تم نے ہونا نہیں ہمارا بھی
ہم پہ الزام ہےتمہارا بھی
میں نے تحفے میں پھول بھیجے اور
اس کو درکار ہے ستارا بھی
مرنے والوں کو آپ پرسہ دیں
جینے والوں کو دیں سہارا بھی
لوگ حیرت سے دیکھتے ہیں مجھے
خود میں دریا بھی ہوں کنارا بھی
اس کے آنے کے بعد گاؤں میں
دیکھنے والا ہے نظارا بھی
علی تبریز۔۔۔۔۔۔