ٹرمپ کے ساتھ لنچ کے بعد کئے گئے معاہدوں کے بعد ہائبرڈ نظام حکومت چلانے والوں کو گارنٹی ملی تھی کہ بیرون ملک معاملات میں تم آنکھ بند کرکے ہماری اطاعت کرو اور ہمارے ٹاسک مکمل کرو ،اندرون ملک ہم تمارے ہر ٹاسک کی حمایت کرینگے، تمام ادارے IMF ، ورلڈ بنک سب تمارے ساتھ ہونگے لیکن بھائی لوگ ابھی تک بڑا کوئی عالمی ٹاسک تو مکمل نہیں کرپائے البتہ "ٹرمپ خاندان" کے کاروبار کیلئے بہت کچھ کرگئے جس کیلئے دارلخلافہ کی آبادیوں میں اٹھا پٹخ کی خبریں بھی کانوں میں گونجیں ہیں لیکن بدقسمتی سے لگتا ہے گارنٹی دینے والے ٹرمپ کی اپنی گارنٹی "ایکسپائر" ہورہی ہے IMF بھی ہماری بات نہیں مان رہا اور خبر ہے کہ باقی عالمی اداروں نے بھی "سب نوٹ کررہا ہوں" والی پالیسی اختیار کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اپنے رجسٹر نکالنے شروع کردیئے ہیں حالانکہ ہائبرڈ حکومت کے قصیدے تو پڑھے جارہے ہیں لیکن پڑھنے والوں کے لہجوں میں کچھ اس طرح تبدیلی محسوس ہورہی ہے جیسا مرثیہ خوانی میں محسوس ہوتی ہے، وہ تمام معاشی انقلاب، خوشحال پاکستان، گرین پاکستان، اڑان پاکستان سب ہوا میں اڑگئے بلکہ "پٹھان پاکستان" کے نعرے اب بھی چاروں صوبوں میں گونجتے نظر آرہے ہیں یہ صورتحال موجودہ ہائبرڈ رجیم کو پریشان کررہی ہے اوپر سے کشمیر ی بھائیوں جو "لکی کشمیری سرکس" شروع کیا ہے اس سے بھی خبر ہے کہ حکومت کی الٹی آنکھ پھڑکنا شروع ہوگئ ہے لیکن حکومت کو آکسیجن فراہم کرنے والے بھائی لوگ کہہ رہے آپ فکر نہ کریں ہم تین دن کیلئے انٹرنیٹ بند کرکے انکی آکسیجن بند کردینگے اس صورتحال میں اس ہائبرڈ نظام کی زندگی مجھے لمبی نظر نہی آ رہی، میرے خیال سے حکومت مکمل ناکام ہوگئی یے معاشی لحاظ سے سعودی عرب کی لاکھ خوشامد کی وہ بھی موسم کے حالات کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاری اور ریاکاری دونوں سے کام لے رہا ہے پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کا سب سے بلند 35 ارب ڈالر سے زیادہ ہو ہوگیا ہے اور اگلے سالوں میں بھی کسی قسم کی کوئی سرمایہ کاری ہونے کا چانس نظر نہی آرہا اور اس بھیانک معاشی نظام کی وجہ سے نجانے کیوں مجھے کشور کمار کا وہ گانا گانے کو دل چاہ رہا ہے ،،،
کوئی ہمدم نہ رہا کوئی سہارا نہ رہا
ہم کسی کے نہ رہے کوئی ہمارا نہ رہا
بے گناہ قیدی کا مذاق اڑانے والوں کی گود میں بیٹھ کر اس کا پوتا، ایک بے گناہ قیدی کا مذاق اڑا رہا ہے۔
The characters of our future Prime Ministers. Oh my.
🇷🇺🇵🇸🇮🇷 Putin: “Currently, against the backdrop of the events taking place in Iran and the Hormuz Strait, we have forgotten about the tragedy of Palestine, but it is still there. Russia believes that the fundamental solution to this issue is the establishment of a Palestinian state.”
