جیسے آج آپ کے احساسات ہیں ۹ اپریل کی رات ہمارے بھی تھے۔ ہم نہیں جانتے تھے قوم کیا سوچ رہی ہے ہم نے جو سُنا تھا پچھلے اودوار کے بارے میں ہمیں ویسے ہی ردعمل کی توقع تھی۔ جو منظر آپ ٹی وی پر دیکھ کر ٹوٹے تھے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے تھے۔ ہمارے سامنے وہ اٹھا تھا اور خالی ہاتھ وزیر اعظم ہاؤس سے نکل گیا تھا۔ ہم دل شکستہ خود سے نظریں نا ملا پارہے تھے۔ پھر کیا ہوا؟ کیا ۹ اپریل کو عمران خان ہارا تھا یا ۹ اپریل کو عمران خان کی اب تلک کی سب سے بڑی فتح ہوئ تھی؟
آپ نے لکھی تھی عمران خان کی جیت کی عبارت۔ وہ یونہی آپ کے حوالے اپنی جنگ نہیں کرکے گیا۔ وہ ہمیشہ سے جانتا تھا کہ جس دن اللہ نے آپ کے دل اس کی جانب موڑے دنیا کی کوئ طاقت اس کو شکست نہیں دے سکے گی۔ اس کی جنگ کبھی بھی اقتدار کے لیے نہیں تھی۔ اس کی جنگ اقتدار کی ہوتی تو وہ پانچ مہینے سے ایک تنگ و تاریک کال کوٹھری میں اپنے تقوی کی ڈھال تلے نہ بیٹھا ہوتا۔ اس کی جنگ محظ طاقت کے حصول کی ہوتی تو وہ گولیاں کھا کر مسکراتے ہوئے آپ کا حوصلہ نہ بحال کرتا۔ اس کی جنگ وزیر اعظم کی کرسی کے لیے ہوتی تو اُس کرسی کو دوام دینے والے سارے مہرے اس کی آنکھوں کے سامنے ۹ اپریل کو سجنے والی بساط پر پڑے تھے اور ایک عرصے تک پڑے رہے تھے۔۔ اس کی جنگ کا مقصد ہمیشہ سے آپ کو ایک عظیم قوم بنانا تھا۔ وہ جس دن دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر لا الہ الا للہ کہہ رہا تھا اسی منبر پر کھڑے کھڑے اس کے پیروں سے سانپ لپٹنے لگے تھے۔ پھر بھی اس کی للکار سست نہیں پڑی۔ وہ جب مغرب کی جمہور پسندی کے نقاب نوچ رہا تھا، تو اُن کے خون آشام دانتوں کو اس نے اپنی شہہ رگ پر تب ہی محسوس کرلیا تھا مگر اس نے آپ کا سر نیچا نہیں ہونے دیا۔ وہ جب اپنے نبی پاک (ص) کی حُرمت کے لیے آواز اٹھا رہا تھا تو بھی جانتا تھا کہ وہ آتشِ نمرود میں کود رہا ہے لیکن وہ مانتا تھا کہ اولادِ ابراہیم (ع) کو بس یہی شیوہ دیتا ہے۔ اور تاریخ کا سبق بھی یہی ہے کہ وقت کے یزید کتنے ہی طاقتور ہوں حسین (رض) کی للکار ان کی تلواروں سے زیادہ زور آور رہتی ہے۔ اُس کی جیت تو اُسی دن ہوگئ تھی جس دن آپ نے کوفی بننے سے انکار کردیا تھا۔ اب اپنی جیت کو امر آپ نے اُس للکار سے کرنا ہے جس کا درس حسین (رض) اپنے خون سے لکھ گئے ہیں۔ جو پیادے آج آپ کے سامنے ناخدا بنے بیٹھے ہیں ان میں کسی کا قد نہیں اُس کو شکست دینے کا۔ اُس کا مقابلہ خدائ کے دعویداروں سے ہے اور اِس مقابلے میں اُس کا ہتھیار آپ ہیں؛ خلقِ خدا۔ جہاں ابھی تک آپ کے قدم نہیں ڈگمگائے ویسے ہی اب آپ کی آواز نہیں کمزور پڑنی چاہئے۔ گلی، مُحلے، چوک، چوراہے میں آپ کی للکار گونجنی چاہئے۔ ہر دیوار، ہر مکان، ہر چوبارے پہ آپ کی پُکار نشر ہونی چاہئے۔ یہ ہم پر اُس آدمی کا قرض ہے جس نے تخت و تاج ٹھکرائے ہمارا سودا نہیں کیا۔ جس نے خنجر سہے، تیر کھائے ہم پر آنچ نہیں آنے دی۔ جس نے خود کو تاراج کردیا ہماری نسلوں کی آبادی کی خاطر۔ جو کشمیر سے لے کر فلسطین اور افغانستان تک کے مظلوموں کی آواز بنا۔ جو ہر اُس مسلمان کی آواز بنا کہ جس کے لیے اُس کے امن و آشتی کے مذہب کو تہمت بنا دیا گیا تھا۔
