@vickygc200@PakStartup Andbght stop living in fools paradise pajeet wake up to reality in GCC countries the locals prefer Pakistani restaurants & cuisine over Indian
🇵🇰✨ On Pakistan's Independence Day, we stand in reverence for a great nation that turned the dream of freedom into a proud state.
On August 14, Pakistanis celebrate their independence—and this year's joy is doubled: just one week ago, they signed the Joint Defense Agreement with Saudi Arabia 🇸🇦 and Türkiye 🇹🇷 in Holy Makkah.
The spirit of independence that liberated Pakistan in 1947 is the same spirit now forging the region's independence from guardianship and blackmail. Pakistan no longer celebrates alone—it celebrates with a nation uniting around it.
Congratulations to Pakistan, leadership and people. A blessed Independence Day. Our partnership has become a shield for generations. 🇵🇰🤝🇸🇦🤝🇹🇷🦅🔥
سربراہ کرین پارٹی حافظ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی حافظ انس رضوی کو غیر قانونی طور پر پچھلے 10 ماہ سے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی ایما پر جبری گمشدہ کیا ہوا ہے۔
حافظ صاحب کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔
جہاں پر عدالتیں بھی طاقتوروں کی لونڈیاں دکھائی دیتی ہیں۔
آج 13 اگست کو ساتویں مرتبہ جبری گمشدگی کیس کی سماعت ہونے جا رہی ہے، لیکن انصاف صفر دکھائی دے رہا ہے۔
🚨🇵🇰🇸🇦🇹🇷 Between intellect and strength, the glories of nations are built and the maps of sovereignty are drawn! 🧠⚔️
May God have mercy on Pakistan's nuclear legend 🇵🇰, Dr. Abdul Qadeer Khan; the towering figure who proved to the world that nations are not protected by slogans, but by the minds of their scientists and the arms of their heroes.
Without this strategic achievement and the solid nuclear shield ☢️, the balance of power would have collapsed, and the geography of the entire region would have changed in the face of ambitions!
💡 The shining truth:
With science, homelands are built and civilizations rise. With power and deterrence, the noses of enemies are forced to the ground, and firm boundaries are drawn that none dare cross.
May God have mercy on the architect of deterrence and the maker of balance!
🇵🇰☢️🇸🇦🇹🇷🦅
جامعہ فریدیہ اسلام آباد کا سات سالہ غیر معمولی نابغۂ روزگار بچہ
کبھی کبھی قدرتِ الٰہی ایسے غیر معمولی ذہن اور نادر صلاحیتوں کے حامل بچوں کو دنیا کے سامنے لاتی ہے کہ انسان بے اختیار حیرت و استعجاب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جامعہ فریدیہ اسلام آباد میں گزشتہ شب ایسا ہی ایک حیرت انگیز مشاہدہ ہوا، جہاں ایک سات سالہ بچے کی عربی دانی، قوتِ حافظہ، فصاحتِ بیان اور علمی استعداد نے اہلِ مجلس کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
گزشتہ شب جامع مسجد جامعہ فریدیہ میں تکرار کی ذمہ داری انجام دے رہا تھا کہ حضرت مولانا اعجاز صاحب دامت برکاتہم ایک کم سن بچے کو اپنے ہمراہ لائے۔ تعارف کرواتے ہوئے فرمایا:
"یہ بچہ عربی زبان میں غیر معمولی مہارت رکھتا ہے اور مشکل سے مشکل عبارت بھی نہایت روانی سے پڑھ لیتا ہے۔"
طبعاً اس بات نے تجسس پیدا کیا۔ میں نے بچے سے عربی میں پوچھا:
«أين تعلَّمتَ اللغةَ العربية؟»
اس نے بلا توقف، نہایت اعتماد اور بے ساختگی سے جواب دیا:
«علَّمني الله هذه اللغة.»