سب سے خطرناک انسان وہ نہیں جو ہتھیار اٹھاتا ہے بلکہ وہ ہے جو جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، فکری طور پر کرپٹ انسان معاشرے کے لیے عام ڈاکو یا مجرم سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر نیکی اور دینداری کا ڈرامہ کرتا یہ شخص خباثت کی اعلیٰ مثال ہے۔
MARANDI DESTROYS PIERS MORGAN:
"Your problem with Iran is that we are independent and reject your ruling Epstein class that rapes and murders ordinary people. We will NOT allow your regime to kill our kids and get away with it."
خلیجی جنگ کے آغاز سے ہی عرض کیا تھا کہ کوئی معاہدہ ہونے کا امکان نہیں۔ امریکہ یک طرفہ طور پر ہی نکل جائے گا اور یہ ثالثی والا ڈرامہ محض ڈرامہ ہی ہے۔
کیوں؟
کیونکہ ہاری ہوئی جنگ میں امریکہ کمزور معاہدہ کرے گا، جو نتن یاہو کرنے نہیں دے گا۔
اب تک مغربی ممالک کے اسٹریٹیجک تیل کے ذخائر مارکیٹ میں پھینک کر اور کسی معاہدے کی امید لگا کر ٹرمپ تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھتا چلا آیا۔ لیکن جون کے مہینے میں یہ ذخائر ختم ہونے لگیں گے تو؟
تیل کی قیمتوں میں یکدم شوٹنگ سے جو عالمی معاشی بحران آئے گا، اس کا سوچ کر ہی ٹرمپ کی فرسٹریشن قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ کیونکہ یورپ اور جاپان نے یہ جوا امریکہ کے حکم پر کھیلا تھا۔
اب جب اس طوفان کے بادل ٹرمپ کے سر پر چڑھنے لگے ہیں تو وہ نتن یاہو پر بھی گالی گلوچ کرنے پر اتر آیا ہے۔
لیکن نتن یاہو ڈٹا ہوا ہے اور ٹرمپ کچھ کر بھی نہیں سکتا، کیونکہ وہ ایپسٹین فائلز کے ہاتھوں مجبور ہے۔
یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر عرض کیا تھا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
ثالثوں کو صرف آگے لگایا گیا ہے، جسے وہ ثالثی کہہ کر کامیابی بتا رہا ہے، جبکہ اندر سے کچھ بھی نہیں۔ اور وہی ہوا۔
(عمیر فاروق کی تحریر کا ابتدائیہ)
@Umairfrooq
مجھے تو ٹرمپ کی ذہنی کیفیت سے ڈر لگ رہا ہے۔
وہ جتنی فرسٹریشن کا شکار ہے یقین کریں کسی دن سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے حکمرانوں کے نام لے کر بتا دے گا کہ انہوں نے بند کمروں میں اسرائیل کو تسلیم Abraham Accords کرنے کا وعدہ کیا تھا اب مکر رہے ہیں۔ اور جتنی گالیاں بی بی نیتیں یاہو کو دی ہیں اور پھر میڈیا کو بتائی ہیں اتنی تو دے گا۔
دعا کریں ایسا کبھی نہ ہو اور ہماری عزت محفوظ رہے۔ اللہ ہمیں ٹرمپ کی شر سے بچائے۔ آمین!
بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے گورنر نے پاکستان کو بنجر بنانے کے ایک منصوبے کااعلان کیا ہے اور کہا ہے دریائے چناب سے ایک سرنگ نکال کر پانی کو بیاس میں منتقل کیاجائے گا اور تین سال میں پاکستان کا پانی مکمل بند ہو جائے گاعالمی قانون کی یہ کھلی خلاف ورزی پاکستان کے خلاف اعلان جنگ ہے
وہ وقت دور نہیں جب عاصم منیر کی بھی ایسے سودے بازی کرتے ہوئے خفیہ کیمرے سے ریکارڈ کی گئی ویڈیوز جاری کی جائیں گی۔اس نے امریکہ سے اسرائیل کی چوکیداری کا کتنا پیسہ لیا۔ امریکہ کے سینیٹرز اور کانگریس کے ارکان ایسے ہی عاصم منیر سے ایک ایک پائی کا حساب لیں گے ۔
امریکہ کو پاکستان میں نہ جمہوریت سے مطلب ہے نہ غربت کی سطح سے وہ جب پیسہ دیتے ہیں تو پھر وصول کرنا بھی جانتے ہیں ۔امریکہ کو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان کتنے ٹینک،اسلحہ خریدا ہے، انھیں صرف اس بات سے مقصد ہے کہ ہمارے مفادات پورے ہو رہے ہیں یا نہیں، مشرف کے دور میں فوج کے سامنے بس ایک افغانستان تھا ۔
عاصم منیر نے عمران خان سے خوفزدہ ہو کر اپنی ڈیسپریشن میں بمب کو لات مار دی ہے جو جب پھٹے گا تو سب کچھ اپنی لپیٹ میں لے گا۔ عاصم منیر نے پاکستان کو خطرناک حد تک پھنسا دیا ہے ۔
درودِ ابراہیمی اور تاریخ کا آخری راز
ایک دعا جو ابھی تک آسمانوں میں جاری ہے.......
قرآن کھولیے...اور تاریخ کے دریاؤں میں الٹا سفر شروع کیجیے۔
ایک طرف ابراہیمؑ ہیں... دوسری طرف ان کی دعا ہے...اور تیسری طرف اللہ کا وعدہ۔
ابراہیمؑ نے عرض کیا:
"اے میرے رب! میری اولاد میں بھی ایسے لوگ پیدا فرما جو انسانیت کی رہنمائی کریں۔"
جواب آیا:
میرا وعدہ ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔
یہاں سے ایک عظیم داستان شروع ہوتی ہے۔ ابراہیمؑ کے گھر میں دو نسبتیں تھیں۔
سارہؑ...
اور ہاجرہؑ...
ایک نسل سے انبیاء کا طویل سلسلہ نمودار ہوا۔ پے در پے انبیاء اکرام کا مبعوث ہونا اللّٰه تعالیٰ کی توحید کا پرچم بلند کرنا جیسے
موسیٰؑ آئے...
داؤدؑ آئے...
سلیمانؑ آئے...
زکریاؑ آئے...
یحییٰؑ آئے...
اور پھر عیسیٰؑ آئے...
صدیوں تک آسمان کی خبریں اسی شاخ سے زمین پر اترتی رہیں۔ اسی شاخ سے توحید کی کونپلیں پھوٹتی رہیں ۔
مگر دوسری طرف...
ہاجرہؑ اپنے ننھے اسماعیلؑ کے ساتھ ایک وادی میں چھوڑ دی گئیں۔
ایسی وادی... جہاں نہ کھیتی تھی، نہ درخت، نہ پانی، نہ آبادی۔ نہ کوئی بندہ بشر دور دور تک ویران بے آب و گیاہ ریگستان ، مکمل سناٹا
بظاہر خاموش۔
مگر اللّٰه کے منصوبے اکثر خاموشی میں پروان چڑھتے ہیں۔ کیونکہ اللّٰه بڑی شان والا ہے وہ دانا ہے وہ حکیم ہے اس کے ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔
وہ ویران وادی بعد میں مکہ بنی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انسانیت کا مرکز بن گئی ۔مکہ صرف ایک شہر نہیں تھا۔
بلکہ یہاں پر اللّٰه تعالیٰ کا گھر تعمیر ہونا تھا ۔
مکہ صرف ایک شہر نہیں تھا بلکہ یہاں بے آب و گیاہ ریگستان میں آب زمزم کا چشمہ پھوٹنا تھا ۔
مکہ
وہ ایک ایسی قدرت کی امانت تھی... جو وقت کے خزانے میں محفوظ رکھی گئی تھی..... صدیوں تک۔
یہاں تک کہ تاریخ ایک بلکل نئے اور نہایت خوبصورت موڑ پر پہنچی۔
پھر اسماعیلؑ کی نسل سے محمد ﷺ تشریف لائے اور یوں ابراہیمؑ کی دعا کا دوسرا سنہری باب کھل گیا۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کہانی نے قیامت تک رہنا ہے اس لیے یہ ختم کیسے ہو سکتی ہے ؟؟؟
کہانی کا کلائمکس
ہر نماز میں جب ایک مؤمن بیٹھ کر درودِ ابراہیمی پڑھتا ہے تو وہ دراصل تاریخ کے دو عظیم دریاؤں کو آپس میں جوڑ دیتا ہے۔
اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ... كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ...
