وطن عزیز کے فیصلہ سازو اور حکمرانو !
معاشی استحصال کا شکار جنوبی پنجاب کے صحافی آپ کی توجہ چاہتے ہیں۔
پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ و سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے مطالبہ کیا ہے کہ روحی چینل ملتان سے جبری طور پر برطرف کئے گئے ملازمین کو فوری بحال کیا جائے۔ وزیر داخلہ اور اپنے صحافی بھائی محسن نقوی صاحب سے گزارش ہے کہ آپ بھی روحی ٹی وی چینل کے مالکانہ حقوق اس وقت تک نئے مالک نذیر چوہان سابق ایم پی اے کے نام پر منتقل نہ کریں جب تک غیر قانونی طور پر برطرف کئے گئے ملازمین کو بحال نہ کیا جائے۔
سپریم کورٹ میں تاریخ میں پہلی بار صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور کمرہ خالی کروا دیا گیا
گزشتہ روز سپریم کورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا پریس کلب یا پی آئی ڈی کے کارڈ پر داخلے کی اجازت ہوگی اور آج اپنے ہی اعلامیے سے مکر گئے ،سپریم کورٹ کے صحافیوں کو گیٹ پر روک دیا گیا
بہت اچھے فیصلے اور آئینی فیصلے ۔۔غیر آئینی نوٹیفکیشن کرنے والوں کو اب پتہ چل گیا ہو گا کہ آئینی طریقے سے چلیں گے تو ٹھیک ورنہ ۔۔6 اور 21 کا فرق بڑا واضح ہے
نیشنل پریس کلب کے آئین، جمہوری روایات اور صحافی برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے 20 منتخب اراکین گورننگ باڈی کی ریکوزیشن پر منعقدہ غیر معمولی اجلاس میں صدر عبدالرزاق سیال کی عدم شرکت کے باعث سینئر نائب صدر احتشام الحق کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں اہم فیصلے، پریس کلب میں آئین شکنی اور قواعد ؤ ضوابط کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی، راولپنڈی اسلام آباد کے صحافیوں کی فلاح و بہبود، میڈیا ٹاؤن سیکنڈ فیز اور برادری سے جڑے دیگر اہم معاملات کو کسی صورت صحافتی محاذ آرائی کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔ تمام تر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صحافیوں کے حقوق، فلاح اور خدمت کا سفر پوری ذمہ داری، سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ ہماری اولین ترجیح صحافی برادری کے مفادات کا تحفظ اور ان کے دیرینہ مسائل کا حل ہے۔ سینئر نائب صدر احتشام الحق کا اجلاس سے خطاب۔
جرنلسٹ پینل کا اجلاس نیشنل پریس کلب میں منعقد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوے افضل بٹ نے کہا کہ جرنلسٹ پینل نیشنل پریس کلب کا بانی پینل ہے، اس لیے نیشنل پریس کلب کی حرمت، صحافیوں کی فلاح و بہبود، ان کے حقوق کا تحفظ اور پریس کلب کے آئین پر عمل درآمد ہمیشہ ہماری اولین ترجیح رہی ہے اور رہے گی۔
الیکشن کے فوری بعد ہم نے واضح کیا تھا کہ میڈیا ٹاؤن فیز ٹو پر تقریباً 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے صحافتی کوٹے کی اسکروٹنی کا کام قریب پہنچا ہوا ہے جبکہ بائیو میٹرک سسٹم کے نفاذ کے لیے بھی ہم نے بھرپور کوششیں کی لیکن یہ کام پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا ۔
ہماری پیشکش ریکارڈ پر موجود ہے کہ اگر صحافیوں کے پلاٹوں کے کوٹے کے معاملے پر وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت سے بات چیت میں ہمارے تعاون کی ضرورت ہو تو ہم حاضر ہیں۔ اسی طرح ووٹنگ لسٹ کی ڈیجیٹلائزیشن اور بائیو میٹرک کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے بھی پوری نو منتخب باڈی کو مل کر کام کرنا چاہئے۔