یاد رکھیں ہم اس کی جنگ میں اللہ کے بھروسے اترے تھے۔ اپنے ایمان کے سہارے ڈٹے رہے ہیں اور اب اپنے آباء کی میراث کو اپنے سینوں میں سمو کر اسے لڑیں گے۔ ہم نہیں جھکیں گے!!!!
2023 کا سال پاکستانیوں کے لئے تاریخ کے مشکل ترین سالوں میں سے ایک تھا۔ تاریخ کی سب سے زیادہ مہنگائی، سکڑتی معیشت، شدید ترین سیاسی بحران ۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے 2024 کا سورج ایک نئی روشنی اور امید لے کر ابھرے ۔
16 ماہ ملک کی معیشت تباہ کر کے، عوام کو تاریخ کی بدترین مہنگائی میں پیس کر، بدترین فسطائیت پھیلا کر، پارلیمان کو بے توقیر اور جمہوریت کو کمزور کر کے، آئین سے انحراف کر کے، اربوں کی اپنی کرپشن معاف کروا کر، بالآخر یہ حکومت اپنے انجام کو پہنچی۔اب عوام نے بدلہ الیکشن میں لینا ہے
علی محمد خان بہادری کی علامت بن چکا ہے ہمیشہ تہذیب اور شائستگی سے بات کرنے والا انسان ہے۔ 10 مئی سے 7 بار بغیر کسی جرم کے گرفتار کرکے پابند سلاسل کیا جاچکا ہے۔
تمام پولیس مقدمات ختم ہوئے تو علی محمد جیسے ایماندار شخص جس نے خواب میں بھی حرام کی ایک پائی کا نہیں سوچا ہو گا اسکو اینٹی کرپشن نے جعلی مقدمات میں گرفتار کیا ہوا ہے
موجودہ حالات میں ٹاک شوز کیلئے بہترین پینل۔ الزام تراشی سے نکل کر مسائل کا حل نکالنے کی جانب گفتگو۔ مسائل پر تو سب بحث کر رہے ہیں اصل ضرورت ان کا حل نکالنے میں ہے، شاہد خاقان عباسی اور مصطفی نواز کھوکھر کی اب تک بہترین اور مدلل گفتگو سننے لائق ہے۔
اگر عمران خان غلط ہوتا تو:
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا بند کرنے کی ضرورت نا پڑتی
سب چوروں کو اکٹھا ہونے کی ضرورت نا پڑتی
میڈیا کے ضمیر خریدنے کی ضرورت نا پڑتی
سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائ کورٹ پر حملہ کرنے کی ضرورت نا پڑتی
عمران خان پر تقریباً ڈیرھ سو جھوٹے مقدمے کرنے کی ضرورت نا پڑتی
الیکشن سے بھاگنے کی ضرورت نا پڑتی
عوام پر ظلم و جبر کرنے کی ضرورت نا پڑتی
غیرت مند صحافیوں کو اغوا کر کے تشدد اور شہید کرنے کی ضرورت نا پڑتی
لوگوں کے گھروں پر غیر قانونی حملے اور توڑ پھوڑ کرنے کی ضرورت نا پڑتی
عمران کی حکومت گرانے کی ضرورت نا پڑتی
منقول
سمگلنگ کی روک تھام کیلئے کوئی سخت اقدامات نہ کیے گئے تو اس سال گندم 7 ہزار سے زائد قیمت میں فروخت ہو گی. پچھلے سال 2200 والی گندم کی قیمت 5600 روپے تک پہنچ گئی تھی 4000 والی گندم 7 ہزار تک پہنچا بڑی بات نہیں ہو گی.