غور کیجیے...
"کما صلیت"
یعنی...
جس طرح تو نے ابراہیمؑ اور ان کی آل پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائیں...
اسی طرح محمد ﷺ اور ان کی امت کے وہ خوش نصیب جو دین ابراہیمی پر ہیں ان پر فرما ۔
یہ صرف الفاظ نہیں۔ یہ زمین سے آسمان تک بلند ہونے والی ایک مسلسل دعا ہے۔ وہ دعا جو ابراہیم علیہ السلام کی قربانیوں کا صلہ ہے ۔ جو اللّٰه تعالیٰ کا خصوصی انعام ہے ۔
یہ ایک ایسی دعا ہے... جو چودہ سو سال سے ہر نماز میں دہرائی جا رہی ہے اور شاید اسی لیے تاریخ ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
کیونکہ اللہ کے منصوبے وقت سے بڑے ہوتے ہیں۔
عیسیٰؑ کا ذکر ہو،
یا علم کی وہ وراثت جو انبیاء چھوڑ کر گئے...
ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
انبیاء سونا اور چاندی وراثت میں نہیں چھوڑتے۔
وہ علم چھوڑتے ہیں۔
شعور چھوڑتے ہیں۔
ہدایت چھوڑتے ہیں اور یہی وہ میراث ہے جس کے ذریعے انسان زمین پر اللّٰه کی نشانیوں کو پہچانتا ہے۔
شاید اسی لیے قرآن جو فرقان حمید ہے ، جو ہدایت کی کتاب ہے یہ صرف ماضی کی کتاب نہیں.... بلکہ یہ مستقبل کا آئینہ بھی ہے۔
اور درودِ ابراہیمی صرف ایک دعا نہیں...یہ ابراہیمؑ سے محمد ﷺ تک اور محمد ﷺ سے قیامت تک پھیلا ہوا ایک زندہ رشتہ ہے.
آج روئے زمین پر بسنے والے مسلمان اپنی صلواۃ میں دن رات ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت کی دعا پڑھتے ہیں ۔
اور جب بھی ہم "بارک علی محمد" پڑھتے ہیں تو ہم اس وعدے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہم ابراہیمؑ کی دعا کا جواب ہیں۔ ہم ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے گواہ ہیں ۔ہم اسماعیلؑ کی نسل کا مان ہیں۔ ہم اسمعیل علیہ السلام کی نسل کے امین ہیں ۔سوچیں، ہماری ہر صلواۃ ایک تاریخ لکھ رہی ہے۔ اور یہ تاریخ قیامت تک لکھی جائے گی۔
ابراہیم علیہ السلام اور ان کی مومن آل اولاد پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں بیشک ابراہیم علیہ السلام نہ یہودی تھے اور نہ ہی نصرانی بلکہ وہ یکسو مسلم تھے اور ان کے اس خوبصورت عقیدے کو پسند فرما کر اللّٰه تعالیٰ نے ہمارا اور ہم سے پہلے والو کا نام مسلم رکھا ۔
تو بتائیں، جب ہم ہر نماز میں یہ درود پڑھتے ہیں، کیا ہم اس عظیم وراثت کا حق ادا کر رہے ہیں؟ یا بس الفاظ دہرا رہے ہیں؟؟؟؟
تحریر: حنا محسن
🚨🚨ایک فوج کا چیف سرحدوں کی نگرانی کی بجائے ایک عوام کے منتخب وزیراعظم کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتا رہا ۔
وہ تو اللہ کا شکر ہے خان ڈٹ گیا اور جیل چلا گیا ان کی اوچھی حرکتوں کے آگے بلیک میل نہیں ہوا ۔
ورنہ نواز کنجر جیسے اپنی بچیاں پیش کر کے فوج کو ہاتھ سے اپنی ٹیپ بنوا کر دیتے رہے ہیں ۔