ہمارا یہ عہد ہے کہ نیشنل پریس کلب اور صحافیوں کے مفاد سے متعلق ہر مثبت کام میں جو بھی تعاون درکار ہوگا، جرنلسٹ پینل بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کرے گا۔
تاہم اس کے ساتھ ہمارا یہ بھی پختہ عہد ہے کہ نیشنل پریس کلب کے آئین، قواعد و ضوابط اور جمہوری روایات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اپنے پیارے بھائی شیراز گردیزی کو پریس کلب کے قائمقام سیکرٹری بننے پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں ۔۔
شیراز گردیزی نہ صرف انتہائی متحرک صحافی ہیں بلکہ کئی اچھے صفات کے انسان بھی ہے ۔۔۔ اللہ ان کی ترقی میں مزید اضافہ کرے ۔۔ آمین
@ImHaiderSherazi
نیشنل پریس کلب (NPC) اسلام آباد میں 'ڈیموکریٹس' گروپ کی ایک ہنگامی بیٹھک سجی، جس کی صدارت سینئر صحافی محمد نواز رضا نے کی۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والی طویل و عریض پریس ریلیز میں "آئین کی بالادستی"، "ادارہ جاتی استحکام" اور "شفافیت" جیسے بھاری بھرکم الفاظ کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ اجلاس میں سابقہ انتظامیہ کی طرف سے ریکارڈ کی عدم فراہمی کا رونا رویا گیا، لیٹر پیڈ کے مبینہ ناجائز استعمال پر فوجداری کارروائی کی دھمکیاں دی گئیں، اور الیکشن ہارنے والے مخالف دھڑے کو "شکست خوردہ گروپ" قرار دیا گیا۔
ظاہر ہے، پریس ریلیز کا یہ یکطرفہ رخ دیکھنے میں بہت شاندار ہے، لیکن جب اس کا صحافتی اور آئینی اصولوں کے تحت تنقیدی جائزہ لیا جائے، تو ڈیموکریٹس کے اپنے دعوؤں اور پریس کلب کے زمینی حقائق میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔
1۔ "شکست خوردہ گروپ" یا ہاؤس کی اصل طاقت؟ ایک بڑا تضاد
پریس ریلیز میں مخالف دھڑے کو بار بار "شکست خوردہ گروپ" کہہ کر پکارا گیا، جو کہ حقائق کو مسخ کرنے کی ایک معصومانہ (یا شاطرانہ) کوشش ہے۔
تلخ حقیقت اور الیکشن کے نتائج بتاتے ہیں کہ فنانس سیکرٹری، نائب صدور، جوائنٹ سیکریٹرز (میل و فی میل) اور گورننگ باڈی کی لگ بھگ تمام نشستیں اسی مخالف گروپ نے بھاری مارجن سے جیت رکھی ہیں۔ صدر اور سیکرٹری کے دو کلیدی عہدے بھی ڈیموکریٹس کو صرف چند ووٹوں کے فرق اور اسی اکثریتی گروپ کے اپنوں کی اندرونی رنجشوں کی وجہ سے پلیٹ میں سج کر مل گئے۔
جب ہاؤس کی پوری باڈی ہی مخالف گروپ کی ہو، تو صرف دو سیٹیں جیت کر پوری باڈی کو "شکست خوردہ" کہنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی نویں نمبر پر آنے والی ٹیم کا کپتان کہے کہ "باقی پوری لیگ ہی فارغ ہے"۔ اصل میں تو ہاؤس کے اندر اکثریت ان کی ہے، تو پھر گمراہ کن مہم کون چلا رہا ہے؟
2۔ الیکشن سے پہلے "پیکا (PECA) پر جنگ"... الیکشن کے بعد "مکمل خاموشی"
انتخابات سے قبل اسی ڈیموکریٹس گروپ نے صحافی برادری کی فلاح و بہبود اور خاص طور پر "پیکا قانون" (جو صحافیوں کی زبان بندی کے لیے مسلسل استعمال ہو رہا ہے) کے خلاف ایک فیصلہ کن تحریک چلانے کے بلند و بانگ دعوے کیے تھے۔
پریس کلب کے اس اہم اجلاس میں لیٹر پیڈ کے استعمال پر تو فوجداری مقدمات کی بحث ہو گئی، لیکن آزادیِ صحافت کے سب سے بڑے جلاد "پیکا قانون" کا ذکرِ خیر تک کیوں گول کر دیا گیا؟ کیا پریس کلب کا لیٹر پیڈ اب ملک بھر کے صحافیوں کے حقوق سے زیادہ اہم ہو چکا ہے؟ یا نعرے صرف ووٹ بٹورنے کی حد تک تھے؟
