یہ غریب کی ریڑھی تو قانون کی سختی کے نام پر چور چور کر دی درباریوں نے تالیاں بجا بجا کر رول آف لا اور گورنس کی تعریف کر دی
اسلام آباد کی ون کانسٹیٹیوشن کی غیر قانونی بلڈنگ عدالتی فیصلے کے بعد بھی جی آئی ٹی بن گئی
اعتراض اس امتیازی قانون پسندی پر ہے
ندیم رانا صاحب آپ کی یہ ٹویٹ NCCCIAکے دائرہ اختیار میں آتی ہے قاضی فائز عیسی کا مکمل انٹرویو کا لنک ساتھ پوسٹ کر رہا ہوں یہ انٹرویو تین سال سے زائد عرصہ پہلے دیا گیا تھا جھوٹ بولنا اور جھوٹ کو پھیلانا شاید آپ جیسے لوگوں کا شیوا بن چکا ہے اس پوری وڈیو کو سن کر بتائیں جو آپ نے لکھا ہے اور جو اے آئی کے زریعے آواز کی ٹیمپرنگ کی گئی ہے کتنا بڑا جھوٹ اور فریب ہے اپنی آئی ڈی میں لکھ رہے ہو کہ تم حقیقی ہو لیکن اتا پتا کوئی نہیں جھوٹوں کی جماعت کاجعلی اکاؤنٹ لگتے ہو https://t.co/VukAqf6Q9r
یہ ٹویٹ اتنا زیادہ Retweet کرو تاکہ ہر ایک پاکستانی شہری تک پہنچے
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 2008 سے لے کر جون 2026 تک حکومتِ پاکستان تقریباً 3.3 ٹریلین روپے یعنی 3330 ارب روپے بنتے ہیں اس پروگرام پر خرچ کر چکی ہے اس سال کے بجٹ میں مزید 838 ارب روپے اس پروگرام کے لیے مختص کیے
یہ ایک بہت بڑی رقم ہے۔ ان وسائل سے ملک میں درجنوں جدید ہسپتال، اعلیٰ معیار کی یونیورسٹیاں، ہزاروں اسکول و کالجز،موٹروے، سڑکیں، ڈیم اور ہائیڈرو پاور منصوبے بنائے جا سکتے تھے جو مستقل معاشی ترقی اور روزگار کا ذریعہ بنتے۔
اہم سوال یہ ہے کہ 18 سال گزرنے کے باوجود کیا غربت واقعی کم ہوئی ؟
کیا وہ خاندان جو 2008 سے امداد لے رہے تھے آج اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں؟
اگر ایک پروگرام مسلسل کھربوں روپے لینے کے باوجود لوگوں کو مستقل خود کفیل نہ بنا سکے تو پھر اس کی پالیسی شفافیت اور مؤثریت پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ اس پروگرام کے دوران کرپشن، سیاسی مداخلت، جعلی رجسٹریشن اور غیر مستحق افراد کو فائدہ پہنچنے کی شکایات بارہا سامنے آئی۔ دوسری طرف عام غریب آدمی کی زندگی میں وہ بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ نا روزگار کے مواقع بڑھے، نا لوگوں کو مستقل کاروبار یا ہنر ملا۔ صرف نقد امداد سے غربت کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔
وقت آگیا ہے کہ یا اس پروگرام کو ختم کیا جائے
یا اسے صوبوں کے حوالے کر کے ہر صوبے کو اپنی ضروریات کے مطابق اصلاحات کا اختیار دیا جائے،
اور امداد کے ساتھ ہنر، روزگار چھوٹے کاروبار تعلیم اور صحت کو لازمی جوڑا جائے تاکہ لوگ مستقل طور پر خود کفیل بن سکیں، نہ کہ ہمیشہ امداد کے محتاج رہے
🚨جیو نیوز نے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی شان میں بدترین گستاخی کی ہے🚨
جیو نیوز پر سفر عشق کے نام سے ایک ڈاکو مینٹری نشر کی گئی ۔ جس میں اے آئی کے زریعے نبی کریم حضرت محمد ﷺ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اہلبیت سے منسوب خاکے نشر کئے گئے ۔ جیو نیوز پر شروع سے اسلامی شعائر کے خلاف پروگرامات نشر ہوتے رہے ہیں ۔ رمضان ٹرانسمیشن جیسی خرافات بھی اسی چینل کی ایجاد ہیں ۔ اسی نے شروع کیں ۔ پیمرا نے صرف 15 دن کی پابندی لگائی ہے ۔ چینل نے معذرت کرلی ہے ۔ لیکن کیا یہ معمولی بات ہے ؟ ایک نیشنل ٹی وی چینل پر مسلمانوں کی مقدس ترین ہستیوں سے منسوب خاکے نشر کئے جائیں ۔ اور پھر کہا جائے غیر ارادی طور پر ایسا ہوا ۔ حالانکہ ڈاکومینٹری کا ایک ایک لفظ اسکرپٹڈ ہوتا ہے دسیوں لوگ چیک کرتے ہیں یہ غیر ارادی تو ہو ہی نہیں سکتا سب کچھ جانتے بوجھتے کیا گیا ہے ۔ حکومت ان کے خلاف قانونی کاروائی کرنی چاہیے ۔ ان کے خلاف قانون کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے ۔ بہت ہوگیا ۔ اب مزید نہیں ۔
