مایوس اورغمزدہ نا ہوجائیں
اللہ کی رحمت سے بیمارشفایاب ہو جائینگے
دکھ کی گھڑیاں گزر جائینگی
گناہ بخش دیے جائینگے
جدائی وصال میں بدل جائیگی اورخوشیاں بھی جم کر برسیں گی
تم نے دیکھا نہی کالی گھٹائیں بھی چھٹ ہی جاتی ہیں
اندھیری رات سویرے میں بدل جاتی ہے
اللہ تعالٰی پریقین کامل رکھیں
@IEAUrduOfficial میں نے اپنی زندگی میں ایسے جھوٹ پھیلاتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا ماسوائے چند افغانی اور انڈین اکاونٹ کے
یہ کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں
انڈین تو چلو غیر مسلم ہیں مگر افغانی کو تو جھوٹ نہیں بولنا چاہیئے
شرم ہو تو ڈوب مرو
@ch_sajaad موصوف مہذب اور باوقار کی ڈیفینیشن کیا کرتا ہے اسکے دماغ کے مطابق مہذب اور باوقار کون سے لوگ ہیں ؟
کونسی دنیا میں جی رہا ہے یہ جس ملک اور قوم نے جنگ اور ہتھیاروں کا استعمال نہیں سیکھا انکی حالت کیا ہے
کون لوگ ہیں جو دنیا پر قابض ہیں
انصار عباسی صاحب بتائیں گے کہ
اس پر قرآنی آیات کیا کہتی ہیں ؟
احادیث کیا کہتی ہیں ؟
ایسے لوگوں کو سپورٹ کرنے پر اسلام کیا کہتا ہے ؟
دوسرے لوگوں کا حق کھانے والوں سے متعلق شریعت کیا کہتی ہے ؟
کہتا رہا کہ تحریک انصاف کو الیکشن جیتنے نہیں دیا جائے گا کیوں کہ عمران خان نے لڑائی فوج کے ساتھ لے لی ہے، الیکشن 2024 بلاشبہ دھاندلی زدہ تھے اور ان کا مقصد تحریک انصاف کو ہرانا تھا، قبولیت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو اقتدار نہ ملا اور فارم 47 نے قبولیت کے فارمولے کو حقیقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انصار عباسی
@WakeelMubariz جس ٹویٹ کو آپ نے مینشن کیا ہے وہ کون ہے جو گالیاں دے رہا ہے
اور ویسے آپکے تبصرے دیکھ کے میرا بھی دل کرتا ہے آپکو گالیاں دوں
تونے کبھی انسانوں والی ٹویٹ کی ہی نہیں
مجھے تو لگتا ہے آپکی id کے پیچھے کوئی گائے کا پیشاب پینے والا بیٹھا ہے
تیرے جیسے بغیرت ہر جگہ ہوتے ہیں جن کا کام صرف انتشار پھیلانا ہوتا ہے ہم مسلمان انکو شیطان کہتے ہیں
یہ شیطان ہر ملک ہر جگہ ہر گھر میں ہوتے ہیں
انکا کام صرف بکواس کرنا اور انسان کو الٹے سیدھے راستے دکھانا ہوتا ہےمگر یہ بھول جاتے ہیں ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے
آپ جاری رکھو بےشرم
پاکستان تباہی کے دہانے پر!