3۔ آئین کی بالادستی کا راگ... اور اندرونِ خانہ سنگین خلاف ورزیاں
پریس ریلیز میں "آئین کے مطابق چلنے" کا عزم ظاہر کیا گیا ہے، لیکن سابق گورننگ باڈی ممبر احتشام کیانی کی جانب سے اٹھائے گئے آئینی نکات نے موجودہ صدر اور سیکرٹری کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔
معاملہ سیکرٹری پریس کلب کی بیرونِ ملک چھٹی کا ہے۔ پریس کلب کا آئین واضح کہتا ہے کہ سیکرٹری کی عدم موجودگی میں سینئر جوائنٹ سیکرٹری ازخود قائمقام سیکرٹری کے فرائض سنبھالے گا۔ لیکن یہاں موجودہ قیادت نے آئین کو پسِ پشت ڈال کر، تیسرے نمبر پر آنے والے جوائنٹ سیکرٹری جاوید بھاگٹ کو قائمقام سیکرٹری نامزد کر دیا اور سینئر جوائنٹ سیکرٹری شیراز گردیزی کو بائی پاس کر دیا۔
بہانہ یہ بنایا گیا کہ شیراز گردیزی کو شوکاز نوٹس جاری ہوا تھا۔ پریس کلب کے آئین کے آرٹیکل 9 کے رول 10 کے مطابق، کسی عہدیدار کو معطل کرنے یا عہدے سے ہٹانے کا اختیار صرف گورننگ باڈی کے پاس اکثریتی رائے سے ہے، اور وہ بھی تب جب فنڈز کا غبن یا سنگین بدانتظامی ثابت ہو جائے۔ چونکہ شیراز گردیزی کو گورننگ باڈی نے معطل نہیں کیا، اس لیے محض ایک شوکاز نوٹس پر صدر صاحب کو یہ یکطرفہ اختیار کہاں سے مل گیا کہ وہ آئین بدل دیں؟
اس کے علاوہ، صدر کی جانب سے گورننگ باڈی کے دو ارکان کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کرنا بھی آئین کے طے شدہ اصولوں کا کھلا مذاق ہے۔
وہ چبھتے ہوئے سوالات... جن کا جواب دینا اب لازم ہے
ڈیموکریٹس کے اس اجلاس کے بعد نیشنل پریس کلب کے کوریڈورز میں یہ سوالات شدت سے گونج رہے ہیں:
1.سوال برائے صدر و سیکرٹری: آپ پریس کلب میں بائیومیٹرک رکنیت سازی کے ذریعے "شفافیت اور آئین پسندی" کا نظام لا رہے ہیں، جو کہ اچھی بات ہے، لیکن جب آپ خود پریس کلب کے اندرونی عہدوں کی بندر بانٹ میں آئین کو فٹ پاتھ پر کھڑا کر رہے ہیں، تو دوسروں سے آئین پسندی کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں؟
2.سوال برائے گورننگ باڈی اکثریت: جب گورننگ باڈی کے اکثریتی ارکان مخالف گروپ کے ہیں، تو صدر اور سیکرٹری کی جانب سے کیے جانے والے ان غیر آئینی نوٹیفیکیشنز پر ہاؤس خاموش کیوں ہے؟ کیا گورننگ باڈی اپنی آئینی طاقت کا استعمال کر کے اس من مانی کو روکے گی؟
3.سوال برائے صحافی برادری: سابقہ انتظامیہ سے فنڈز اور اثاثوں کا حساب مانگنا آپ کا حق ہے، لیکن کیا موجودہ انتظامیہ اپنے ان غیر آئینی اقدامات پر ارکان کے سامنے جوابدہ ہونے کا حوصلہ رکھتی ہے؟
دوسروں کو آئین کا سبق پڑھانا اور اپنے گھر کے اندر آئین کی دھجیاں اڑانا یہ وہ تضاد ہے جو موجودہ قیادت کی ساکھ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اگرنام نہاد "ڈیموکریٹس" واقعی پریس کلب کا وقار بحال کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں پہلے اپنے جاری کردہ غیر آئینی نوٹیفیکیشنز واپس لے کر آئین کی بالادستی خود قائم کرنا ہوگی، ورنہ پریس ریلیز کے الفاظ صرف کاغذ کا پیٹ بھرنے کے کام ہی آئیں گے۔
عزیز دوستو،
