إن الاتفاق الدفاعي الذي أُبرم في مكة المكرمة بين باكستان والمملكة العربية السعودية والجمهورية التركية يحمِل بُشرى سارة تبعث السرور في نفوس أبناء الأمة الإسلامية جميعًا.
وإن حكومات الدول الثلاث تستحق التهنئة على هذا الاتفاق الصانع للتاريخ والذي تمّ في جواربيت الله الحرام
پاکستان سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں ھونے والا دفاعی معاہدہ پوری مسلم دنیا کے لئے نہایت خوشی کی خبر ھے تینوں حکومتیں اس تاریخ ساز معاھدے پر جو بیت اللہ کے بالکل قریب ھوا مبارکباد کی مستحق ہیں اللہ تعالی اسکو امت مسلمہ کے اتحاد کا ذریعہ بنائیں آمین
انتہائی افسوس ہے کہ اے آئی کا غلط استعمال کرتے ہوے میری جعلی تصویر اور جعلی آواز بناکر میری ایسی گفتگو سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہے جسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بعض لوگ اس سے گمراہ ھوسکتے ھیں یہ سراسر جھوٹ اور دھوکہ ہے سائبرکرائم ایجنسیاں اسکا نوٹس لیں
قیامت کے علامات میں سے۔
1۔بدزبانی ، بدکلامی،گالی گلوچ۔
2۔ برا پڑوسی ، جس سے پڑوسی تکلیف میں ہو۔
3۔ذلیل ، رذیل ، اور نکمے لوگ غالب اور ہر چیز پر قابض ہونگے۔
ذرا سوچیے! تعلقات کی جو نوعیت اور تعلقات میں کشیدگی کی جو نوعیت آج حکومتی پارٹیوں اور پی ٹی آئی کے درمیان نظر آ رہی ہے یہ کوئی میرے لیے آج پہلا منظر نہیں ہے، خواجہ آصف صاحب میرے محترم ہیں، میرے بڑے ہیں، مجھ سے عمر میں بھی بڑے ہیں، میں احترام کرتا ہوں یہ سب کچھ خوب جانتے ہیں، پرویز اشرف صاحب بیٹھے ہوئے ہیں، میرے لیے قابل احترام ہیں یہ سارے مناظر انہوں نے دیکھے ہیں، جو کشیدگی کی نوعیت اور ایک دوسرے کے خلاف روئیوں کی جو انتہا پسندی ہے یہ مناظر ہم نے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی بیچ میں نہیں دیکھے تھے، میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیان ہم نے نہیں دیکھے تھے، آج ہم انہی مناظر کو دوبارہ دوسرے شکل میں دہرا رہے ہیں، میں ان روئیوں کے حق میں نہیں ہوں، میں حجم کے مطابق رد عمل دینے کے حق ہوں، اگر عمل چیونٹی کے برابر ہے تو رد عمل چیونٹی کے برابر ہونا چاہیے، لیکن ہم ہیں کہ عمل چیونٹی کے برابر اور رد عمل ہاتھی کے برابر ہوتا ہے۔ مسائل کو اس کے اپنے خاص حدود کے اندر ہمیں سوچنا چاہیے، اپوزیشن کی جماعتیں بیٹھی ہیں، محمود خان اچکزئی ہمارے لیڈر آف دی اپوزیشن ہے، مجھ سے انہیں ووٹ نہیں مانگا لیکن میں نے ان کو سپورٹ کیا ہے اور میں آج بھی یہ سوچتا ہوں کہ جس طرح پرائم منسٹر صاحب نے خطاب کیا اور اس میں انہوں نے میثاق جمہوریت کی بات کی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان دوریاں اور تلخ رویوں کی ایک تاریخ وہ میثاق جمہوریت پر جا کر ختم ہوئی، میں اس کا سگنیچری نہیں ہوں، غالباً عمران خان بھی اس کے سگنیچری نہیں ہیں، لیکن بعد کے جو سیمینارز ہوئے، آل پارٹیز ہوئے، ان کے جو اعلامیے سامنے آئے اس پہ ہم سب کی تائید اس کو حاصل ہوئی اور آج ایک متفقہ دستاویز ہے، ہم نے جو عہد کیا تھا، ہم نے جو میثاق کیا تھا کہ ہم اختلاف رائے کریں گے، جو حکومت کر رہی ہے اُس کو حکومت کرنے دیجیے، ملکی معاملات میں ہم تعاون کی ضرورت ہوگی تو وہ بھی کریں گے، ایک دوسرے کے حکومتوں کو گرائیں گے نہیں، اور اگر میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس سے بھی اچھے واضح الفاظ کے ساتھ عرض کروں کہ اپوزیشن اپوزیشن کرے گی لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے سہولت کار نہیں بنے گی، وہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے حکومت پر پریشر نہیں ڈالے گی، وہ اس کے لئے ہنگامے نہیں کھڑا کرے گی تاکہ وہ پھر حکومت کو منیج کر سکے، آج وہ ساری چیزیں بگڑ گئی، دوبارہ معاملات خراب کر دئیے گئے۔ میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں، سیاست میں اگر ان کی گرفتاری کی وجہ سے تلخی ہے ہمیں ملک کی بہتری کے لئے اور ملک کے اندر مجموعی طور پر ایک برادرانہ اور ہم آہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے لئے ایک شخص کی قربانی کوئی مسئلہ نہیں ہے، آجائیں باہر میدان میں سیاست کرتے ہیں، مجھے لوگ پوچھتے ہیں آپ عمران خان پر بہت تنقید کرتے تھے آج کل کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے کہا یہ میرا مزاج نہیں مانتا کہ میرا مخالف جیل میں ہو اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہو اور میں کھل کر ان پر تنقید کرتا رہوں، او وہ بھی باہر آئیں گے، وہ بھی بات کریں گے، ہم بھی بات کریں گے۔ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔ آداب کے اندر کریں گے، یہی تعلقات میں حزب اختلاف اور حکومت کے بھی چاہتا ہوں، میثاق جمہوریت کی طرف آئیں ہم دوبارہ چلیں، اور اس کے لیے یقیناً اپوزیشن کو بھی مشورہ کرنا ہوگا وزیراعظم نے اگر کوئی بات کی ہے لیکن کچھ تو معاملات کے حل کے لیے ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ اور آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو یہ خطرہ ہے کہ ان کیمرہ میٹنگ ہوگی اور پی ٹی آئی والے کوئی ہنگامہ کریں گے میں اس فلور پر پی ٹی آئی والوں کی زمہ داری خود لیتا ہوں وہ کوئی ہنگامہ نہیں کریں گے۔
اسپیکر کے سوال پر کہ مولانا صاحب آپ کتنے بولیں گے؟ مولانا صاحب کا جواب: بولنے پر تو حضرت اتنے درد ہیں کہ ہر درد کے لیے گھنٹہ چاہیے۔ اور اب جب آپ کے اوپر ایک بوجھ آگیا ہے، ایک دباؤ آگیا تو مجھے آپ کے درد کا بھی احساس ہے، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہ درد آپ کا اکیلا نہیں ہے، یہ درد کہیں سے آ جاتا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
#MaulanaInParliament
دہشت گردوں کے مراکز افغانستان میں ہیں، وہاں پر بمباریاں کی جا رہی ہیں، تو کیا اس سے پاکستان کے اندر مسلح گروہوں کی کارروائیوں میں کوئی کمی آئی یا اس میں اضافہ ہوا؟ ذرا اپنی حکمتِ عملی پر نظر تو ڈالنی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن
غریب کی زندگی مشکل، حکومت معاشی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی۔
چھ ماہ میں معیشت ٹھیک نہ کی تو میرا نام شہباز شریف نہیں، دعوے!
آج کے حالات میں عام آدمی معمولی تنخواہ پر کیسے گزارا کرے:
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان
جب اسلام آباد میں گرین بیلٹ کا بہانہ بنا کر اللہ کا گھر یعنی مدنی مسجد گرائی جا رہی تھی تو کسی صحافی نے اسکو بچانے کی کوشش میں کوئی ٹویٹ ولاگ نہیں کیا۔ آج سیٹھوں کی بلڈنگ “کانسٹیٹیوشن ایونیو” کو CDA رولز کی خلاف ورزی کی وجہ سے خالی کرنے کے احکامات آئے ہیں تو سب بلبلا رہے ہیں صبح دوپہر شام ایک ہی موضوع ہے ۔ وزیراعظم سے رحم کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں، کاش اللہ کے گھر کے حق میں بھی بولے ہوتے!!
مذاکرات سے فرار اختیار کر کے ایرانی رجیم نہ صرف اپنے ملک کو اندھی تباہی میں دھکیل دے گی بلکہ دنیا بھر میں جنگی جنون کا باعث بھی بن سکتی ہے۔
پاکستان نے سفارتی میدان میں دونوں ممالک کو جو میز مہیا کی ہے اس کی دوسری جانب نہ بیٹھنا انتہائی ناعاقبت اندیش اقدام ہے۔ ایران دوستوں سے محروم ہو سکتا ہے۔