*ڈائلاسس(Dialysis) کے دوران جسم سے خون سرخ نالی سے باہر نکالا جاتا ہے ، پھر مشین سے اسے گزارنے کے بعد جسم میں دوبارہ نیلی نلی سے داخل کردیا جاتا ہے۔*
*ایک ڈائلاسیس کا process تقریباً چار گھنٹے چلتا ہے، اور یہ عمل مریض کو ہفتے میں دو سے تین مرتبہ دہرانا پڑتا۔وہیں جن لوگوں کے گردے ، صحت* *مند ہیں ان کے جسم میں یہی عمل خود بخود دن میں 36 مرتبہ ہوتا ہے، بنا کسی تکلیف کے اور مکمل آرام کے ساتھ۔اس لئے ہمیشہ رب کا شکر ادا کرتے رہیں۔*
* فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ *
مشین سے رقم نکلواتے ھوئے اگر چور آجائے اور آپ کو (اے ٹی ایم ) سے پیسہ لینے کے لۓ مجبور کرے تو بحث نہ کریں یا مزاحمت نہ کریں، آپ کو معلوم نہیں کہ وہ آپ کو کیا کر سکتا ہے. آپ کو کیا کرنا چاہئے اپنے PIN کو (ریورس) میں enter کریں... مثال: اگر آپ کا PIN 1234 ہے تو، آپ کو 4321 enter کرنا ہے. مشین آدھے راستے میں پھنس جائے گی اور مشین چور کے نوٹس کے بغیر پولیس کو خبردار کردے گی. ہر ATM میں یہ خاص طور پر خطرے کی نشاندہی اور مدد کرنے کے لئے یہ Signal بنایا گیا ہے.
ہر کوئی اس سے واقف نہیں ہے. آپ یہ اپنے تمام دوستوں کےساتھ ضرور شیئر کریں
@ABLpk@HBLPak@BankAlfalahPAK@UBLDigital@StateBank_Pak
کیا یہ درست انفارمیشن ہے ؟ آپکی مدد درکار ہے ؟
@CMShehbaz Yes Sir bumper crop means more commission for you as said by SKA yesterday that in free atta scheme there is a corruption of 20 billion. You donot have mandate of the people and we are waiting for the day when Pakistan has a PM who has got people's mandate so until then leave us
@CMShehbaz شوبازی سے باز نا آنا
کسانوں کی اچھی پیداوار کی وجہ حکومت نہیں، موسم کی تبدیلی ہے، سردی دیر تک رہی
حکومت نے تو کسانوں کو مہنگی کھاد دی، معیاری بیج کا نام و نشان نہیں
بجلی پر سبسڈی ختم کی اور ٹیکس لگا دیا
کھاد کے لیے ہم الگ دے زلیل ہوئے
اس سال تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستانی حاجیوں کی کوٹے سے بھی کم تعداد میں درخواستیں۔ افسوس،ڈالر کی بےقابو اڑان اور ڈالر ڈار کے دئیے معاشی بحران نے نامعلوم کتنے غریبوں کو فریضہ حج سے محروم کردیا۔ پی ڈی ایم حکومت کی نحوست کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی؟
#hajj2023