نیشنل پریس کلب اسلام آباد پاکستان میں آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار اور صحافیوں کے جمہوری حقوق کی ایک بڑی علامت ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض عناصر گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے اس ادارے کو کمزور کرنے، اسے تنازعات میں الجھانے اور بالآخر اسے تالہ بندی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نیشنل پریس کلب میں غیر آئینی طور پر درجنوں نوٹسز اور نوٹیفکیشنز جاری کیے گئے۔ ہر غیر آئینی اقدام کی توجیہ یہ پیش کی گئی کہ “آئین اس معاملے پر خاموش ہے”۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔
آئین نہ صرف واضح ہے بلکہ بہت سے معاملات میں دوٹوک رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال صدر اور سیکرٹری کی غیر موجودگی سے متعلق شقیں ہیں۔
چند ہفتے قبل جب صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال صاحب بیرونِ ملک گئے تو آئین کے مطابق سینئر نائب صدر احتشام الحق نے ذمہ داریاں سنبھال لیں، جب صدر واپس آئے تو دوبارہ اپنے اختیارات سنبھال لیے۔
بالکل یہی اصول سیکرٹری کے معاملے میں بھی آئین میں درج ہے۔ سیکرٹری کی عدم موجودگی میں سینئر جوائنٹ سیکرٹری خودکار طور پر قائم مقام سیکرٹری کے فرائض سنبھالتا ہے۔ آئین خود سب سے بڑا نوٹیفکیشن ہے، اس کے بعد کسی اضافی کاغذ کی ضرورت نہیں رہتی۔
لیکن افسوس کہ اسی واضح آئینی شق کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک متنازع اور غیر آئینی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، صحافیوں کے مینڈیٹ کی توہین کرتے ہوے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے سینئر جوائنٹ سیکرٹری شیراز گردیزی کے حق پر ڈاکہ مارا گیا اور پھر سیکرٹری کے دفتر کو تالا لگا دیا گیا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس سارے عمل کا مقصد ایک اشتعال انگیز ماحول پیدا کرنا تھا تاکہ ردعمل میں کوئی تالا توڑے، کوئی جوابی کارروائی کرے اور پھر نیشنل پریس کلب کو ایک نئے بحران اور تالہ بندی کی طرف دھکیل دیا جائے۔
لیکن ہم نے اپنے ساتھیوں سے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم کسی اشتعال کا شکار نہیں ہوں گے۔
ہم اس ادارے کے بانیوں میں شامل ہیں۔ اس کی ایک ایک انچ زمین کے حصول کی جدوجہد میں شریک رہے ہیں، اس لیے اس ادارے کی حفاظت، وقار اور آئین کا دفاع ہماری ذمہ داری ہے۔
ہم کوئی قدم آئین سے باہر جا کر نہیں اٹھائیں گے لیکن کسی کو من مانی بھی نہیں کرنے دیں گے۔
آئین کے مطابق شیراز گردیزی قائم مقام سیکرٹری کی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں اور آئین کے مطابق ہی اپنے فرائض انجام دیں گے۔
ہم آئین بچائیں گے، ادارہ بچائیں گے اور نیشنل پریس کلب کو کسی بھی سازش کے تحت تالہ بندی یا تصادم کی طرف نہیں جانے دیں گے۔
#NPC
عدالتی حکم امتناع کے باوجود ایک ہی روز میں دو مرتبہ ملتان میں اخبار کے دفتر پر چھاپہ، پی ایف یو جے ے صدر افضل بٹ و سیکرٹری جنرل ارشد انصاری کی طرف سے شدید مذمت۔