المرصاد، دوسری قسط
پہلے بھی ذکر گیا تھا کہ پاکستان کے زوال کی ایک بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام تھی، اور دوسری وجہ اُن عالمی طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات کا خاتمہ تھی جنہوں نے پاکستان کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے وجود بخشا تھا۔ چونکہ دنیا ہمیشہ تغیر پذیر ہے، اس لیے عالمی سلطنتیں اور طاقتیں بھی وقت کے ساتھ بدلتی ہیں، اور اپنے اہداف کو نئی ضرورتوں کے مطابق ڈھال لیتی ہیں۔
پاکستان کو برطانوی عظیم سلطنت نے اُس وقت وجود بخشا جب ان کی طاقت اپنے عروج پر تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عظیم ہندوستان انگریز سلطنت کے لیے دردِ سر نہ بنے، اور عظیم افغانستان جس نے انگریزوں کے ساتھ کئی بار جنگیں کی تھیں؛ اب ان کے راستے میں رکاوٹ نہ رہے۔ اسی لیے برطانیہ نے ان دونوں خطوں کو تقسیم کر دیا۔
اگر واقعی پاکستان کے قیام کا مقصد مسلمانوں کو ظلم و ستم سے نجات دلانا ہوتا، تو پھر انگریزوں نے وہ علاقے افغانستان ساتھ کیوں نہ ملائے؟
درحقیقت، پاکستان کی تخلیق کا منصوبہ انگریزوں نے ایک بڑے اور مضبوط ملک کے اُبھرنے کو روکنے کے لیے بنایا تھا، اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو مختلف حصوں میں بانٹ دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ متحد ہو کر ہندوستان میں حکومت نہ قائم کر سکیں۔
پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد نہ صرف یہ کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں حکومت حاصل نہیں کی، بلکہ وہ مسلمان جو بھارت میں رہ گئے، آج تک اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ اور جب برطانوی سلطنت کا سورج غروب ہوا، تو اس کے ساتھ ہی پاکستان کے وجود کی اصل فلسفیانہ بنیاد بھی بے معنی ہو گئی۔
گزشتہ نصف صدی میں پاکستان ایک عرصے تک امریکی سپر پاور کے لیے روس کے مقابلے میں اور چین کے لیے ہندوستان کے خلاف ایک مفید آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ مگر جب یوکرین کی جنگ شروع ہوئی، تو امریکہ خود مغرب میں روس کے خلاف الجھ گیا، اور اب پاکستان اس کے لیے فائدے کے بجائے بوجھ بن چکا ہے۔ اسی طرح چین کے خلاف امریکہ کے بڑے حریف کے طور پر ہندوستان اب امریکہ کے لیے زیادہ موزوں اور مضبوط اتحادی بن سکتا ہے۔ چنانچہ مغرب کے نزدیک پاکستان نامی یہ منصوبہ اب نفع کے بجائے نقصان کا باعث بن گیا ہے۔
پاکستان کے خاتمے کا خطرہ اُس وقت مزید بڑھ گیا جب چین اور ہندوستان کے تعلقات بہتر ہونے لگے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر آ گئے تو پاکستان چین کے لیے بھی غیرضروری ہو جائے گا۔ اب جبکہ پاکستان سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی انتہا کو پہنچ چکا ہے، عالمی طاقتیں اُس سے ہاتھ کھینچ رہی ہیں۔ اور وہ پاکستان، جس کی بنیاد ہمیشہ بیرونی طاقتوں کے سہارے پر قائم تھی، اب ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جب کوئی ملک سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے، تو اُسے صرف قوم کی وحدت یا جغرافیائی حیثیت بچا سکتی ہے۔ مگر پاکستان میں کوئی ایسی مضبوط قومی یکجہتی نہیں۔ وہاں کے عوام مختلف نسلی، فکری اور لسانی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ اگرچہ پاکستان کے عوام مسلمان ہیں، لیکن اس کا نظامِ حکومت اور قانون غیر اسلامی ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے بھی پاکستان کے پاس کوئی حقیقی ملکیت نہیں۔ یہ ملک غصب شدہ زمینوں پر قائم ہوا ہے، اور آج بھی ان علاقوں کے اصل مالکان اپنے حقوق کے دعویدار ہیں۔
پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کا واحد راستہ ایک خالص اسلامی نظام کا قیام ہے۔ یہی نظام اس کے شیرازے کو بکھرنے سے کچھ عرصے کے لیے روک سکتا ہے۔
تیرے جیسے جرنلسٹ کو بندہ چوک میں کھڑا کرے اور ہر بندہ 10 چھتر مار کے گزرے
بے شرم انکا موقف درست ہے کہ دہشتگردوں سے کبھی بات نہیں ہوگی اور افغان طالبان کیلیئے راستہ ہے اگر وہ چاہیں
آپ طالبان کو دہشت گرد سمجھتے ہو تو کرتے رہو ہم نے TTP کیلیئے دروازہ بند کیا ہے
ایک زبان اور دو باتیں!
کل تک کہتے تھے طالبان سے مذاکرات نہیں کریں گے،
اور آج خود کہتے ہیں کہ مسئلہ بات چیت سے حل ہونا چاہیے۔ 😊
سو چھتر اور سو پیاز کھانے کے بعد عقل ٹھکانے آئی۔
@Parizaad_reborn@soldierspeaks