگ بندی نہیں۔
غزہ ایسی سخت ناکہ بندی میں ہے کہ بم رک بھی جائیں تو لوگ بھوک اور پیاس سے مر رہے ہیں۔
کیا دنیا کا مستقبل یہی ہونے والا ہے؟”
بابا جی کی فریاد سنیں۔۔۔
بابا جی کا نام منصف ہے۔ راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن میں چوراہے پر اپنے ضعیف ہاتھوں میں پھول لیکر رات دیر تک بیچتے ہیں۔ چند پیسے کماکر اپنے آشیانے جاکر بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔
ہمارے پیج سے جڑے ایک نیک دل انسان کامران سعید صاحب انکی مدد کے بہانے ان سے پھول خریدتے ہیں۔ انکے چہرے پر اداسی دیکھ کر بابا جی سے بات چیت کرنے لگتے ہیں اور انکے دل کا حال پوچھتے ہیں کہ آنکھوں میں چمک نہیں اور چہرہ اداس کیوں ہے؟ تو بابا جی کہتے ہیں "بیٹا میرے دو خوبصورت بچے 2006 سے لاپتہ ہیں انکی جدائی نے مجھے ایسا کردیا ہے"۔
یہ سن کر کامران صاحب اپنے خیالوں میں ہمارا پیج سرچ کرکے کھولتے ہیں اور ہمارے سارے کیسز ذہن میں چلنے لگتے ہیں۔ بابا جی کو امید کی ایک کرن دکھاکر کہتے ہیں کہ آپ ہمیں تفصیل بتائیں ان شاءاللہ بچے مل جائیں گے۔
بابا جی نے بتایا کہ بچوں کے نام محمد یاسر اور وقار ہیں۔ ایک کی عمر سات سال اور ایک کی عمر نو سال تھی۔ انکی تصاویر موجود نہیں ہیں۔ بس میری تصویر لگائیں کیا پتہ وہ میرے چہرے کو دیکھ کر مجھے پہچان لیں اور میری جس ڈانٹ کی وجہ سے گھر سے گئے تھے مجھے دیکھ کر انکا دل نرم ہو اور لوٹ آئیں۔ انکے ایک بھائی کا نام وقاص اور ایک کا نام قیصر ہے۔
اس وقت رہائش ایبٹ آباد کے بیرن گلی محلہ دھب میں ہے۔
مجھے مرنے سے قبل ایک بار بچوں سے ملائیں میرے سارے دکھ ختم ہوجائیں گے۔
بچے شاید ناراض ہوکر کہیں نکل گئے ہوں۔ کسی ڈیرے میں کام کررہے ہونگے یا کسی بٹھے یا شیلٹر میں بند ہوگئے ہونگے۔ ورنہ سات آٹھ سال کے بچے گھر لوٹ سکتے تھے۔
آپ تمام دوستوں سے درخواست ہے کہ بابا جی کی پوسٹس زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔اگر یہ پوسٹ ان بھائیوں تک پہنچتی ہے تو ان سے گزارش ہے کہ آپکے بابا کے سفید بالوں کا واسطہ لوٹ آو۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
23 june 2026
#waliullahmaroof
میرا گھر ڈھونڈنے میں مدد کریں۔۔!!
