On Christmas Eve 1971, a 17-year-old girl named Juliane Koepcke was strapped into her seat on a plane over the Peruvian rainforest when lightning struck it.
The plane broke apart at about 10,000 feet. Juliane fell with her seat still attached to her, spinning down toward the jungle canopy. Her mother, sitting next to her, was gone.
She woke up on the forest floor, alone, with a broken collarbone and a swollen eye. 91 people had been on that plane. She remembered one piece of advice from her father, a biologist.
Zemin katta bir kadın oturuyor. Her gece saat 11-12 gibi yemek yapmaya başlıyor ve o yemeğin tüm kokusu bizim evin içine doluyor... Soğan kokusu, et kokusu istisnasız her gece tüm evi sarıyor. Aşırı derecede rahatsız olmaya başladık.👇
Gerçekten bunu yapmaya hakkı var mı????
Kendisi ve binadaki ev sahipleri balkonda dilediğini yaparken sorun olmuyor, ben yapınca "bina huzurunu bozmak" kılıfıyla evden atılmakla tehdit ediliyorum, Ne yapacağımı ne diyeceğimi bilmiyorum...
Bütün gün evde kargo bekledim.
Akşam telefona mesaj geldi:
“Adresinizde bulunamadığınız için teslim edilemedi.”
Kargo firmasını aradım.
“Kurye gelmiş, kapıyı açmamışsınız.” dediler.
Tam konuşurken apartman görevlisi yanıma geldi... ++
پاسورڈ
تقریباً چھ مہینے پہلے، میرے پڑوسی نے مجھ سے وائی فائی کا پاسورڈ مانگا، میں نے دے دیا کیوں کہ اس میں میرا کچھ نہیں جاتا تھا۔ میرے ان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔
کل جب میں گھر آ رہا تھا تو وہ دروازے پر کھڑے تھے۔ میں حسبِ معمول ان سے سلام دعا کرنے رک گیا۔ وہ خوشی خوشی بتانے لگے کہ انہوں نے نیٹ فلکس لے لیا ہے۔ اس پر میں نے مذاق میں کہا، مجھے ٹی وی دیکھنے کا وقت نہیں ملتا لیکن آپ مجھے اپنا پاسورڈ دے دیں تاکہ میں بھی کچھ شوز دیکھ سکوں تو بہت مہربانی ہو گی۔ 👇
قریب سے ان کی بیوی کی آواز آئی جو گاڑی میں بیٹھی تھی، ہم پاسورڈ نہیں دے سکتے، کیوں کہ میں اس کی ادائیگی کرتی ہوں اور شیئر نہیں کر سکتی۔
یک دم گہری خاموشی چھا گئی۔
اس شخص نے معذرت کی۔
میں نے کہا کوئی بات نہیں اور ہم دوسرے موضوعات پر بات کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد ان کی بیوی گھبرائی ہوئی باہر آئی اور انہیں بلانے لگی۔ میرا پڑوسی گھر کے اندر چلا گیا۔ 👇
چند منٹ بعد پڑوسی اور اس کی بیوی مجھے بلانے آئے اور بتایا کہ وائی فائی پاسورڈ قبول نہیں کر رہا۔ میں نے ان کی طرف دیکھا، اور جواب دیا کہ میں نے پاسورڈ بدل دیا ہے، کیوں کہ یہ میری محنت کی کمائی سے لیا گیا ہے اور میں اسے شیئر نہیں کر سکتا۔
اس کی بیوی کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی، لیکن میں نے کہا، بی بی، نیٹ فلکس بھلے آپ کا ہے، لیکن نیٹ ورک میرا تھا۔ جیسے آپ شیئر نہیں کر سکتیں، ویسے ہی میں بھی شیئر نہیں کروں گا۔ 👇
وہ خاموشی سے مڑے اور دروازہ بند کر کے چلے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کبھی بات نہیں کی۔
یہ کہانی میری نہیں ہے، لیکن اس سے میں نے سبق سیکھا ہے۔
دوستی دو طرفہ ہونی چاہیئے۔
محبت دو طرفہ ہونی چاہیئے۔
ہر تعلق دو طرفہ ہونا چاہیئے۔ 👇
اب میرا ارادہ ہے کہ خاموشی کا جواب خاموشی سے، غیر حاضری کا جواب غیر حاضری سے، پیار کا جواب پیار سے، دوستی کا جواب دوستی سے اور وفاداری کا جواب وفاداری سے دوں۔ جذبات یک طرفہ نہیں، دو طرفہ ہونے چاہئیں۔
اگر آپ صرف لینے میں اچھے ہیں، تو کچھ دینا بھی سیکھ لیں...!!!!