عقود من التحالف من اسلام آباد إلى الرياض 🇵🇰🇸🇦
ان ماتراه من محبة الباكستانيين للسعودية ليس تملقًا .. ولا حماس وليد اللحظة بل يعود الى عقود من الزمن من المواقف الذهبية الخالدة نذكر بعضنا بعضًا بها كلما حمى الوطيس
حينما اشتعلت حرب الاستقلال البنغلاديشية، وتعرضت باكستان لأخطر اختبار في تاريخها، كانت المملكة العربية السعودية في الصف الأول، داعمةً بكل ما تملك لمنع الانهيار والحفاظ على ما تبقى من تماسك #باكستان
وحينما تمدد السوفييت إلى أفغانستان، ��كانت باكستان الهدف التالي في حسابات الصراع الدولي، دخلت السعودية بكل ثقلها السياسي والاقتصادي والعقائدي، استطاعوا سويًا تحويل أفغانستان إلى مستنقع مميت أنهك السوفييت، وأمن خاصرة باكستان، وغير ميزان المعادلة في المنطقة.
وحين فجوت باكستان قنبلتها النووية، واصطف العالم لفرض العقوبات ومحاصرتها اقتصاديًا، وقفت السعودية وحدها بثبات، واضعةً اعتبارات الاخوة والمصير المشترك فوق ضغوط السياسة الدولية، فدعمت الاقتصاد الباكستاني في أصعب ثلاث سنوات، حتى منعت التفكك، وأعادت للدولة الجريحة قدرتها على النهوض.
ولمّا دقت طبول حرب الخليج عام 1990، تهدد أمن المملكة مباشرة، لم تتردد باكستان في إرسال آلاف من جنودها إلى الأراضي #السعودية، واضعةً قواتها جنبًا الى جنب مع المملكة، كما وقفت السعودية مع باكستان في أحلك ظروفها وقفت باكستان م�� السعودية حين كان التهديد على الأبواب.
هذه ليست مواقف عابرة بل تاريخ مسجل ومحطات مفصلية انغرست في الوجدان الباكستاني. لذلك ليس غريبًا أن تصدح منابر باكستان بالدفاع عن السعودية ولا أن يعلن قادتها صراحة أن أمن السعودية جزء من عقيدتهم الدفاعية بعد أمن وطنهم.
🎯
سعودی عرب میں سڑک پر دو افراد اپنی گاڑیاں چلا رہے تھے کہ اچانک اُن کے درمیان حادثہ ہو گیا۔ اُن میں سے ایک کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی — اللہ تعالیٰ اُسے اس کا بہتر نعم البدل عطا فرمائے۔
عام طور پر ایسے مواقع پر توقع یہی کی جاتی ہے کہ دونوں ڈرائیور گاڑیوں سے نکل کر جھگڑا شروع کر دیں گے، شور مچائیں گے، پولیس کو بلائیں گے اور معاملہ بڑھتا چلا جائے گا۔ لیکن یہاں منظر بالکل مختلف تھا۔ دونوں گاڑیوں سے اترے اور سب سے پہلے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔
“کیا آپ ٹھیک ہیں؟ میں ٹھیک ہوں۔”
ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: “یہ آپ کی غلطی نہیں، غلطی مجھ سے ہوئی ہے۔”
اسی لمحے مغرب کی اذان کی آواز بلند ہوئی۔ دونوں نے خاموشی سے ایک طرف ہو کر ساتھ نماز ادا کی۔ یہ کوئی فلمی یا اسکرپٹڈ منظر نہیں تھا بلکہ حقیقی زندگی کا ایک حسین لمحہ تھا۔ نماز کے بعد دونوں نے مصافحہ کیا اور باقاعدہ دوست بن گئے۔
��ہ منظر ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ ہوا اور سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارمز پر تیزی سے وائرل ہو گیا۔ یہاں تک کہ آج ایک برطانوی اخبار ��ے اس پر سرخی لگائی:
“اسلام برداشت اور رواداری کا مذہب ہے۔”