اس نوجوان کا نام شان یا شانی ہے۔والد کا نام بشیر یاد ہے۔والدہ کا یاد نہیں ہے۔
شان کا کہنا ہے کہ میں ایک روز گھر سے باہر نکل کر ہوٹل پر بیٹھا تھا۔ گھر جانے کے لئے راستہ بھول گیا۔
ایک شخص مجھے اپنے گھر لےگیا وہاں تین دن تک مجھے رکھا۔
میری تصویریں بنائیں اور پھر مجھے تین روز بعد ملتان کے ایک شیلٹر میں جمع کرادیا۔
ملتان سے پھر مجھے کراچی لایا گیا۔
مجھے اپنا شہر تاندلےوال یا تاندلا یاد ہے (جب ہم نے سرچ کیا تو تاندلیانوالہ میپ پر ملا)۔
تین بھائی اور تین بہنیں تھیں انکے نام مجھے اب یاد نہیں ہیں۔
گھر کے پاس ایک طرف کھیت اور ایک طرف باڑا تھا۔
میں نے ہوش سنبھال کر اپنی فائل نکال کر چیک کی تو اسمیں میرے داخلے کا سال 2006 لکھا تھا۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے بھی بہن بھائی ہوں امی ابو ہو۔ میں بھی لاوارث نا کہلاؤں۔
خدارا مجھے میرے پیاروں سے ملائیں۔
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔آپ کا ایک شئیر کسی اداس ماں کو خوشحال بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
22 june 2026
#waliullahmaroof
مجھے انمول پنکی کی کوئی پریشانی نہیں کیونکہ
وہ کوکین بیچتی ہے ، جس کی کم سے کم قیمت 10 ہزار ہے جو کہ غریب آدمی افورڈ ہی نہیں کرتا ،
اس لیے انمول پنکی غریب آدمی کا ایشو ہی نہیں ہے ،شبر زیدی 😂
اس خاتون کا نام یاسمین ہے اور والد کا نام محمد رفیع ہے۔
یاسمین کے لئے ایک بہن نے رابطہ کرکے انکی دردناک داستان کچھ اس طرح سے بیان کی ہے:
"السلام علیکم
ولی اللہ بھائی ایک خاتون جو کہ **** میں رہائش پذیر ہیں
انکی داستان بہت دکھی ہے۔
کراچی سے والد نے سوتیلی والدہ کی باتوں میں آکر بوڑھے آدمی سے کم عمری میں نکاح کردیاتھا۔
خاتون کا نام۔یاسمین والد کا نام محمد رفیع تھا۔تین چھوٹے بھائی تھے۔جنکے نام سلیم،اعجاز،ریاض تھے۔والدہ کا نام شکیلہ تھا۔تایا کا نام شفیع محمد ہے۔ ریڑھی گوٹھ میں رہائش پزیر تھے
تایا کے بچوں کے نام احمد،بشیر ہیں۔
کہانی کچھ اس طرح سے ہے۔
اچھے کھاتے پیتے خاندان سے تعلق تھا۔والد نے دوسری شادی کر لی۔
گھریلو ناچاقی کی بنا پر والد دوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی بیوی کو مٹی کا تیل چھ*ڑک کر آ*گ لگا دی۔والدہ حاملہ تھیں اور بچے سمیت ج*ل کر م*ر گئیں۔
جب پولیس آئی تو بچی(یاسمین) جو اس وقت نو سال کی تھیں اس نے پولیس کو بیان ریکارڈ کروایا جسکی بنیاد پر پولیس والد اور والدہ کو پکڑ کر لے گئے۔
بچوں کو پھپھو لے گئیں ۔
بعد میں جب والد جیل سے واپس آئے تو بچے بھی واپس لے آئے۔
سوتیلی والدہ بہت برا سلوک کرتی تھیں۔کبھی گھر سے بھی نکال دیتی۔ شاید والد نے انہی مسائل سے چھٹکارہ پانے کیلئیے پنجاب میں کسی بوڑھے کے ساتھ بیاہ کر جان چھڑائی۔
بوڑھے خاوند کی وفات کے بعد ایک دو جگہ دوبارہ نکاح ہوا۔ اب یاسمین کے 7 بچے ہیں ۔
لیکن اپنے بھائیوں کو ملنے کی تڑپ میں دن رات روتی ہیں۔
کہتی ہیں کبھی کبھی مجھے اپنے بھائیوں کی خوشبو آتی ہے۔
پہلے جس خاوند کے ساتھ شادی کی تھی۔
ان سے منت سماجت کرکے شناختی (1998 کا شناختی کارڈ جو ہاتھ سے لکھا ہوا ہے) کارڈ لیا ہے۔