جیو کے پروگرام میں نبی اکرم صل اللہ علیہ والہ وسلم کی جسمانی منظر کشی پر جیو کی نشریات 15 دن کے لیے معطل. کیا صرف پندرہ دن چینل بند کرنے سے ازالہ ہو جائے گا؟ سب ٹھیک ہو جائے گا؟ کیا پیمرا کا ماننا یہ ہے کہ بس پندرہ دن کی سزا کے عوض یہ سب ٹی وی پر دکھایا جا سکتا ہے؟ جیو پر مکمل پابندی لگائی جانی چاہئے۔ BAN GEO NEWS !!
جیو نیوز پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے نشر کرنا ناجائز اور حرام ہیں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق دستوری طور پر اور پیمرا قوانین کے مطابق بھی یہ درست نہیں
#فداک_ابی_وامی_یارسول_اللہ_ﷺ
رسولِ اکرم ﷺ کے فرضی خاکے نشر کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
جیو نیوز کی جانب سے ہونے والی اس جسارت نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو شدید مجروح کیا ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس گستاخانہ عمل میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
ناموسِ رسالت ﷺ پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔
جیو نے کیا چلایا، دیکھا نہیں، (نہ دیکھنے پر اللہ کا شکر ہے). تاہم جو سنا ہے وہ اذیت ناک ہے.
اس پر البتہ جیو نے جو معذرت کی ہے وہ میں نے دیکھی ہے. یہ معذرت نہیں رعونت اور تکبر کا اظہاریہ تھا. نیوز کاسٹر کی باڈی لینگویج اور انداز گفتگو میں دور دور تک ندامت نام کی کوئی چیز نہیں تھی. ایسے بول رہا تھا جیسے جیو نیوز نے معزرت نہیں کی، قوم اور ملت اسلامیہ پر احسان کیا ہے. یہ معذرت تھی ہی نہیں. نہ الفاظ میں نہ لہجے میں نہ باڈی لینگویج میں.
صحافتی اقدار تو نہ سیکھ سکے، معذرت کرنا کرنا تو سیکھ لو.
جیو پر آن ائر جانے سے قبل مواد کو کئی لوگ اسے دیکھتے ہیں۔ میڈیا میں موجود ایک عمومی عقل کے حامل ذہن کو پتہ ہوتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے وہ قابل نشر ہے کہ نہیں۔ میری رائے میں اس ڈاکومنٹری کے پروڈیوسر اور ایگزیکٹو پروڈیوسر کے خلاف 295 سی کے تحت مقدمہ ہونا چاہئے۔
ان فرقہ پرستوں کو اسی طریقے سے روکا جا سکتا ہے۔
جیو نے مذاق بنایا ہوا ہے اب کہتے ہیں کہ ہماری یہ پالیسی نہی تھی تو پھر یہ پیغمبروں کے بیت اطہار کے مکمل خاکے کیسے چل گئے ؟
ایڈیٹوریل بورڈ کہاں تھا؟ جیو کی معطلی کافی نہی ہے ان کو جو اربوں کے سرکاری اشتہارات دیتے وہ بند کرنے کی ضرورت ہے
عام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں محض 7 فیصد اضافے کے لیے بھی آئی ایم ایف کی منظوری درکار تھی، لیکن دوسری جانب وزارتِ خزانہ اور وزیراعظم ہاؤس کے ملازمین کو چھ ماہ کے بونس دیے جا رہے ہیں۔ 😡
پھر حیرت کیسی کہ قرضوں کا بوجھ کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، ترجیحات کا ہے۔