اس مختصر مگر معنی خیز جواب میں اس کی خود اعتمادی، حاضر جوابی اور غیر معمولی ذہانت کی جھلک نمایاں تھی۔ اسی لمحے اندازہ ہوگیا کہ اس ننھے طالبِ علم میں قدرت نے کوئی خاص صلاحیت ودیعت فرمائی ہے۔
اتفاق سے ہمارے سامنے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی معروف تصنیف «الفقه الأكبر» کی شرح «أحسن الفوائد» موجود تھی۔ میں نے اس میں سے ایک نسبتاً دقیق اور مشکل مقام منتخب کرکے بچے کے سامنے رکھا۔ حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس نے عبارت نہ صرف صحت کے ساتھ پڑھی بلکہ ایسی روانی، اعتماد اور تسلسل کے ساتھ قراءت کی کہ مجلس میں موجود اہلِ علم ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔
اسی دوران بچے کے والد محترم مفتی سلمان پشاوری، جو جامعہ دارالعلوم کراچی میں ہمارے عزیز بھائی مفتی Furqan Rahmani کے ہم سبق اور ہمارے دوست ہیں، نے بتایا کہ یہ بچہ فلکیات، کائنات اور تخلیقِ عالم کے بارے میں نہایت دقیق اور غیر معمولی نوعیت کے سوالات کرتا ہے، جنہیں سن کر بڑے بھی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔
ان کی گفتگو سن کر تاریخِ اسلام کے ان روشن ابواب کا خیال آیا جہاں کم سنی ہی میں بعض نابغۂ روزگار شخصیات نے اپنی غیر معمولی ذہانت، حافظے اور علمی شغف سے اہلِ علم کو حیران کردیا تھا۔
اسی موقع پر مولانا اعجاز صاحب نے تجویز پیش کی کہ عربی شعبے کے طلبہ بھی اس بچے کی علمی صلاحیت کا براہِ راست مشاہدہ کریں۔ چنانچہ طے ہوا کہ اسے مائیک پر بٹھا کر طلبہ کے سامنے گفتگو اور سوال و جواب کا موقع دیا جائے۔
جب یہ سات سالہ بچہ منبر پر جلوہ افروز ہوا تو اس نے سب سے پہلے «مسند الإمام الأعظم» کی عبارت اس قدر سلاست، روانی اور فصیح لہجے میں پڑھی کہ محسوس ہوتا تھا جیسے وہ طویل عرصے سے عربی متون اور کتبِ حدیث کا مطالعہ کر رہا ہو۔ اس کے بعد صحیح بخاری کی عبارت بھی اسی اعتماد اور روانی سے پڑھ کر سنائی۔
واقعی یہ منظر قابلِ حیرت تھا کہ ایک کم سن بچہ ایسی عبارتیں اس انداز میں پڑھ رہا تھا جس کے لیے عام طور پر باقاعدہ علمی مشق اور طویل مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کے بعد حاضرین میں سے ایک صاحب نے سورۂ نمل کی آیت:
﴿وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَا أَرَى الْهُدْهُدَ﴾
کا مفہوم دریافت کیا۔
اس ننھے طالبِ علم نے نہایت سادہ، مربوط اور بلیغ انداز میں آیت کی تشریح بیان کی۔ اس کے اندازِ بیان میں صرف حفظ و تکرار نہیں بلکہ فہم، ربطِ کلام اور مفہوم کو اپنے الفاظ میں ادا کرنے کی صلاحیت بھی نمایاں تھی۔
پھر کسی نے سوال کیا:
«تفقّد» کا کیا معنی ہے؟
اس نے فوراً ایک عملی مثال دیتے ہوئے جواب دیا:
«إذا ضاع أحدُ الفلوسِ وبدأ يبحثُ عنها، فحينئذٍ نقول: تفقَّدَ الفلوسَ.»
یعنی اس نے محض لغوی معنی بیان کرنے کے بجائے مثال کے ذریعے لفظ کا مفہوم واضح کیا، جو اس کے فہم اور زبان پر گرفت کی ایک اور نمایاں علامت تھی۔
تقریباً ستائیس منٹ تک وہ طلبہ کے مختلف سوالات کا بلا جھجک جواب دیتا رہا۔ اس دوران اس کے اعتماد، حاضر جوابی اور علمی استعداد نے حاضرین کو مسلسل متوجہ رکھا۔
مجلس کے اختتام پر وہ ہمارے کمرے میں آیا تو میں نے اس سے پوچھا:
«هل أعجبتكَ الجامعة؟»
اس نے فوراً جواب دیا:
«أعجبتني في هذه الجامعة القراءةُ والكتبُ والأحاديث، أمّا البناءُ فلم يُعجبني؛ لأن هذا البناءَ يُذيبُ أعينَ الفقراء، وأرى الناسَ اليومَ يتفاخرون بالبناء، وهذا ليس شيئًا جيدًا.»
اس جواب نے ایک مرتبہ پھر سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ سات برس کے بچے کی زبان سے کتب، مطالعہ اور احادیث سے محبت، دنیاوی نمود و نمائش، تفاخر اور اسراف سے بے زاری پر مبنی ایسی بامعنی گفتگو سننا یقیناً غیر معمولی تجربہ تھا۔
اس وقت اس بچے کی عمر محض سات سال ہے۔ وہ قرآنِ کریم کے سترہ پارے حفظ کر چکا ہے، اکابر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
+