جس پہ گھر کا ایڈریس لکھا ہوا ہے۔
گھر کا ایڈریس شناختی کارڈ پر
مکان نمبر 2571 سیکٹر نمبر 2 کچی آبادی مجید کالونی لانڈھی کراچی نمبر 22 درج ہے۔"
کراچی کے تمام دوست اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔یاسمین کو اسکے بھائیوں سے ملاکر اسکی تکلیف دور کریں۔ بہن بھائیوں کی ملاقات کرواکر ایک ویران چمن کو پھر سے آباد کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
15 june 2026
#waliullahmaroof
اس معصوم بیٹی کا قاتل بھی دیگر سینکڑوں بیگناہ مقتولین کی طرح عاصم منیر اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے، عوامی مینڈیٹ چوری کر کے عوام کے مسترد کردہ چوروں، ڈاکوؤں، کرپٹ مافیا کے حوالے پاکستان عاصم منیر اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے ہی کیا ہے۔
#FascismUnderAsimLaw#PakistanUnderMartialLaw
بین مارماریلی کا کہنا ہے کہ جن فلسطینی قیدیوں کی وہ قانونی نمائندگی کرتے ہیں، وہ ان سے التجا کرتے ہیں کہ وہ ان سے ملاقات کے لیے نہ آئیں، کیونکہ ہر بار جب ان کی ملاقات طے ہوتی ہے تو قیدیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ منظر الجزیرہ کی نئی چونکا دینے والی دستاویزی فلم کا حصہ ہے، جس میں اسرائیل کی جانب سے جنسی تشدد کو منظم اور منہج انداز میں استعمال کرنے کے الزامات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
تاریخ لکھے گی کہ پچیس کروڑ زندہ لاشوں کے درمیان صرف پینتیس لاکھ باضمیر کشمیری تھے، جو اپنے حق کے لیے کھڑے ہونا جانتے تھے اور ہر قیمت پر ڈٹ جایا کرتے تھے۔"
لاؤ ترازو تول کے دیکھو ساڈا پلہ بھاری ہے.
دکاندار حضرات اس وقت پیرا فورس سے مکمل تنگ آ چکے ہیں ۔۔۔
اب یہاں دیکھیں دکاندار چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے یہ میڈیکل سٹور ہے اس لئے 8 بجے بند نہیں کی لیکن پیرا فورس والے بضد ہیں جرمانہ کرنے پے ۔
بے روزگاری، مہنگائی، غربت اور مسلسل بڑھتے معاشی دباؤ نے عام آدمی سے جینے کی امید تک چھین لی ہے۔ حکمران دعووں، اعداد و شمار اور پریس کانفرنسوں میں مصروف ہیں، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ محنت کش طبقہ دو وقت کی روٹی کے لیے دن رات خوار ہو رہا ہے۔ اس نوجوان کے چہرے پر نظر آنے والی پریشانی دراصل لاکھوں پاکستانیوں کی کہانی ہے جو مہنگائی، کم آمدنی اور بے یقینی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔دل نہ چاہتے ہوئے بھی یہ نوجوان اس دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر اپنے پیچھے ایک ایسا سوال چھوڑ گیا ہے جس کا جواب اقتدار کے ایوانوں کو دینا چاہیے: آخر ایک ڈلیوری رائیڈر، جو محنت کرکے روزی کمانے کی کوشش کر رہا تھا، خودکشی جیسے انتہائی قدم پر کیوں مجبور ہوا؟ اگر ریاست اپنے شہریوں کو روزگار، معاشی تحفظ اور جینے کی بنیادی امید بھی نہ دے سکے تو پھر ترقی اور استحکام کے تمام دعوے محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام پر فردِ جرم ہے جس نے عام انسان کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