اب فیوز ایل ای ڈی (LED) بلب پھینکنا بند کریں! گھر پر خود ٹھیک کریں منٹوں میں 🛠️ کمال کا جگاڑ!
کیا آپ کا ایل ای ڈی بلب بھی خراب ہو گیا ہے؟دکان پرجانے یا نیا خریدنے کے بجائے اس ویڈیو کو دیکھیں! بلب کے اندر صرف ایک چھوٹا سا ڈائیوڈ (LED Chip) جل جاتا ہے، جسے آپ خود ٹھیک کر سکتے ہیں👇
اس ویڈیو کو صرف سنیں نہیں، بلکہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ دیکھیں کہ گفتگو کس ترتیب سے کی گئی ہے، دلائل کیسے پیش کیے گئے ہیں، آواز کی پچ کہاں بلند یا نرم ہوتی ہے، لہجہ کتنا پراعتماد ہے، الفاظ کی ادائیگی کتنی واضح ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دلیل کتنی مضبوط اور منطقی ہے۔ ایک اچھی گفتگو صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ انداز، لہجے اور مضبوط استدلال سے مؤثر بنتی ہے۔
ایک ایک لفظ گویا دل میں اتر رہا ہے۔۔۔۔!!
جنتر منتر پر ایک خاتون مقرر نے جو گفتگو کی، اس گفتگو کا تعلق گو کہ انڈیا سے ہی ہے ل��کن یہ گفتگو ہمارے لئے اجنبی نہیں ہے۔
تقریر واقعی متاثر کن تھی، سننے والا دیر تک اس کے اثر سے نہیں نکل پاتا
ہندوستانی طلباء کی یہ تحریک وہاں کے عوام کے لیے ایک ممکنہ تبدیلی کی علامت بن چکی ہے
اصل بحران یہ ہے کہ بھارت سیکولر ریاست کے تصور سے ہٹ کر انتہا پسندی کو سیاسی ہتھیار بنا چکا ہے اس احساس کے بغیر کہ اس کی قیمت بالآخر خود ریاست کو چکانا پڑے گی یہ احتجاج فوری تبدیلی نہیں لائے گا مگر اس سفر کی ایک کڑ�� ضرور ہے جس کا ایک اہم موڑ شاہین باغ تھا
اکثر دوست اسے پاکستان کے حالات سے جوڑ کر طنز کرتے ہیں گویا یہاں سب ٹھیک ہے
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ چہروں کا نہیں ہے کیونکہ یہاں تو حکومتیں وقتاً فوقتاً بدلتی رہتی ہیں کبھی ووٹ سے کبھی کسی اور طریقے سے اصل خرابی ان کے پیچھے موجود ان ہاتھوں کی ہے جو یہ چہرے منتخب اور تبدیل کرتے ہیں
سامنے کوئی بھی ہو، فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے
مودی حکومت نے عدلیہ کو (ہماری طرح )ساتھ ملا کر انتخابی نظام پر اثر ڈالا بابری مسجد شہریت کا قانون یا پھرکشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہو یہ سب قانونی راستے سے کیے گئے
پاکستان کا مسئلہ مختلف ہے یہاں معاملہ قانون سازی کا نہیں ماورائے عدالت اقدامات کا ہے
اور موجودہ سیٹ اپ بھی اسی پرانی روش کا تسلسل ہے جہاں فیصلے پردے کے پیچھے سے ہوتے ہیں اور سامنے صرف نتائج آتے ہیں
مشرف دور سے پہلے یہ کلچر نہیں تھا نائن الیون کے بعد جو روایت پڑی اس نے یہ سکھایا کہ ماورائے عدالت جو چاہو کر گزرو اور عدالتی ریلیف کو بھی بےاثر بنا دو سیاست دان اور سیاسی کارکنان اپنے اپنے دور میں کہتے رہے ہیں “کچھ تو کیا ہو گا۔” اور جب وقت گزرتا ہے تو وہی جملہ ان کے گلے پڑ جاتا ہے
بہرحال، تقریر ضرور سنیں
اس لڑکی بات سننے کے لائق ہے
#AfaqWrites
@stephen_john28 He is wrong Iran tried to negotiate with US in July 25 but US -Israel imposed 12 days war on Iran and now in between negotiations they killed Khamnayii and other leaders .It is wrong they dont wanna settle down these situations.
@nadiaak32 Last Nov-DecI was in GB. I attended a gathering of AKRSP in my village. I felt deeply saddened to know about the recent environmental changes and the lack of public awareness regarding them. An elderly man there told us that many years ago apricots would not become damaged even