ملتان میں آزادی صحافت کی آواز کو دبانے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ملتان کی ٹیم نے روزنامہ "بیٹھک" کے دفتر پر ایک ہی دن میں دو بار دھاوا بول دیا۔ منگل کے روز ہونے والی اس کارروائی کے دوران ٹیم پہلی مرتبہ دفتر بند ہونے پر دفتر کے دروازے پر لاتیں مار کر واپس چلی گئی لیکن کچھ ہی دیر بعد پوری ٹیم دوبارہ دفتر پہنچی۔ ایجنسی کے اہلکاروں نے انتہائی جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے اندر موجود نیوز روم کے عملے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ اہلکاروں نے بغیر کسی قانونی وارنٹ یا ضابطے کے دفتر میں موجود کمپیوٹر زبردستی قبضے میں لے لیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب بیٹھک نیوز کی انتظامیہ کی جانب سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی مبینہ بے ضابطگیوں اور ایک افسر کے خلاف تحقیقاتی خبریں نشر کی گئی تھیں۔ بیٹھک نیوز نے اس غیر قانونی چھاپے کو اپنی صحافتی ذمہ داری ادا کرنے کی سزا قرار دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ پیکا ایکٹ کے تحت ہتک عزت کے نام پر جاری کارروائیوں کے خلاف پاکستان انفارمیشن کمیشن تک قانونی رسائی حاصل کر چکے ہیں جس کے بعد سے ان کا ادارہ انتقامی کارروائیوں کی زد میں ہے۔
اس سے قبل بھی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ انکوائری کو بیٹھک نیوز نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ عدالت عالیہ نے اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے ایجنسی سے جواب طلب کر رکھا ہے اور کیس کی اگلی سماعت دس جون کو مقرر ہے۔ بیٹھک نیوز نے اس دھاوے پر سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ آزادی صحافت پر یہ حملہ بیٹھک نیوز کو نہیں ڈرا سکتا۔ بیٹھک نیوز کی جانب سے این سی سی آئی اے کے سربراہ شمس الدین کو ان غیر قانونی چھاپوں کے حوالے سے مؤقف کے لئے باقاعدہ سوالنامہ بھیجا گیا اور فون بھی کیا گیا مگر ان کی جانب سے نہ تو جواب موصول ہوا نہ انہوں نے فون اٹینڈ کیا۔ بیٹھک نیوز یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ اگر یہ ہراسانی بند نہ ہوئی تو ہائی کورٹ کو اس توہین عدالت اور انتقامی کارروائی کے بارے میں براہ راست آگاہ کیا جائے گا۔ ادارہ کسی بھی قسم کے غیر قانونی دباؤ، ہراسانی اور انتقامی کارروائیوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ یہ بات واضح کی جاتی ہے کہ بیٹھک نیوز اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا بدعنوانی کو بے نقاب کرنے کے اپنے مشن پر کاربند رہے گا۔
ادارے کا مؤقف ہے کہ عوامی مفاد میں سچائی تک رسائی اور تحقیقاتی صحافت عوام کا بنیادی حق ہے۔ بیٹھک نیوز نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ملتان کی جانب سے عوامی مفاد میں تحقیقاتی رپورٹنگ کو خاموش کروانے کی کوششوں کو مسترد کرتا ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں حق اور سچ کی آواز بلند رکھی جائے گی۔ کسی بھی ایجنسی یا ادارے کی جانب سے قانونی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر کیے جانے والے اقدامات جمہوریت اور آزادیِ اظہار کے لیے خطرہ ہیں، جن کا مقابلہ آئینی اور عدالتی دائرہ کار میں رہ کر کیا جائے گا۔
بیٹھک نیوز کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو ڈرانے، دھمکانے اور دفاتر پر دھاوا بولنے جیسے اوچھے ہتھکنڈے ماضی میں بھی ناکام ہوئے ہیں اور اب بھی ان سے ادارے کا حوصلہ کم نہیں کیا جا سکتا۔ تحقیقاتی صحافت کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کسی بھی قسم کی دھونس، غیر قانونی چھاپوں اور سرکاری مشینری کے غلط استعمال سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ عوام کا اعتماد ہماری طاقت ہے اور ہم اپنے ناظرین اور قارئین کو ہر قسم کی صورتحال سے باخبر رکھنے کا وعدہ پورا کرتے رہیں گے۔