لوگ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ ہیں،ظالمانہ ٹیکسوں نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے،معیشت کا پہیہ جام ہے اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ بنانے والے وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہاوس کے ملازمین کو 6 ماہ کی تنخواہ بطور بونس دینے کا اعلان کردیا ہے ۔کیوں بھئی ؟ آپ کے باپ کا مال ہے؟ بادشاہ سلامت ہیں آپ ؟ پہلی بات تو یہ اس بجٹ میں ایسا کونسا تیر مارا ہے کہ انعام دیا جائے؟ دوسری بات اگر بونس دینا بھی ہے تو ان چند ملازمین کو دیں جنہوں نے دن رات کام کیا۔ کروڑوں روپے یوں اڑا دینے کیا جواز ہے؟ وزارت خزانہ اور وزیراعظم ہائوس کے سینکڑوں ملازمین کو 6ماہ کی تنخواہیں انعام دینے کا اختیار کس نے دیا ؟ کیا آپ اپنی جیب سے یہ بخشش دے سکتے ہیں؟
اکیاون کروڑ تو صرف سرکاری ملازمین میں بانٹا ہے مکمل آڈٹ رپورٹ میں اربوں کا گھپلا ہے گاڑیوں کے مالکان اور دہری اندراج رکھنے والوں سمیت 6 لاکھ سے زائد نااہل افراد کو اربوں روپے کی بے ضابطہ ادائیگیاں کی گئیں ہیں یہ پروگرام بڑی کرپشن کا ذریعہ ہے
اب سمجھ آ رہی کہ پی پی کیوں اتنا شور کرتی ہے
مطلب ان کو چھ مہینے کی ایکسٹرا تنخواہ مفت میں دے دی کیا ان کی کارکردگی سے قرضے اتر گئے یا خزانہ بہت بھر گیا کہ یوں بانٹنے لگ گے ہیں ؟
عجیب ڈرامہ ہے ججوں نے اپنی تنخواہیں بڑھا لیں وزیروں نے اپنی چھ سو فیصد بڑھا لی تھیں پھر ججوں نے عدالتی عملے کی تنخواہ بھی بڑھا دی
جب عام سرکاری ملزمان یا پینشنر کی بات آ جائے کہتے خزانہ میں پیسہ نہی ہے
آج وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمت کے لیے کمیٹی بنا دی ہے تو یاد کروا دوں دو ڈھائی مہینے پہلے الیٹ کے ان غیر قانونی اپارٹمنٹ پر بھی کمیٹی بٹھائی تھی اور آج تک وہ کمیٹی لاپتہ ہے
بھارت کے علاوہ بیرون ملک ہمارے اپنے کچھ بہکے ہوئے پاکستانی ایک عرصہ تک فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بدنام کرنے کے لیے امریکا، برطانیہ، یورپ وغیرہ میں مہم چلاتے رہے لیکن اُن کی سب تدبیریں نہ صرف الٹی پڑیں بلکہ فیلڈ مارشل کو دنیا بھر میں وہ عزت ملی جو شاید ہی کسی دوسرے کو نصیب ہوئی ہو۔
تمام اراکین اسمبلی کو بمعہ فیملی تیس بزنس کلاس ہوائی ٹکٹ ملتے ہیں پہلے 25 تھے پھر نون لیگ کی حکومت نے 30 کر دیے اس پر تنقید کرنے پر میرئ مشاہد اللہ صاحب کے سینٹر بیٹے سے شدید جھڑپ بھی ہوئی تھی اب انٹرنیشل بزنس کلاس ٹریول پر سے ٹیکس ہٹا دیا اور پھر اسے عوام کو بہترین سہولت کہہ رہے ہیں
من حرامی تے حجتاں ڈھیر
یہ بجلی کے 200 یونٹ استعمال کرنے والے کروڑوں لوگوں کو ڈیجٹلائز کر سکتے ہیں لیکن دو تین سو بڑے سیٹھوں کی شوگر، سیمنٹ، کھاد، بیوریجز اور سگریٹ کی فیکٹریوں میں نہ سی سی ٹی وی سسٹم لگا سکتے ہیں اور نہ ان ملوں میں سوفٹویئر انسٹال کر کے انہیں ڈیجیٹلائز کر سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ کا ایک منٹ کا کلپ سنیں
ہم ہر سال آئی ایم ایف سے تقریباً ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر قرضہ لے رہے جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر ہم ساڑھے آٹھ سو ارب یعنی تین ارب ڈالر لگاتے ہیں اس رقم کا کوئی حساب نہی ہے کوئی آڈٹ نہی ہے اور کوئی ترقیاتی آوٹ کم نہی ہے بس ایک سیاسی رشوت جو ہم دے رہے ہیں
جتنا ہم آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے اس سے دگنی رقم ہم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر لگا ڈالتے ہیں