آخر میں، بیٹھک نیوز تمام متعلقہ اداروں اور حکام پر زور دیتا ہے کہ وہ صحافتی آزادی کا احترام کریں اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔ ادارہ اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہے کہ شفافیت اور احتساب ہی معاشرے کی بہتری کا واحد راستہ ہے۔ ہم اپنے قانونی و آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب راستے اختیار کرتے رہیں گے اور حقائق کو عوام کے سامنے لانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
#PFUJ #RIUJ
نیشنل پریس کلب کے سینئر نائب صدر احتشام الحق کا ویڈیو بیان۔
پہلے کہا ریکارڈ نہیں ملا، پھر تصویر آگئی کہ ریکارڈ مل گیا، اب فرماتے ہیں بائیس سال کا ریکارڈ دو۔
اس رفتار سے تو جلد ہی مطالبہ ہوگا کہ قائداعظم کے دور کا ریکارڈ بھی پیش کیا جائے!
کیا دنیا کے کسی آئین یا اخلاقیات کےتحت کسی بھی تنظیم کے دو سال عہدیدار رہنے والے سے کوئی ذی شعور انسان 22 سال کا ریکارڈ مانگ سکتا ہے۔
#NPC
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر عبدالرزاق سیال اور سیکرٹری راؤ فرقان کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے منعقد نہ ہونے والے گورننگ باڈی کے اجلاس کے حوالے سے من گھڑت پریس ریلیز جاری کرنے اور پریس کلب کے جمہوری تشخص و وقار کو نقصان پہنچانے کے خلاف گورننگ باڈی کے ارکان نے آئین کی دفعہ 6، شق 6 کے تحت ریکوزیشن کے ذریعے گورننگ باڈی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گورننگ باڈی کی منظوری کے بغیر فیصلے نہیں کیے جاسکتے نہیں پتہ تو آپ سے پہلے بھی ایک صدر نے اس طرح کی کوشش کی تھی پھر کیا ہوا وہ سب جانتے ہیں 6 اور 22 میں فرق جان کر جیؤ
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سینئر نائب صدر احتشام الحق، سیکرٹری فنانس عابد عباسی اور دیگر عہدیداران و ممبران گورننگ باڈی نے صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال اور سیکرٹری راؤ فرقان کی جانب سے مبینہ اجلاس کے حوالے سے جاری کردہ پریس ریلیز کو حقائق کے منافی، جھوٹ پر مبنی اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ڈی چوک میں اسلام آباد پولیس کی جانب سے معرکہ حق کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب کے دوران آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی پی ایف یو جے کے صدر @Afzalbutt01 کو کیپ پہنا رہے ہیں۔ اس موقع پرسی ٹی او سرفراز ورک سول سوسائٹی سمیت شہریوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ @ICT_Police
ڈیئر ابرار استوری۔ آپ سمیت ان تمام دوستوں کا شکریہ جو مشکل وقت میں دن رات دوستوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان افسروں کا شکریہ جنہوں نے یہ بات سن لی کہ ان نوجوان صحافیوں سے غلطی ہو سکتی ہے لیکن یہ ملک دشمن نہیں۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ صاحب کا بھی شکریہ جنہوں نے صرف پانچ ہزار روپے کے عوض ضمانت کنفرم کر دی۔